پاکستان ثالث، امریکا، ایران سے رابطے : فیلڈ مارشل کا ٹرمپ اور وزیراعظم کا ایرانی صدر کو فون، آئندہ ہفتے دونوں ملکوں کے حکام کی اسلام آباد میں ملاقات متوقع

پاکستان ثالث، امریکا، ایران سے رابطے : فیلڈ مارشل کا ٹرمپ اور وزیراعظم کا ایرانی صدر کو فون، آئندہ ہفتے دونوں ملکوں کے حکام کی اسلام آباد میں ملاقات متوقع

دوست ممالک سے امریکا کی جنگ بندی کی درخواست ملی ، مناسب جواب دیا :ایران ،حساس سفارتی مذاکرات خبروں کے ذریعے نہیں کرینگے :وائٹ ہاؤس اسلام آباد میں اجلاس کی کوششیں ، سپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف،امریکا سے جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر نائب صدر وینس شرکت کر سکتے : عالمی میڈیا ترکیہ، مصرکی پیغام رسانی، قطر کے بھی رابطے ،امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی اشد ضرورت،تعمیری کردار ادا کرتے رہیں گے :شہباز شریف

لندن (دنیا نیوز رپورٹ)پاکستان خود کو ایران کے خلاف امر یکا اور اسرائیل کی جنگ ختم کروانے میں مرکزی ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے اور یہ کردار وہ اپنے فوجی کمانڈر کے تہران سے روابط اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات کی بنیاد پر حاصل کر رہا ہے۔ یہ انکشاف برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کیا گیا جس کے مطابق دو عہدیداروں نے جو مذاکرات سے واقف ہیں، بتایا کہ پاکستان نے اسلام آباد کو مذاکرات کے انعقاد کے مقام کے طور پر پیش کیا ہے ۔ آنے والے دنوں میں اس اجلاس میں ٹرمپ انتظامیہ اور ایران کے سینئر عہدیدار شریک ہوں گے ۔دو نوں کے مطابق، پاکستانی آرمی چیف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا جبکہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کو ایران کے صدر مسعود پز شکیان کے ساتھ فون پر بات چیت کی۔پاکستانی اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان یہ بات چیت تقریباً اسی وقت ہوئی جب ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ایران کے بجلی کے پلانٹس کو  تباہ  کرنے کی اپنی دھمکی مؤخر کر رہے ہیں اور یہ فیصلہ تہران کے ساتھ  بہت اچھے اور نتیجہ خیز  مذاکرات کے بعد کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے مذاکرات کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا اور کہا: یہ حساس سفارتی مذاکرات ہیں اور امر یکا خبروں کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔"ترکیہ جو جنگ سے پہلے بھی ثالثی کی کوششوں میں شامل تھا، ایران کے حکام اور ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وِٹکوف کے ساتھ رابطے کر رہا ہے تاکہ ایک مختصر جنگ بندی ممکن ہو اور مذاکرات کے لیے راستہ ہموار ہو۔پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے پیر کو اپنے ترک ہم منصب حاقان فیدان کے ساتھ بات چیت کی، جبکہ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے اتوار کو ایران اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ساتھ سٹیو وٹکوف اور قطر کے وزیر خارجہ سے بھی رابطے کیے ۔ایران کی وزارت خارجہ نے جنگ کے آغاز سے امر یکا کے ساتھ کسی براہِ راست مذاکرات سے انکار کیا، تاہم کہا کہ کچھ علاقائی ممالک ثالثی کی کوششوں میں شامل تھے ۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کو بتایا:"گزشتہ چند دنوں میں کچھ دوست ممالک کے ذریعے ایسے پیغامات موصول ہوئے جن میں امر یکا نے جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی درخواست کی۔

ملک کے بنیادی مؤقف کے مطابق ان اقدامات کے مناسب جوابات دئیے گئے ۔ ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز یا جنگ ختم کرنے کی شرائط کے حوالے سے ایران کا مؤقف جوں کا توں برقرار ہے ۔ماہرین اور سفارتکاروں نے خبردار کیا کہ جب جنگ اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے ، تو کسی بھی ثالثی کے فوری کامیاب ہونے کی توقع رکھنا مشکل ہے ۔ معاملات سے واقف ذرائع کے مطابق موجودہ سفارتی کوششیں ابھی صرف ابتدائی پیغامات کے تبادلے تک محدود ہیں، کوئی رسمی مذاکراتی عمل نہیں ہوا۔چیتھم ہاؤس تھنک ٹینک کی سانم وکیل نے کہا کہ کئی ممالک اس تصادم کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں لیکن ساتھ ہی واضح کیا: میں اسے جنگ کے اختتام کی نشانی نہیں سمجھتی۔ دوسری جانب ترکیہ، مصر اور پاکستان کے سینئر حکام نے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے علیحدہ علیحدہ رابطے کیے ۔ ایکسِیوس کے مطابق، ترکیہ، مصر اور پاکستان گزشتہ دو روز سے امریکا اور ایران کے درمیان پیغام رسانی کا کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے ۔ اسرائیلی حکام نے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذاکرات میں ثالثی کرنے والے ممالک (جن میں ترکیہ، مصر اور پاکستان بھی شامل ہیں) کوششیں کر رہے ہیں کہ ایک اجلاس اسلام آباد میں منعقد کیا جائے جس میں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور دیگر اہلکار تہران کی نمائندگی کریں گے جبکہ امریکا کی جانب سے سٹیو وِٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر نائب صدر وینس شرکت کر سکتے ہیں، یہ ملاقات اس ہفتے کے آخر تک متوقع ہے ۔

اسلام آباد(نامہ نگار)وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے تمام ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارتکاری کی طرف واپسی کی فوری ضرورت پر زور دیا تاکہ اختلافات کو پر امن طریقے سے حل کیا جا سکے ۔وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے ایرانی صدر اور برادر عوامِ ایران کو عیدالفطر اور نوروز کی مبارکباد پیش کی۔ ایرانی صدر نے بھی ان جذبات کا پرتپاک انداز میں جواب دیا اور پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔بطور ہمسایہ برادر ملک، وزیراعظم نے جاری کشیدگی کے تناظر میں بہادر ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں و متاثرین کی جلد صحتیابی اور سلامتی کے لیے دعا کی۔وزیراعظم نے خلیجی خطے میں جاری خطرناک صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا بھی اظہار کیا۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر انہوں نے تمام ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارتکاری کی طرف واپسی کی فوری ضرورت پر زور دیا تاکہ اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔

انہوں نے امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی اہمیت پر بھی زور دیا، جس کی اس وقت اشد ضرورت ہے ۔پاکستان کی قیادت کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایرانی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔دریں اثنا نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے خطے کی حالیہ صورتحال، بدلتی ہوئی پیش رفت اور علاقائی تناؤ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اسحاق ڈار نے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیا، دونوں فریقوں نے صورتحال پر قریبی رابطے میں رہنے اور مزید پیش رفت پر ایک دوسرے کو آگاہ رکھنے پر اتفاق کیا۔اسحاق ڈار نے عراق کے ہم منصب فواد حسین کو بھی ٹیلی فون کیا اور موجودہ علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جاری علاقائی کشیدگی اور اس کے وسیع تر اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اسحاق ڈار نے کشیدگی کم کرنے اور مزید عدم استحکام سے بچنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس بات کو اجاگر کیا کہ مکالمہ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری خطے اور اس سے باہر امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے عید کی مبارکباد کا بھی تبادلہ کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں