آئیسکو، فیسکو اورگیپکو کی نجکاری کیلئے فریم ورک کی منظوری

آئیسکو، فیسکو اورگیپکو کی نجکاری کیلئے فریم ورک کی منظوری

اسلام آباد(نمائندہ دنیا)بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری بارے اہم پیشرفت ہوئی ہے ، نجکاری کمیشن بورڈ نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی، گوجرانوالا الیکٹرک سپلائی کمپنی اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری کیلئے اہم فیصلہ کرتے ہوئے تینوں پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کیلئے فریم ورک منظور کر لیا ۔

 مشیرنجکاری محمدعلی کی سربراہی میں بورڈ نے نجکاری کیلئے ٹرانزیکشن سٹرکچر اور پری کوالی فکیشن معیار کی منظوری دیتے ہوئے ڈسکوز کی نجکاری سے متعلق کیس کابینہ کمیٹی کو بھجوانے کی منظوری بھی دیدی۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے نجکاری کے بعد اصلاحات سے بجلی شعبے میں بہتری کی توقع ہے ، سرمایہ کاروں کیلئے جلد اظہار دلچسپی طلب کیا جائے گا، روزویلٹ ہوٹل کیلئے فنانشل ایڈوائزر کی تقرری کی منظوری دی گئی ، روزویلٹ ہوٹل نجکاری کیلئے سٹی بینک کنسورشیم کامیاب قرار دیا گیا ۔ مشیرنجکاری محمدعلی نے بورڈ اجلاس کی سربراہی کے دوران نجکاری کمیشن کا شفاف اور تیز عملدرآمد جاری رکھنے کا عزم کیا۔ آئی ایم ایف کیساتھ حالیہ اقتصادی جائزہ مذاکرات میں بھی مطالبہ کیا گیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نجکاری پراسس کو بروقت مکمل کیا جائے ، آئی ایم ایف نے آئندہ بجٹ میں توانائی شعبے کو 830 ارب روپے سے زائد سبسڈی نہ دینے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 2031 تک پاور سیکٹر گردشی قرض کو مکمل ختم کیا جائے ۔

باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے آئی ایم ایف نے معاشی ٹیم سے مطالبہ کیا ہے کہ توانائی شعبے کو سبسڈی دینے کو سالانہ بتدریج کم کیا جائے ، یہ سبسڈی بجلی تقسیم کار کمپنیاں، زرعی ٹیوب ویلز، قبائلی علاقوں کے واجبات اور گردشی قرضے کو کنٹرول کرنے کیلئے دی جا سکے گی ۔ رواں مالی سال کیلئے بجلی کے شعبے کو 1 ہزار 186 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی تھی جس میں آئندہ مالی سال کیلئے آئی ایم ایف نے کمی کا مطالبہ کیا ہے ۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی جائے تاکہ پاور سیکٹر کو ملنے والی سبسڈی کا حجم کم کیا جا سکے ۔ توانائی اصلاحات پروگرام کے تحت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں نجی شعبے کی شمولیت کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے ، ابتدائی مرحلے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری یا نجی انتظام میں منتقلی 2027 کے اوائل تک متوقع ہے جبکہ دیگر کمپنیوں کی مالی اور انتظامی بہتری کیلئے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ ترسیلی نظام میں اصلاحات کیلئے نئے ادارہ جاتی ڈھانچے قائم کیے گئے ہیں ، اوریجنل پلان کے تحت اس سال بجلی کی 3 تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا ہدف رکھا گیا تھا ، اپریل کے وسط میں بجلی کی 3 تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے بولیاں طلب کرنے کا ہدف تھا ، حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اتفاق ہوا ہے کہ توانائی شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں اور ان کے بغیر توانائی کا شعبہ اور معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں