لاہور میں ریبیز کا خطرہ بڑھ گیا، 18 سالہ نوجوان جاں بحق
کتے کے کاٹنے پر زین کو میو ہسپتال لایا گیا، ریبیز کی تمام علامات تھیں :ذرائع ایک اورمریض ثمر عباس زیر علاج،متعلقہ ادویات وافرموجودہیں:ایم ایس
لاہور (بلال چودھری )لاہور میں کتے کے کاٹنے کے باعث ریبیز کے کیسز میں خطرناک اضافہ ،میو ہسپتال میں 18 سالہ نوجوان زین علی ریبیز کا شکار ہو کر جاں بحق ہوگیا، جبکہ ایک اور مریض ثمر عباس زیر علاج ہے ۔ میو ہسپتال ذرائع کے مطابق کتے کے کاٹنے کے باعث 18 سالہ زین علی کو ہسپتال لایا گیا تھا، اس میں ہائیڈروفوبیا سمیت ریبیز کی تمام کلاسیکل علامات موجود تھیں،اس کی اچانک موت نے شہر میں ریبیز کے بڑھتے خطرات پر تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ۔ میو ہسپتال میں کتے کے کاٹے کا ایک اور مریض ثمر عباس بھی رپورٹ ہوا ہے ، جسے فوری طور پر آئسولیشن وارڈ کے چوتھے فلور پر داخل کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ ثمر عباس نے بتایا کہ 15 روز قبل امامیہ کالونی شاہدرہ میں ایک کتا اچانک اس کے چہرے پر جھپٹا، جس سے اسے معمولی زخم آیا، مریض کا علاج معالجہ جاری ہے اور ڈاکٹرز کی ٹیم مسلسل اس کی حالت کی نگرانی کر رہی ہے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ریبیز ایک مہلک اور جان لیوا بیماری ہے ، جس میں بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں موت یقینی ہوتی ہے ،کتے کے کاٹنے کے فوراً بعد اینٹی ریبیز ویکسین لگوانا اور عوامی سطح پر آگاہی مہم چلانا ہی اس بیماری سے بچاؤ کا واحد مؤثر ذریعہ ہے ۔ ایم ایس میو ہسپتال ڈاکٹر مدبر رحمن کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں ریبیز کے مریضوں کیلئے اینٹی ریبیز ویکسین کی وافر مقدار اوردیگر تمام ضروری طبی سہولیات دستیاب ہیں ، عملہ 24 گھنٹے الرٹ پر ہے ۔ شہری حلقوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کتے کے کاٹنے کے واقعات روکنے اور شہریوں کو ریبیز جیسی مہلک بیماری سے محفوظ رکھنے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کئے جائیں۔