بجٹ : آئی ایم ایف سے مذاکرات مکمل، 220 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز

بجٹ : آئی ایم ایف سے مذاکرات مکمل، 220 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز

وفاقی بجٹ ساڑھے 17 ہزارارب ، ایف بی آر کے سالانہ ٹیکس ہدف میں دوسری بارکمی ، 11 ماہ میں 866 ارب کا شارٹ فال، محصولات 11 ہزار 232 ارب تک محدود رہی نظرثانی شدہ ہدف 13 ہزار 5 ارب مقرر ، تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس سلیبز میں ردوبدل ،آخری سلیب کی حد، شرح بڑھنے کاامکان، ملازمین کو ریلیف دینے کیلئے مشاورت جاری

اسلام آباد(مدثرعلی رانا)باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کیلئے وفاقی بجٹ کا حجم تقریباً ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ رہے گا، آئی ایم ایف کیساتھ بجٹ مذاکرات مکمل ہو گئے اور اہم بجٹ اہداف پر اتفاق ہوا ہے اب صرف تنخواہ دار طبقے پر ریلیف کیلئے ایف بی آر کے ورچوئل مذاکرات جاری ہیں، آئندہ مالی سال 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگائے جائیں گے ، آئندہ مالی سال کیلئے نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس سلیبز میں ردوبدل کی جائے گی آخری سلیب کا تھریش ہولڈ بڑھایا جائے گا اور ٹیکس شرح بھی بڑھائی جا سکتی ہے ، ایف بی آر تاجروں کیلئے فکسڈ ٹیکس سکیم، ہائبرڈ اور الیکٹریکل وہیکل پر سیلز ٹیکس اور دیگر پالیسی اقدامات سے اضافی ٹیکس اکٹھا کرنے کے اقدامات بجٹ میں نظر آئیں گے ، ایف بی آر کو جولائی سے مئی 11 ماہ کے دوران 866 ارب روپے کا شارٹ فال آ گیا ،جولائی سے مئی کے دوران ایف بی آر کی مجموعی آمدن 11 ہزار 783 ارب روپے تک محدود رہی جبکہ نیٹ آمدن یعنی ریفنڈز ادائیگیوں کے بعد ایف بی آر محصولات 11 ہزار 232 ارب تک محدود رہی ،مئی کیلئے ایف بی آر کا ہدف 1 ہزار 150 ارب روپے رکھا گیا تھا جبکہ کلیکشن 966 ارب روپے تک محدود رہی۔

باوثوق ذرائع کے مطابق ایف بی آر اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ،ایف بی آر کے سالانہ ٹیکس ہدف میں دوسری بارکمی کر دی گئی، 14 ہزار 131ارب روپے اصل ٹیکس ہدف میں مجموعی طور پر 1 ہزار 126 ارب روپے کی بڑی کمی پر آئی ایم ایف آمادہ ہو گیا ، بجٹ میں مختص ٹارگٹ کو 14 ہزار 131 ارب سے کم کرکے 13 ہزار 979 ارب کیا گیا تھا ،سالانہ ہدف پر دوسری بار نظرثانی کرکے 13 ہزار پانچ ارب روپے مقرر کیا گیا ہے ،11ماہ میں پہلے نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے 866 ارب شارٹ فال ہے ،ذرائع کے مطابق دوسری نظرثانی کے بعد جولائی سے مئی کے دوران ایف بی آر کا ٹارگٹ 11 ہزار 257 ارب روپے مختص کیا گیا تھا جس میں شارٹ فال 25 ارب رہ گیا ہے ، جولائی کے دوران 64 ارب روپے انکم ٹیکس ریفنڈز ادائیگیوں کے بعد خالص انکم ٹیکس کی مد میں 5 ہزار 539 ارب روپے جمع ہوئے ، جولائی سے مئی کے دوران سیلز ٹیکس کی مد میں 444 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے گئے جس کے بعد سیلز ٹیکس کی مد میں خالص آمدن 3 ہزار 771 ارب روپے رہی اسی طرح جولائی سے مئی کے دوران فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 745 ارب روپے سے زائد جمع ہوئے اس عرصے کے دوران کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 43 ارب روپے ریفنڈز جاری کئے گئے۔

ایف بی آر خالص آمدن 1 ہزار 178 ارب روپے رہی ،مجموعی طور پر رواں مالی سال کے دوران ابھی تک 550 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے گئے ہیں، اب ایف بی آر کو جون کے دوران تاریخی بڑا ٹارگٹ ملا ہے جو تقریباً ساڑھے 17 سو ارب روپے کے لگ بھگ مختص کیا گیا ہے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ 13 ہزار 5 ارب روپے تک نظرثانی شدہ ہدف حاصل کیا جائے گا، مئی کے دوران ایف بی آر کے دوران 5 ارب روپے انکم ٹیکس ریفنڈز ادائیگیوں کے بعد خالص انکم ٹیکس کی مد میں 454 ارب روپے جمع ہوئے ، مئی کے دوران سیلز ٹیکس کی مد میں 44 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے گئے جس کے بعد سیلز ٹیکس کی مد میں خالص آمدن 342 ارب روپے رہی اسی طرح مئی کے دوران فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 72 ارب روپے سے زائد جمع ہوئے اس عرصے کے دوران کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں تقریباً 2 ارب روپے ریفنڈز جاری کئے گئے اور ایف بی آر خالص آمدن 98 ارب روپے رہی، مجموعی طور پر مئی کے دوران 50 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے گئے ہیں ،جولائی سے مئی کے دوران رواں مالی سال ایف بی آر ریونیو گروتھ 10 فیصد تک ریکارڈ ہوئی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں