ایران، امریکا مذاکرات میں پیشرفت کا امکان کم : نجم سیٹھی

ایران، امریکا مذاکرات میں پیشرفت کا امکان کم : نجم سیٹھی

امریکی مذاکراتی ٹیم میں تبدیلیاں حکمت عملی زیادہ سخت ہونے کی طرف اشارہ خطے میں کشیدگی اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا :’’آج کی بات سیٹھی کیساتھ‘‘

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل میں ڈیڈلاک برقرار ہے اور ایک دوسرے کی پیشکشیں قبول نہیں کی جا رہیں، اس صورتحال میں فریقین کے درمیان مزید کسی پیشرفت کا امکان کم دکھائی دیتا ہے اور فی الحال مذاکراتی تعطل برقرار رہے گا۔دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے ابتدائی طور پر یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ نیوکلیئر مسئلے پر فوری بات نہ کی جائے بلکہ اعتماد سازی کے بعد دیگر معاملات پر پیشرفت ہو۔ ایران کی تجویز تھی کہ پہلے آسان مسائل حل کئے جائیں، ناکہ بندی ختم کی جائے اور پھر مرحلہ وار مذاکرات ہوں جن میں آبنائے ہرمز جیسے معاملات بھی شامل ہوں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پہلے نیوکلیئر ایشو پر واضح بات کی جائے اور ایران یہ ضمانت دے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیوکلیئر مسئلہ حل ہونے کے بعد دیگر معاملات پر بات کی جا سکتی ہے ۔نجم سیٹھی نے کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی ایک نئی تجویز بھی مکمل حل نہیں دے سکی، جس میں ناکا بندی کے بیک وقت خاتمے اور بعد ازاں دیگر معاملات پر بات چیت کی بات کی گئی تھی ،تاہم یہ پیشکش بھی قبول نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ یہ ڈیڈلاک کیسے ختم ہوگا ؟،تاہم فوری طور پر کسی معاہدے یا نئی پیشکش کے امکانات نظر نہیں آتے ۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مذاکراتی ٹیم میں تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انکی حکمت عملی زیادہ سخت رخ اختیار کر رہی ہے ۔ اس تمام صورتحال میں خطے میں کشیدگی اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ ناکا بندی کے اثرات ایران سمیت دیگر ممالک پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں