احتجاج کیس ،کمزوروں کے چالان،بااثر آزاد،عدالت برہم

احتجاج کیس ،کمزوروں کے چالان،بااثر آزاد،عدالت برہم

اسلام آباد(اپنے نامہ نگار سے)انسداد دہشتگردی عدالت میں 26 نومبر کے احتجاج کے سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف درج مقدمات کی سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی پیش رفت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف کمزور اور عام ملزمان کے چالان پیش کیے جا رہے ہیں جبکہ اہم اور بااثر ملزمان بدستور آزاد گھوم رہے ہیں۔

عدالت نے متعلقہ ایس ایچ او کو طلب کرتے ہوئے سماعت 11 مارچ تک ملتوی کر دی۔ گزشتہ روز کیسز کی سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کی۔ دورانِ سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر تقریباً 17 ہزار ملزمان نامزد ہیں تاہم اب تک قریباً 500 ملزمان کے چالان عدالت میں پیش کیے گئے ہیں۔جج طاہر عباس سپرا نے استفسار کیا کہ اشتہاری ملزمان بسا اوقات ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں پیش ہوتے نظر آتے ہیں تو انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا جا رہا ۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا پولیس منتخب افراد کے خلاف ہی چالان پیش کر رہی ہے ؟ اگر پولیس کی جانب سے ریکارڈ واپس بھیجا گیا تو کیا پراسیکیوشن نے اس حوالے سے کوئی پوچھ گچھ کی؟ جج نے مزید کہا کہ کیا پولیس کو معلوم نہیں کہ کن افراد کو ان مقدمات میں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے ، اور کیا پولیس و انتظامیہ اس معاملے میں غیر فعال ہے ؟ جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دئیے کہ المیہ یہ ہے کہ اشتہاری ملزمان سرعام اسلام آباد میں گھوم رہے ہیں اور صرف سلیکٹو افراد کے خلاف کارروائی سے نظام انصاف کی ساکھ متاثر ہوتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ منتخب بنیادوں پر چالان پیش کرنے سے ہی خرابی کی ابتدا ہوتی ہے بعد ازاں عدالت نے 26 نومبر احتجاج سے متعلق مقدمہ نمبر 544 میں متعلقہ ایس ایچ او کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔ کیس کی مزید سماعت 11 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں