ایران جنگ ، امریکی کانگریس میں جھڑپ : صدر اور وزیر دفاع جھوٹے، دلدل میں پھنس گئے، اسلحہ ختم ہوگیا، چین کا مقابلہ کرنے کے بھی قابل نہیں رہے : ارکان
تہران حکومت بدستور قائم، میزائل ڈرون نظام سلامت، جنگ کے نتیجے میں اس کا چین، روس اور شمالی کوریا کے ساتھ تعاون مزید مضبوط ہوگیا،امریکی حکمت عملی حیران کن نااہلی کا مظاہرہ :گارامینڈی کیا ٹرمپ کی ذہنی حالت ایسی ہے کہ کمانڈر اِن چیف کی ذمہ داری نبھا سکیں ؟ ایک اوررکن کا سوال ، جنگ پر ہوئے اخراجات پر بھی سخت تنقید، مجموعی لاگت کا اندازہ 25 ارب ڈالر سے کم :وزیر دفاع
واشنگٹن ( نیوز ایجنسیاں )امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کے روز ایران جنگ کے حوالے سے ڈیموکریٹ قانون سازوں کے ساتھ سخت لفظی جھڑپ کی، ڈیموکریٹ ارکان نے اس غیر معینہ مدت کی جنگ کے حوالے سے ہیگستھ پر سخت سوالات کی بوچھاڑ کی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دو ماہ سے زائد قبل شروع کیے گئے اس تنازع کے بعد کانگریس میں ان کی یہ پہلی پیشی تھی۔ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیشی کے دوران ہیگستھ نے ابتدا ہی سے جارحانہ انداز اختیار کیا اور اپنی ابتدائی گفتگو میں کہا کہ اس وقت اصل مسئلہ کانگریس کے ڈیموکریٹس اور کچھ ریپبلکنز کے مایوس کن اور شکست خوردہ بیانات ہیں۔ایک ڈیموکریٹ رکن جان گارامینڈی نے ہیگستھ پر الزام لگایا کہ وہ ابتدا سے امریکی عوام سے اس جنگ کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں اور اسے مشرقِ وسطیٰ میں ایک جغرافیائی سیاسی تباہی، سٹراٹیجک غلطی اور عالمی معاشی بحران کا باعث قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی ایران جنگ کے 60 دنوں کے دوران اہم اسلحہ تیزی سے استعمال ہو چکا ہے، جس سے ذخائر اس حد تک کم ہو گئے ہیں کہ چین کے مقابلے کے لیے درکار سطح سے بھی نیچے آ گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ایک قابلِ پیش گوئی نتیجہ تھا، انھوں نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کو مخاطب کیا اور یہ الزام عائد کیا کہ ‘آپ جنگ کے پہلے دن سے امریکی عوام سے جھوٹ بولتے آئے ہیں اور صدر بھی یہی کرتے رہے ہیں۔’گارامینڈی نے مزید کہا کہ ‘جنگی حکمتِ عملی ایک ‘حیران کن نااہلی’ کا مظاہرہ ہے ، کیونکہ تہران کی حکومت بدستور قائم ہے ، ایران کے میزائل اور ڈرون نظام سلامت ہیں، جبکہ اس جنگ کے نتیجے میں ایران کا چین، روس اور شمالی کوریا کے ساتھ تعاون مزید مضبوط ہوا ہے ۔’ گارامینڈی نے اس تنازع کو دلدل بھی قرار دیا۔اس پر ہیگستھ نے برہمی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا، آپ اسے دلدل قرار دے کر ہمارے دشمنوں کو پروپیگنڈے کا موقع دے رہے ہیں؟ آپ کو اپنے اس بیان پر شرم آنی چاہیے، ہیگستھ نے گارامینڈی کو جواب دیتے ہوئے کانگریس کے ڈیموکریٹس کو غیر ذمہ دار، کمزور اور شکست خوردہ سوچ کا حامل قرار دیا۔
ان کے الفاظ تھے یہ دوغلا پن نہ دکھائیں کہ ایک طرف آپ فوجیوں کی حمایت کا دعویٰ کریں اور دوسری طرف صرف دو ماہ پر محیط اس مہم کو دلدل قرار دیں۔ ... آخر آپ کس کے ساتھ کھڑے ہیں؟ آپ کی ہمدردیاں کس کے ساتھ ہیں؟ ڈیموکریٹ رکن سیٹھ مولٹن نے ہیگستھ سے سوال کیا کہ آیا انہوں نے ٹرمپ کو ایران پر حملے کا مشورہ دیا تھا، جس کا ہیگستھ نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا، تاہم بعد میں کہا کہ ان کے خیال میں یہ ایک اچھا فیصلہ تھا۔ مولٹن کے اس سوال پر کہ کیا انہوں نے ایران کی جانب سے اہم آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے خطرے پر غور کیا تھا، ہیگستھ نے کہا کہ پینٹاگون نے تمام خطرات کا جائزہ لیا ہے ۔ہیگستھ سے اس تنازع کے اخراجات پر بھی سخت سوالات کیے گئے ، جس پر انہوں نے کہا کہ اب تک مجموعی لاگت کا اندازہ 25 ارب ڈالر سے کم ہے ۔اس کے بعد پینٹاگون کے سربراہ نے کمیٹی سے سوال کیا: ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے ہمیشہ کے لیے روکنے کی کیا کوئی قیمت ہو سکتی ہے ؟ہاؤس ڈیموکریٹس نے اس ماہ کے آغاز میں ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی چھ شقیں پیش کی ہیں، جن میں ان پر سنگین آئینی و قانونی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔
ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس سیٹھ مولٹن نے براہِ راست سوال کیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ امریکا یہ جنگ جیت رہا ہے ۔ہیگستھ نے کہا ‘بالکل،’ اور دعویٰ کیا کہ میدانِ جنگ میں یہ ایک ‘حیران کن فوجی کامیابی’ ثابت ہوئی ہے ۔تاہم مولٹن نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے معاملے پر سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ‘انھوں نے ہماری ناکہ بندی کی پھر ہم نے ان کی ناکہ بندی کی یہ تو بچوں کے کھیل ‘ٹیگ، یو آر اِٹ’ جیسا ہے ۔’انھوں نے جنرل کین سے پوچھا کہ کیا فوج نے اس صورت حال کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔اس پر جنرل کین نے کہا کہ امریکی فوج ‘ہمیشہ فوجی آپشنز کی مکمل رینج پیش کرتی ہے ، جنھیں ‘احتیاط سے پرکھا جاتا ہے ۔’مولٹن نے مزید سوال کیا کہ کیا اس جنگ کے اثرات ‘عام امریکی ٹیکس دہندہ’ پر مدنظر رکھے گئے ہیں، جن کے مطابق یہ لاگت تقریباً 600 ڈالر فی شہری بنتی ہے ۔ہیگستھ نے جواب دیا کہ یہ جنگ ‘برسوں تک نہیں چلے گی۔
کمیٹی کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس سارا جیکبز کے درمیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر حالیہ پوسٹس کے حوالے سے تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔سارا جیکبز نے سوال اٹھایا کہ کیا ٹرمپ کی ذہنی حالت ایسی ہے کہ کمانڈر اِن چیف کی ذمہ داری نبھا سکیں ؟اس پر ہیگستھ نے جوابی سوال کرتے ہوئے کہا کہ ‘کیا آپ نے یہی سوال چار سال تک جو بائیڈن کے بارے میں بھی پوچھا تھا؟’آپ نے ایسا نہیں کیا اور میں اس حد تک توہین آمیز رویے میں شامل ہی نہیں ہوں جو آپ کمانڈر اِن چیف کے خلاف اختیار کر رہی ہیں۔آپ وہ سوال اب پوچھ رہی ہیں، جبکہ آپ اور آپ کے ساتھی ڈیموکریٹس ایک ایسے صدر کا دفاع کرتے رہے جنھیں بولنے میں دشواری ہوتی تھی۔اس پر سارا جیکبز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو بائیڈن 2024 کے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار نہیں تھے۔
تہران،واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر کا ایرانی بندرگاہوں کیخلاف ناکہ بندی میں توسیع پر غور، ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق امریکا ایران پر عائد بحری ناکہ بندی کو مزید کئی مہینوں تک بڑھا سکتا ہے ۔ اس بارے میں تیل کی صنعت کے رہنماؤں کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک ملاقات میں آگاہ کر دیا گیا ۔ جس پر عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوگیا اور 119ڈالر بیر ل تک پہنچ گیا ۔علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں اپنے مقاصد تقریباً حاصل کرچکے ہیں۔وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج روسی صدر پوٹن کے ساتھ ایران اور یوکرین کے معاملے پربات چیت ہوئی، پوٹن نہیں چاہتے کہ ایران جوہری ہتھیارحاصل کرے ، روسی صدر ایران کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیارنہیں ہونے چاہیے ، ایران کے ساتھ ٹیلی فون کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں، ایران کوبس کہنا ہوگا کہ وہ ہارگئے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے ایران کی فضائیہ کو تباہ کردیا، ایران کے پاس میزائل بنانے کی صلاحیت کم رہ گئی ہے ، ایران کی معیشت سخت مشکلات کا شکار ہے ، ایرانی کرنسی کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہی۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے علیحدگی کا فیصلہ بہت اچھا ہے ۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج کی سنٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف ‘مختصر اور طاقتور’ حملوں کا منصوبہ تیار کر لیا ہے تاکہ مذاکرات میں جاری تعطل کو ختم کیا جا سکے ۔رپورٹ کے مطابق ان ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جس کے بعد امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا۔ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ایران کی اس تجویز کو مسترد کر دیا جس میں پہلے آبنائے ہرمز کھولنے اور ناکہ بندی ختم کرنے جبکہ جوہری مذاکرات بعد میں کرنے کی بات کی گئی تھی۔