حرمین شریفین کے دفاع کیلئے جانیں قربان کر دینگے ، حکومت
سعودیہ کیساتھ دفاعی معاہدہ پر قائم ، ملکی مفاد مدنظر رکھ کر فیصلے کرتے ،طارق فضل پارلیمنٹ نے ایران کیخلاف جارحیت کی مذمت نہیں کی،اچکزئی،اسمبلی میں خطاب
اسلام آباد(نامہ نگار)وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ حرمین شریفین کے دفاع کے لئے جانیں قربان کرنے سے گریز نہیں کریں گے تاہم کسی ملک کی خوشنودی کی بجائے اپنے ملک کے مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اراکین اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال سنجیدہ معاملہ ہے لیکن اس ایوان میں اس پر بھی سیاست کی جاتی ہے ، مئی میں بھارتی جارحیت کا ہم نے جو منہ توڑ جواب دیا اس میں پوری قوم ساتھ کھڑی تھی، موجودہ حالات میں جو بیانات یہاں دیئے جا رہے ہیں کہ پاکستان جنگ کا حصہ بننے جارہا ہے ، تو یہ واضح کردوں کہ پاکستان نہ تو کسی ملک کے خلاف جنگ کرنے جارہا ہے اور نہ ہی کسی ملک پر حملہ کرنے جارہا ہے ۔پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سب سے پہلے ملک ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پرسیاست اور اختلافی بیان بازی سے گریز کیاجائے ، سعودی عرب کے ساتھ ہمارا دفاعی معاہدہ ہے ، ہم اس پر قائم ہیں، حرمین شریفین کے دفاع کے لئے بچہ بچہ کٹ مرنے پر تیار ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر حملہ اور آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی ہم نے مذمت کی اور ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں ۔خلیجی ممالک پر ڈرون اور میزائل حملے بھی قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ہم انہیں اعتماد میں لینے پر تیار ہیں۔ ہم تفریق کی سیاست نہیں کرنا چاہتے تاہم یہ بتایا جائے کہ بانی پی ٹی آئی نے اسرائیل کے خلاف کوئی مذمتی بیان جاری کیاہو تو وہ دکھا دیں۔طارق فضل نے کہا کہ ایران سے 2ہزار شہریوں اورطلباکوبحفاظت نکال لیاگیاہے ،باقی پاکستانی شہریوں اورطلباکی واپسی کیلئے اقدامات جاری ہیں ۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایران کے خلاف جارحیت پر پارلیمنٹ کی جانب سے کوئی مذمتی قرارداد منظور نہیں کی گئی۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو مشکل حالات کا سامنا ہے اور ان حالات میں قومی حکومت کی ضرورت ہے ۔
ایک روحانی پیشوا شہید ہوا ہے ہم خاموش بیٹھے ہیں۔ پارلیمنٹ نے ایران کے خلاف جارحیت پر ابھی تک مذمت نہیں کی، خطہ جنگ کی طرف جا رہا ہے لیکن یہ پارلیمنٹ کچھ نہیں کر رہی۔زر اور زور کی بنیاد پر یہ پارلیمنٹ بنی، یہ حکومت ان حالات میں پاکستان نہیں چلا سکتی۔ پارلیمنٹ کو حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ بنانے کے لیے اپوزیشن غیر مشروط تعاون کے لیے تیار ہے ۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ ایران پر اپوزیشن لیڈر تحریک لائیں اتفاق رائے لائیں تو تحریک پاس ہو جائے گی، یہ کام آپ لوگوں کا ہے ۔ ۔پی ٹی آئی کے جنید اکبر خان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ہم پر مسلط حکومت نے بورڈ آف پیس میں جانے کے وقت اس پارلیمان سے نہیں پوچھا ۔
حکومت نے ایران کے مسئلے پر ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا۔ سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ امریکہ کے ایما پر کیا گیا ۔ لگ رہا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع کے نام پر ہمیں ایک اور جنگ میں گھسیٹا جارہا ہے ۔جب حکومت عوام کے ووٹوں سے آئی نہیں ہے تو عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت نہیں۔پیپلز پارٹی کے رکن فتح اللہ خان نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے مسائل کو دیکھ کر بجٹ نہ بنایا گیا تو ایوان میں بھوک ہڑتال کروں گا ۔ علی محمد خان نے کہا کہ عمران خان کا اسرائیل کے حوالے سے واضح موقف موجود ہے اور انہوں نے ہمیشہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی بات کی ہے ۔ بعد ازاں ڈپٹی سپیکر نے اجلاس جمعہ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا۔