مٹی کا تیل 70.73 : ہائی اوکٹین 200 روپے لٹر مہنگا

مٹی کا تیل 70.73 : ہائی اوکٹین 200 روپے لٹر مہنگا

ہائی اوکٹین پر لیوی بڑھائی ،غریب نہیںامیرطبقہ اضافی بوجھ اٹھائے گا:وزیراعظم

اسلام آباد، لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک، آئی این پی) عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث پاکستان میں مٹی کاتیل 70روپے 73پیسے فی لٹر مہنگا کر دیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 70روپے 73 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے ۔ اس اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 428 روپے 74 پیسے فی لٹر ہوگئی۔ قیمت میں اضافے کااطلاق کر دیا گیا ہے ۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ویڈیو لنک اجلاس میں امیر ترین طبقے کے زیر استعمال پر تعیش (لگژری) گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول پر موجودہ لیوی 100 روپے فی لٹر میں 200 روپے فی لٹر اضافے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اضافے کے بعد ہائی آکٹین فیول پر اب سے 300 روپے فی لٹر لیوی کا اطلاق ہو گا۔ اس فیصلے سے حکومت کو 9 ارب روپے ماہانہ بچت ہو گی اور وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق عوام کو اس بچت سے ریلیف دیا جائے گا۔ اس فیصلے سے معیشت پر بوجھ کم ہو گا، ملک کا امیر ترین طبقہ بوجھ اٹھائے گا۔ جہاں نچلے اور درمیانے طبقے کے زیر استعمال عام گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں، صرف لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول کی قیمت بڑھائی گئی ہے۔

اس فیصلے سے پبلک ٹرانسپورٹ اور ہوائی جہازوں کے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا۔ وزیراعظم نے نوٹس لیا تھا کہ مہنگی ترین گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول پر لیوی بڑھنی چاہیے ۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم نے چاندرات (جمعہ کی رات) قوم سے خطاب کیا اور پٹرول ،اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا ۔ وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں عیدالفطر کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا عید قومی یکجہتی اور اجتماعی ذمہ داری کا درس دیتی ہے ، اور خوشیاں اس وقت مکمل ہوتی ہیں جب انہیں دوسروں کے ساتھ بانٹا جائے ۔ دنیا اس وقت ایک غیرمعمولی آزمائش سے گزر رہی ہے اور خطے میں جاری جنگ نے عالمی معیشت اور امن و استحکام کو متاثر کیا ہے ۔ برادر ممالک کی توانائی تنصیبات پر حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور خدشہ ہے کہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے ۔ عالمی منڈی میں خلیجی تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جو تیل چند ہفتے قبل 72 ڈالر فی بیرل تھا، وہ اب 158 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے ، جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا مارچ کے آغاز میں پٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لٹر اضافہ ہوا تھا جس نے عوام پر بوجھ ڈالا، تاہم حکومت نے مزید اضافے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے ۔ انہیں پٹرول میں 50 روپے اور ڈیزل میں 74 روپے فی لٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی مگر انہوں نے منظور نہیں کیا کیونکہ ایسے حالات میں قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کرتا ہے ۔ وزیراعظم کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ موجودہ معاشی اور عالمی صورتحال کے باوجود عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے اور ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا جائے ۔ ادھر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی تجویز دی گئی تھی،اس ہفتے پٹرول کی قیمت میں 150 اور ڈیزل میں 250 روپے اضافہ روکا گیا، عید کے موقع پر عوام کو ریلیف دینے کے لیے قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آنے والے دنوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، ہم سب کو مل کر بچت کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل بنانا ہوگا۔

عالمی منڈی کے حساب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے ، ہمیں ہر حال میں تیل کی بچت کو ممکن بنانا ہے ،حکومت بھی انتظامی معاملات پر پٹرولیم میں بچت کر رہی ہے ، پاکستان کے پاس تیل کے ذخائر موجود ہیں، احتیاط سے استعمال کرنا ہوں گے ، خطے میں جنگ پھیلتی جا رہی ہے ، ہمیں کفایت شعاری سے چلنا ہوگا۔ عطا تارڑ نے کہا ہوسکتا ہے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں، پوری قوم کو پٹرولیم مصنوعات کی بچت پالیسی کو اپنانا ہوگا،موجودہ صورتحال میں غیرضروری سفر سے گریز کرنا ہو گا۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے تاہم پہلے اضافے کے بعد عوام پر دوبارہ بوجھ نہیں ڈالا گیا،حکومت نے سخت کفایت شعاری اپناتے ہوئے 60 فیصد گاڑیاں گراؤنڈ کر دیں اور تمام محکموں کے پٹرول کے استعمال میں 50 فیصد کمی کی گئی،موجودہ پٹرول ذخائر محفوظ رکھنا ضروری ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بھی بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری کے ذریعے اربوں روپے کی بچت کی، آئندہ بھی کوشش ہوگی کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے جب کہ حکومت عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے ۔ وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کفایت شعاری کے باعث اس ہفتے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے آگے بند باندھا گیا۔ عوام کو بھی مکمل ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت سے مضبوط نظام قائم کریں گے ۔ حکومت کمزور طبقے کا مضبوط سہارا بننا چاہتی ہے، ہم سب کو مل کر ملک کو اس بحران سے نکالنا ہے۔ جنگ کی وجہ سے معاشی مشکلات ہیں، خطے میں جاری تنازعات کی وجہ سے عید کی خوشیاں مدھم ہیں،عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

حکومت نے 2022 کی نسبت بہتر فیصلے کیے ہیں۔ عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کیا گیا ہے ۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی مسلسل فراہمی کے لیے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے ، وزیراعظم نے فیصلہ کیاکہ قوم پرکم سے کم بوجھ ڈالا جائے ۔ علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفراسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر 69 ارب روپے کا بوجھ خود برداشت کیا، عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ محمد اورنگزیب نے محدود وسائل کے باعث پائیدار اور دیرپا حل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ڈیمانڈ مینجمنٹ اور توانائی بچت کے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے ۔

اپریل تک سپلائی صورتحال بہتر رہنے کی امید ہے، ہمارے وسائل لامحدود نہیں۔ مستحق طبقات کے لیے ٹارگٹڈ ریلیف پیکیج تیار کیا جا رہا ہے ، آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ کی جوتجاویز ہیں وہ ہمیں بھیجیں۔ پٹرولیم، آئی ٹی اور خزانہ سمیت تمام وزارتیں مشترکہ حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں۔ معاشی صورتحال، تجارت اور سرمایہ کاری پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ حکومت معاشی صورتحال کی بہتری کیلئے اقدامات کر رہی ہے ۔ سپلائی سسٹم مکمل طور پر مانیٹر کیا جارہا ہے ۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ دنیا مشکلات سے دوچار ہے ۔ پٹرول ، ڈیزل اور ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی جاری ہے ۔ دعاگوہیں کہ جنگی حالات جلد ختم ہوں، ہوسکتاہے یہ صورتحال کچھ ہفتوں یامہینوں تک برقرار رہے ، ہم سب نے مل جل کرملک کوبحران سے نکالناہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں