امریکہ جنگ جیتنا چاہتا ہے ،ایرانی ہمت و استقامت برقرار

 امریکہ جنگ جیتنا چاہتا ہے ،ایرانی ہمت و استقامت برقرار

جیت امریکی ٹارگٹ،بقا ئایران کا مقصد،جنگ میں شدت آ رہی ہے

(تجزیہ:سلمان غنی)

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں جنگ بندی کی خواہشات بار آور نہیں ہو رہیں ،الٹا جنگ میں شدت آ رہی ہے ، اموات تیرہ سو سے تجاوز کر چکی ہیں، صدر ٹرمپ ایران کو سبق سکھانے اور نئے ایرانی رہبر کو انجام تک پہنچانے کی بات کرتے نظر آ رہے ہیں تو دوسری جانب ایران بھی پسپائی اختیار کرتا نظر نہیں آ رہا اور جواباً حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ،فی الحال تو جنگ بندی ممکن نظر نہیں آ رہی البتہ اس جنگ کے اثرات نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا رکھی ہے ، موجودہ صورتحال میں بڑا سوال یہی ہے کہ اس جنگ کا انجام کیا ہوگا ؟ کیا امریکا ، اسرائیل ایران پر غالب آئیں گے ؟، ایران کب تک مزاحمتی عمل جاری رکھے گا ؟ جنگ کو دس روز گزر چکے ہیں اور صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ انہیں واضح برتری حاصل ہے ،دوسری جانب ایران نے بھی اسرائیل پر تباہ کن وار کر کے امریکی دفاعی نظام تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو اب تک کی صورتحال میں ایران کی ہمت برقرارہے ، اگر امریکا اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے نتیجہ میں ایران کا اندرونی سسٹم ٹوٹ جاتا ، خامنہ ای کے بعد قیادت کا خلا پیدا ہو جاتا ، فوج میں بغاوت ہوتی،عوامی بغاوت بھڑک اٹھتی تو امریکا کی فتح دور نہیں تھی ،امریکا اور اسرائیل ایران کے اندرونی نظام میں دراڑیں ڈالنے اور سید علی خامنہ ای کی شہادت کے باوجود دونوں اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہیں ، سپریم لیڈر کی شہادت کے باوجود ایرانی قوم متحد ہو گئی، ایران کا بنیادی مقصد اپنی بقا جبکہ امریکہ اور اسرائیل نتیجہ چاہتے ہیں، ایران بقا کی جنگ لڑ رہا ہے ، ایران کا سب سے طاقتور ہتھیار عسکری نہیں وقت اور توانائی ہے اور ایران کا ٹارگٹ امریکا کی شکست نہیں خود شکست سے بچنا ہے محض بقا کو بھی فتح سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

امریکا اور ایران کے ارادوں کی تکمیل میں اگر کوئی چیز حائل ہے تو وہ ایران کی ہمت اور استقامت ہے ، بے تحاشہ بمباری کے باوجود ایران ثابت قدم نظر آ رہا ہے بلکہ ردعمل دے رہا ہے ،کون سا امریکی اڈا اس خطہ میں ہے جو ٹارگٹ نہیں ہوا ،کویت، بحرین، یو اے ای، قطر اور سعودی عرب میں جہاں جہاں امریکی اڈے ہیں وہ ایرانی میزائل کی زد میں آئے ہیں ،اسلحہ کے لحاظ سے امریکا اسرائیل حاوی ہیں لیکن پھر بھی ایرانی ثابت قدم نظر آ رہے ہیں، ان کی لیڈر شپ بدحواس نہیں ان کے اعصاب قابو میں ہیں ،لگتا ہے کہ پروگرام ان کے پاس پہلے سے طے تھا کہ کس کو کیا کرنا ہے اور امریکاکو درجنوں مختلف مقامات پر الجھائے رکھنا ہے ،اسلحہ کے امریکی ذخائر میں کمی آ چکی ہے ایران کے پاس کتنے میزائل اور ڈرون ہیں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا،وہ کب تک امریکااسرائیل کو تگنی کا ناچ نچاتا رہے گا یہ اہم ہوگا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں