عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گرگئیں:پٹرول،ڈیزل22روپے سستا عوام کو ریلیف دینا میری اولین ترجیج:وزیراعظم

عالمی  منڈی میں تیل کی قیمتیں گرگئیں:پٹرول،ڈیزل22روپے سستا عوام کو ریلیف دینا میری  اولین ترجیج:وزیراعظم

پٹرول 381 روپے 78 پیسے ،ڈیزل 380 روپے 78 پیسے فی لٹر ہوگیا،پٹرول پر لیوی میں 10روپے 83 پیسے کمی،ڈیزل پر اضافہ،مٹی کا تیل 41 روپے 44پیسے سستا پاک چین دوستی معاشی مستقبل کی ضمانت،عسکری قیادت کیساتھ تعلقات آئیڈیل،مودی کو دوبارہ کامیاب ہو نا چاہیے تاکہ ہمیں مزید آگے بڑھنے کا موقع ملے :وزیراعظم

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے عوام کو عید کا تحفہ دیتے ہوئے پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 22،22 روپے فی لٹر کمی کا اعلان کردیا۔ وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق حکومت نے سخت ترین معاشی حالات میں بھی عوام کو ریلیف دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہے جبکہ گزشتہ ہفتے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ جیسے ہی گنجائش پیدا ہوگی عوام کو ریلیف دیا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عوام کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔اعلامیے کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ، گڈز ٹرانسپورٹ، موٹرسائیکل اور رکشہ چلانے والوں کو فیول کی مد میں سبسڈی دی گئی ہے ۔

کمی کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 381 روپے 78 پیسے فی لٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 380 روپے 78پیسے فی لٹر مقرر کردی گئی ہے ،مٹی کا تیل 41 روپے 44پیسے سستا کردیا گیا، مٹی کے تیل کی نئی قیمت 272 روپے فی لٹر مقررکی گئی ہے ،اس سے پہلے مٹی کے تیل کی قیمت 313روپے 44 پیسے فی لٹرتھی،نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے ہوگیا۔پٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق پٹرول پر عائد لیوی میں 10 روپے 83 پیسے فی لٹر کمی کر دی گئی، جو 102.17 روپے سے کم کرکے 91.34 روپے ہوگئی ہے ۔ ڈیزل پر لیوی میں 10روپے 93 پیسے فی لٹر اضافہ کر دیا گیا، جو 58 روپے سے بڑھا کر 68.93 روپے کر دی گئی۔ مٹی کے تیل پر لیوی 20 روپے 36 پیسے برقرار ہے ۔دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں بھی تیل کی قیمتیں گر گئیں ۔برینٹ خام تیل کی قیمت 1.8 فیصد کم ہو کر 92.03 ڈالر فی بیرل تک آگئی جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کروڈ کی قیمت بھی 1.8 فیصد کمی کے بعد 87.26 ڈالر فی بیرل ہوگئی ۔

لاہور(سلمان غنی)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا چین سے دوستی ہمارے معاشی مستقبل کی ضمانت ہے ، چینی قیادت کو ہماری امریکا سے دوستی پر اعتراض نہیں وہ ہمیں معاشی حوالے سے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں چین کے ساتھ معدنیات زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے معاہدوں پر عملدرآمد ہمارے معاشی استحکام کیلئے اہم ہوگا۔پاکستان کے ثالثی اور سفارتی عمل نے دنیا کو ایک بڑی جنگ اور اس کے اثرات سے بچایا ہے ہم سب اس کی زد میں آئے ہیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات پاکستان میں بھی دیکھنے کو ملیں گے ہم سمجھتے ہیں کہ عوام مشکل میں ہیں انہیں ریلیف دینا ہماری ترجیح ہے ۔دنیا نیوز سے اپنی رہائش گاہ پر بات چیت کر تے ہوئے وزیراعظم نے دفاعی اور سفارتی خود انحصاری کے بعد معاشی استحکام کو اپنی منزل قرار دیا اور کہا کہ اس حوالے سے چین کی معاونت ہمیں حاصل ہو گی اور اس خطے میں پاکستان کا بڑا کردار جلد سامنے آئے گا ہمارے ذمہ دارانہ کردار کو دنیا نے سراہا ہے ۔انہوں نے امریکا ایران مفاہمتی عمل کو خطے میں امن کے حوالے سے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی صد مسعود پزشکیان نے عید کے روز ہونے والی بات چیت میں مفاہمتی یادداشت کے معاملات میں پیش رفت کو امید افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس حوالے سے پر امیدہیں۔

شہباز شریف نے اپنے دورہ چین کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین سے ہمارے دوستانہ مراسم ہماری طاقت ہیں ۔چین ہر مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑا ہوا ہے اور امریکا ایران جنگی کیفیت میں بھی چین ہماری سفارتی اور ثالثی کوششوں کے پیچھے کھڑا تھا اس لئے کہ چین منہ سے کم بولتا ہے وہ مسائل کے حل میں یقین رکھتا ہے اور وہ امن کے لئے بھرپور کردار ادا کرتا نظر آتا ہے اسے اپنے معاشی اہداف عزیز ہوتے ہیں وہ امن کا خواہاں رہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پر چین کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے اس مرتبہ وہ اس حوالے سے زیادہ پر عزم نظر آیا اور وہ جنوبی ایشیا میں امن کو مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط سمجھتا ہے اور سکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کو ہی حل سمجھتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بھی تائیوان اور دیگر ایشوز پر چین کا ساتھ دیا ہے اور دیں گے ۔ انہوں نے کہا ہم پر عزم ہیں کہ ہمیں معاشی حوالے سے خود انحصاری کی منزل پر پہنچنا ہے اس میں سی پیک کا کردار اہم ہے بدقسمتی سے عمران خان کی حکومت میں ان کی بیوقوفیوں کے باعث اس منصوبہ کو شدید نقصان پہنچا، لگتا ہے یہ کسی خاص ایجنڈا کا حصہ تھا ۔آج سی پیک بحال بھی ہے اور سی پیک ٹو پر پیش رفت شروع ہے ۔

وزیراعظم شہباز شریف نے عسکری قیادت سے اپنے تعلقات کو آئیڈیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں جو کامیابیاں مل رہی ہیں ان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار اہم ہے ، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں منتخب اور عسکری قیادت میں ایسے تعلقات کی نظیر نہیں ملتی، خدا کرے یہ اسی طرح قائم رہیں ، یہ پاکستان کی دفاعی سیاسی اور معاشی مضبوطی کے ضامن ہیں۔ ایران کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا قطع نظر اس بات کے کہ ماضی میں ہمارے تعلقات کیسے رہے ایران ہمارا ہمسایہ برادر ملک ہے اور خطے میں امن کی بحالی کے بعد ہمارے ایران سے اچھے دیرپا تعلقات قائم ہوں گے ایران نے جس طرح ہم پر اعتماد اور اعتبار کیا ہم اس پر مشکورہیں ۔انہوں نے کہا کہ امریکا ایران میں ہونے والی مفاہمتی پیشکش سے خطے میں استحکام آئے گا۔ معاملات آگے چلیں گے ۔یہ جنگ و جدل کا دور نہیں یہ ڈائیلاگ کا دور ہے ۔پاکستان کا ثالثی کردار سیاسی تاریخ کا روشن باب ہے جس پر ہمیں فخر ہے ۔خصوصاً سفارتی محاذ پر ہمارے فیلڈ مارشل کے ذمہ دارانہ کردار کو دنیا سراہ رہی ہے ۔شہباز شریف نے کہا کہ بھارت نے تو پاکستان پر جارحیت مسلط کی تھی اور پہلگام کے واقعہ کا الزام ہم پر لگایا تھا مگر ہمارے ذمہ دارانہ کردار نے ہمیں عالمی محاذ پر کہاں پہنچا دیا اور بھارت کس انجام پر کھڑا ہے ۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہمیں تو دعا کرنی چاہئے کہ مودی دوبارہ کامیاب ہو تاکہ ہمیں مزید آگے بڑھنے کا موقع ملے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں