ٹرمپ جنگ بندی پر تیار:جے ڈی وینس کا پاکستان میں ثالثوں سے رابطہ صدر کا صبر ختم ہورہا ہے،آبنائے ہرمز کھولنے سمیت مخصوص مطالبات پورے کرنیکا پیغام

ٹرمپ جنگ بندی پر تیار:جے ڈی وینس کا پاکستان میں ثالثوں سے رابطہ صدر کا صبر ختم ہورہا ہے،آبنائے ہرمز کھولنے سمیت مخصوص مطالبات پورے کرنیکا پیغام

ایران جنگ سے جلد نکل جائینگے ، ایرانی افزودہ یورینیم کی پروا نہیں ، یہ زمین کے نیچے ، سٹیلائٹ سے نظر رکھیں گے ، نیٹو کاغذی شیر ، اتحاد ختم کرنے پر غور:ٹرمپ کا انٹرویو ، آج قوم سے خطاب مقررہ اہداف حاصل کئے بغیر ہی جنگ سے نکل جانا چا ہئے :دوتہائی امریکیوں کی رائے ، ٹرمپ پر سیاسی دباؤ بڑھنے لگا ، ایران نے سیز فائر کے لئے کسی کو درخواست نہیں دی:عباس عراقچی ٹرمپ کے سعودی ولی عہداوراماراتی صدر سے ٹیلیفونک رابطے ،ایران نے جنگ کاآغاز نہیں کیا ،ہم پرحملے اسلحہ بیچنے اور فلسطین سے توجہ ہٹانے کیلئے کئے گئے :مسعود پزشکیان کا امریکی عوام کے نام خط

واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں )امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے ثالثوں کے ساتھ ایران تنازع کے بارے میں منگل کے روز رابطہ کیا، یہ بات ایک ایسے فرد نے رائٹرز کو بتائی جسے اس معاملے کی بریفنگ دی گئی تھی ۔ یہ وینس کے کردار میں توسیع کی نشاندہی کرتا ہے جو اس تنازع کے خاتمے کیلئے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر وینس نے نجی طور پر اشارہ کیا کہ ٹرمپ جنگ بندی کیلئے تیار ہیں بشرطیکہ امریکا کے کچھ مخصوص مطالبات پورے کئے جائیں، جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے ۔وینس نے ایک سخت پیغام بھی پہنچایا کہ ٹرمپ کا صبر ختم ہوتا جارہا ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران معاہدے پر راضی نہ ہوا تو ایرانی انفراسٹرکچر پر حملوں میں اضافہ ہوتا جائے گا۔پاکستان کے دو سکیورٹی ذرائع جو تنازع میں ثالثی کر رہے ہیں نے قبل ازیں رائٹرز کو بتایا تھاکہ اسلام آباد نے دونوں فریقوں کیلئے عارضی جنگ بندی کی پیشکش کی تھی لیکن ابھی تک کسی کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔

ذرائع کے مطابق پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے ، وینس نے اب اس جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات میں زیادہ فعال کردار سنبھال لیا ہے ، جو اب اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے ۔ 2028 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے ممکنہ جانشین سمجھے جانے والے وینس نے اس تنازع پر احتیاط کا رویہ اپنایا ہوا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے ۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھاکہ نئی ایرانی حکومت کے صدر اپنے پیش روؤں کے مقابلے میں کہیں کم انتہا پسند اور کہیں زیادہ ذہین ہیں،انہوں نے امریکا سے کہا ہے کہ جنگ بند کر دی جائے ،ہم اس پر تب غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کھلے گی اور رکاوٹوں سے پاک ہو گی۔امریکی صدر نے لکھاکہ جب تک آبنائے ہرمز نہیں کھلتی، اس وقت تک ہم دھماکے کر کے ایران کو فنا کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے اوراسے واپس پتھر کے دور میں بھیج دیں گے ۔

ٹرمپ کی یہ پوسٹ بظاہر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے بیان کا رد عمل لگتی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے پاس جنگ کو ختم کرنے کیلئے ضروری ارادہ موجود ہے ، بشرطیکہ کچھ شرائط پوری کی جائیں۔دوسری جانب ایران نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ مسترد کر دیا۔ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران نے سیز فائر کے لئے کسی کو درخواست نہیں دی۔مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو رائٹرز کو بتایا کہ امریکا ایران سے بہت جلد نکل جائے گا اور ضرورت پڑنے پر صرف مخصوص حملوں کے لئے واپس آ سکتا ہے ۔جنگ کے پانچویں ہفتے میں داخل ہونے اور بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمتوں کے دباؤ میں، صدر ٹرمپ نے قوم سے اگلے اقدامات پر بات کرنے کیلئے رات 9 بجے (پاکستان میں جمعرات کی صبح 6بجے )خطاب کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ سب ایسے موقع پر ہورہا ہے جب انکی گھٹتی ہوئی مقبولیت اور بڑھتی ہوئی معاشی بے چینی کی وجہ سے ان پر اندرونِ ملک سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے ۔ ٹرمپ نے رائٹرز کے ساتھ ٹیلیفونک انٹرویو میں کہا کہ ان کے خطاب کا ایک حصہ نیٹو کیلئے ان کی مایوسی کا اظہار کرنا ہوگا، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اتحاد ایران میں امریکا کے مقاصد کی حمایت میں ناکام رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وہ امریکا کو نیٹو سے نکالنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں، یہ ایک معاہدہ کے تحت وجود میں آنیوالی تنظیم ہے جس کی 1949 میں امریکی سینیٹ نے توثیق کی تھی۔ٹرمپ نے کہاجب ہمیں ضرورت تھی، وہ دوست نہیں رہے ، ہم نے کبھی ان سے زیادہ کچھ نہیں مانگا ، یہ یک طرفہ راستہ ہے ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نیٹو سے نکلنے کا سوچ رہے ہیں، تو انہوں نے کہااوہ، بلا شبہ بالکل، اگر آپ میری جگہ ہوتے تو آپ یہ نہ کرتے ؟ ۔ٹیلی گراف سے انٹرویو میں امریکی صدر نے نیٹو اتحاد کو "کاغذی شیر"قرار دیا اور کہا کہ دفاعی معاہدے سے امریکا کو نکالنا اب غور و فکر سے بالاتر ہو چکا ہے ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکا ایران جنگ کے ختم ہونے پر کب غور کرے گا، ٹرمپ نے کہامیں بالکل نہیں بتا سکتا، ہم بہت جلد نکل جائیں گے ۔ٹرمپ نے کہا ایران کے پاس اب جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے کیونکہ وہ اس کے قابل نہیں ہیں، پھر میں نکل جاؤں گا اور سب کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا اور اگر ضرورت ہوئی تو ہم واپس آئیں گے اور مخصوص حملے کریں گے ۔ٹرمپ نے ایران کے نئے رہنماؤں کے ساتھ معاہدے کی امید بھی ظاہر کی۔جہاں تک ایران کے پاس اب بھی موجود افزودہ یورینیم کا تعلق ہے ، ٹرمپ نے کہایہ زمین کے بہت نیچے ہے ، مجھے اس کی پروا نہیں،ہم ہمیشہ سیٹلائٹ کے ذریعے اس پر نظر رکھیں گے ۔ٹرمپ نے گزشتہ روز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اوراماراتی صدر شیخ محمد بن زاید سے ٹیلفونک رابطے کئے ۔

انہوں نے محمد بن سلمان کو ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کے بارے میں آگاہ کیا جبکہ شیخ محمد بن زاید سے گفتگو میں دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا، دونوں رہنماؤں نے علاقائی پیشرفت اور موجودہ حالات پر گفتگو کی۔ دوسری طرف ٹرمپ کے بیان کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک خط میں امریکی عوام کے نام پیغام میں کہا کہ ایران امریکی عوام کے خلاف کوئی دشمنی نہیں رکھتا۔ مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران کو خطرہ بنا کر پیش کرنا دراصل طاقتور قوتوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کا نتیجہ ہے تاکہ اسلحہ کی صنعت جاری رکھی جا سکے اور سٹریٹجک منڈیوں پر کنٹرول قائم رکھا جا سکے ۔صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے اہم انفراسٹرکچر پر حملہ درحقیقت ایرانی عوام کو نشانہ بنانا ہے اور ایسے اقدامات کے اثرات ایران کی سرحدوں سے آگے تک پھیل جاتے ہیں۔انہوں نے مزید لکھا کہ ایران انسانی تاریخ کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے ، ایران نے جدید تاریخ میں کبھی بھی جارحیت یا تسلط پسندی کا انتخاب نہیں کیا، ایران نے کبھی بھی جنگ کا آغاز نہیں کیا، ہاں ایران نے مسلط کی جانے والی جنگوں کا بہادری سے جواب ضرور دیا ہے ۔ایرانی صدر نے خط میں سوال کیا کہ کیا یہ حقیقت نہیں کہ امریکااس جارحیت میں اسرائیل کے نمائندے کے طورپرشامل ہوا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایران کو خطرہ بنا کرپیش کرتاہے تاکہ فلسطینیوں کے خلاف اقدامات سے توجہ ہٹا سکے ۔

ایران نے مذاکرات کئے ، معاہدہ کیا اور اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کیں، معاہدے سے نکلنے ، کشیدگی بڑھانے کے فیصلے امریکی حکومت کے تھے ، مذاکرات کے دوران ہی دو مرتبہ جارحیت کرنے کے فیصلے امریکی حکومت کے تھے اور ایسے فیصلے ایک بیرونی جارح کی خواہشات کی تکمیل کیلئے کئے گئے ۔ایرانی صدر نے خط میں لکھا کہ میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ غلط معلومات کے نظام سے آگے نکلیں، اُن لوگوں سے بات کریں جو ایران جاچکے ہیں۔ر ائٹرزاوراِپسوس کے ایک سروے کے مطابق دو تہائی امریکی یقین رکھتے ہیں کہ امریکا کو ایران جنگ سے اپنی مداخلت جلدی ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ، چاہے اس کا مطلب یہ بھی ہو کہ ٹرمپ انتظامیہ کے مقرر کردہ اہداف حاصل نہیں ہوئے ۔جمعہ سے اتوار کے دوران کئے گئے اس سروے میں تقریباً 66فیصدشرکاء نے یہ رائے ظاہر کی جبکہ 27فیصد نے کہا کہ امریکا کو ایران میں اپنے تمام اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ، چاہے اس کیلئے تنازع طویل عرصے تک جاری رہے ۔ 6فیصد نے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں