ایبٹ آباد میں پراپرٹی کے بوگس انتقال، 500 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف

ایبٹ آباد میں پراپرٹی کے بوگس انتقال، 500 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف

محکمہ مال ،سی بی اے ،سروس ڈیلیوری سینٹر کے افسران ملوث،چھان بین شروع سپریم کورٹ نے ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کیلئے پراپرٹی انتقال پرپابندی لگارکھی ہے

ایبٹ آباد (شوکت سالار )خیبر پختونخوا کرپشن کا گڑھ بن گیا، ایبٹ آباد میں محکمہ مال ،سی بی اے اورسروس ڈیلیوری سینٹر کی ملی بھگت سے 500 کروڑ سے زائد کی مالی بدعنوانی کاانکشاف ہوا ہے ، سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود اربن،کمرشل اور بلڈ اپ پراپرٹی کے انتقالات کئے جاتے رہے ۔ سروس ڈیلیوری سنٹرکو بند کرکے ریکارڈ کی چھان بین شروع کر دی گئی ہے ۔

محکمہ مال کی دستاویزات کے مطابق رجسٹری آفس کو بائی پاس کرتے ہوئے جائیدادوں کے بوگس انتقال کئے گئے ، 500 سے زائد انتقالات کی مد میں وصول کی گئی 5 ارب سے زائد کی رقم سی بی اے اورسروس ڈلیوری سنٹرکے افسران نے ذاتی طور پروصول کرکے ہڑپ کرلی۔ غیر قانونی پراپرٹی انتقالات کرنے میں تحصیلدار سے افسران بالا تک شامل ہونے کا انکشاف ہواہے ۔ 2018 میں سپریم کورٹ نے ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہونے تک ہر قسم کے پراپرٹی انتقال پر پابندی لگائی جو تاحال برقرار ہے جبکہ منسٹری آف ریونیو خیبر پختونخوا نے بھی اس حوالے سے پابندی کے احکامات جاری کررکھے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں