کسان اتحاد کا جون میں احتجاجی تحریک،پیدل مارچ کا اعلان
وزیراعظم اور فیلڈمارشل سے کسانوں کے مسائل کے حل کیلئے مداخلت کی اپیل کسانوں کو اپنی گندم آزادانہ فروخت کرنے کی اجازت دی جائے :کسان رہنما
لاہور (کامرس رپورٹر)کسان اتحاد نے حکومتی زرعی پالیسیوں کے خلاف جون میں احتجاجی تحریک شروع کرنے اور لاہور میں پیدل مارچ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم اورفیلڈ مارشل سے کسانوں کے مسائل کے حل کیلئے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔مرکزی چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ گندم خریداری سے متعلق گزشتہ دو برسوں کے حکومتی اقدامات کسانوں کو ریلیف دینے میں ناکام رہے ۔ ان کے بقول حکومت نے باردانہ رجسٹریشن اور ای ڈبلیو آر نظام متعارف کرایا مگر کسانوں سے مطلوبہ مقدار میں گندم نہیں خریدی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گندم کی پیداوار موسمی تبدیلیوں سے متاثر ہوئی، اس کے باوجود درآمد کی بات کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو اپنی گندم آزادانہ فروخت کرنے کی اجازت دی جائے، زرعی پالیسی سازی میں کسانوں کو شامل کیا جائے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تحقیق، معیاری بیج اور آبپاشی کے بہتر انتظامات کئے جائیں۔خالد حسین باٹھ نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے بچوں کے لیے پی ایم ایس امتحان میں عمر کی حد 35 سال اور مواقع کی تعداد 5 کی جائے تاکہ وہ بہتر مقابلہ کر سکیں۔مرکزی صدر کسان اتحاد عمیر مسعود نے الزام عائد کیا کہ زرعی شعبہ مسلسل مشکلات کا شکار ہے ، کسان کو اس کی پیداوار کا مناسب معاوضہ نہیں مل رہا اور زرعی ترقی کی شرح بھی متاثر ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسائل حل نہ ہوئے تو جون میں احتجاج کیا جائے گا، تاہم کوشش ہوگی کہ عوام کو کم سے کم پریشانی ہو۔کسان رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کسانوں کے تحفظات دور کرے ، زرعی شعبے کو ترجیح دے اور بجٹ سازی میں کاشتکاروں کی رائے کو شامل کیا جائے۔