4تعلیمی افسروں کی اپ گریڈیشن واپس لینے کا حکم کالعدم قرار
ہائیکورٹ نے درخواستگزاروں کی تمام مالی فوائد کیساتھ اپ گریڈیشن بحال کردی محکمہ خزانہ کی تشریح درست نہیں،اپ گریڈیشن واپس لینا غیر قانونی ،فیصلہ جاری
لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے محکمہ تعلیم کے 4افسروں سے عہدوں میں اپ گریڈیشن واپس لینے کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت نے محکمہ خزانہ کاعہدوں میں اپ گریڈیشن واپس لینے کا حکم کالعدم قرار دیدیا۔عدالت نے تمام مالی فوائد کیساتھ درخواست گزاروں کی اپ گریڈیشن بحال کردی ۔ فیصلے میں لکھا کہ درخواست گزار طویل عرصہ ایک ہی سکیل میں رہنے پرجمود کا شکار تھے ،ٹائم سکیل پرسنل اپ گریڈیشن پالیسی کے تحت فائدے کے حقدار تھے ، اپ گریڈیشن قانون کے مطابق تھی ،وہ 90 کی دہائی میں محکمہ میں ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن بھرتی ہوئے ، ماسٹر ڈگری لینے پر 17 سکیل میں اپ گریڈ کیا گیا،حکومت نے 2019 میں ٹائم سکیل اپ گریڈیشن پالیسی متعارف کروائی جسکے تحت درخواست گزاروں کو 2022 میں دو بار اپ گریڈیشن دیکر 19 سکیل تک پہنچایا گیا ،حکومت نے 2023 میں پالیسی ختم کر کے اپ گریڈیشن واپس لے لی جوپالیسی کے مطابق تھی، اسکی واپسی غیر قانونی ہے ،فنانس ڈیپارٹمنٹ کی محدود تشریح درست نہیں،دہائیوں تک ترقی نہ ملنا حقیقی جمود ہے ،اپ گریڈیشن واپس لینا بلا جواز اور غیر قانونی تھا۔