پاکستان کے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور ایران سے رابطے

پاکستان کے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور ایران سے رابطے

شہبازشریف کا سعودی عرب ،امارات اورقطرکی قیادت سے ٹیلیفونک رابطہ ، حملوں کی مذمت،صورتحا ل پرگفتگو،اسلامی برادرملکوں کیساتھ کھڑے ہیں :وزیراعظم اسحاق ڈارکا ایرانی ،سعودی ،قطری ،اماراتی ہم منصب سے رابطہ ،حملے بلاجواز،مشرق وسطیٰ میں مذاکرات کی ناکامی پر افسوس ،فریقین سفارتکاری کریں :دفترخارجہ

اسلام آباد(نمائندہ دنیا،مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سعودی عرب ،قطر ،متحدہ عرب امارات اور ایران سے رابطے کرکے حملوں کی شدیدمذمت کی ہے ،وزیراعظم شہبازشریف نے سعودی ،اماراتی اور قطری قیادت سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے صورتحال پر گفتگوکی جبکہ نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ،سعودی ،قطری اور اماراتی ہم منصب سے رابطہ ہوا۔دفترخارجہ کاکہناہے کہ عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر زور دیتے ہیں، فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دوبارہ سفارت کاری شروع کریں۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان ہر وقت اور ہر مشکل گھڑی میں اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اوراسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین علاقائی کشیدگی اور بعد ازاں بعض خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کیلئے انتہائی خطرناک ہیں اور صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں، پاکستان اس نازک مرحلے پر تعمیری اور مثبت کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے ۔ انہوں نے دعا کی کہ ماہِ مقدس رمضان المبارک کی برکتوں کے طفیل خطے میں جلد از جلد امن، استحکام اور ہم آہنگی قائم ہوجائے ۔شہباز شریف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا، وزیراعظم نے صورتحال کو علاقائی امن و استحکام کیلئے نہایت تشویشناک قرار دیا اورامیر قطر کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اپنے برادر ملک قطر اور اس کے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔

وزیراعظم نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور ابوظہبی میں ایک پاکستانی شہری کی المناک موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ان مشکل حالات میں اپنے اماراتی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہیں گے ، دونوں ممالک کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات وقت کی ہر آزمائش پر پورا اترے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کیلئے مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، مسائل کا حل بات چیت، سفارت کاری اور باہمی احترام کے ذریعے ہی تلاش کیا جانا چاہئے ۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈارکو ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی جانب سے ٹیلیفون کال موصول ہوئی گفتگو میں ایران اور وسیع تر خطے کی ابھرتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ نائب وزیراعظم نے ایران کے خلاف بلاجوازحملوں کی شدید مذمت کی اور بحران کے پرامن، مذاکراتی حل کے حصول کیلئے سفارت کاری کی فوری بحالی کے ذریعے کشیدگی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کو مزید عدم استحکام سے بچانے کیلئے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں قیامِ امن کا خواہاں ہے اور موجودہ بحران کے پرامن اور مذاکراتی حل کیلئے سفارت کاری کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتا ہے ۔اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی ،دونوں رہنماؤں نے خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور جاری پیش رفت کے حوالے سے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔اسحاق ڈار کا قطر کے وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ ڈاکٹر محمد بن عبدالعزیز الخلیفی اورمتحدہ عرب امارات کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ شیخ عبداﷲ بن زاید النہیان سے بھی رابطہ ہوا اور صورتحال پر گفتگو کی گئی۔

دفترخارجہ نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر پاکستان افسوس کا اظہار کرتا ہے ۔پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بلاجواز حملوں کی مذمت کرتا ہے ، یہ حملے ایسے وقت میں کئے گئے جب مسئلے کے پرامن اور مذاکراتی حل کیلئے سفارتی کوششیں جاری تھیں۔ اس قسم کی کارروائیاں پورے خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور ان کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے ایران کی جانب سے برادر ممالک سعودی عرب، بحرین، اردن، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات پر حملوں کی بھی سخت مذمت کی ہے ، پاکستان نے ان تمام برادر ممالک کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کیا ہے ۔تمام فریقین سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کیا جائے تاہم خلیجی ریاستوں کی خودمختاری کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ نے متحدہ عرب امارات میں حملے کے دوران ایک پاکستانی شہری کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کی مذمت کی۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ سفارت کاری کی جانب واپس آئیں اور بحران کے پرامن اور مذاکراتی حل کو ترجیح دیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں