کراچی میں ایک بار پھر قتل و غارت گری بڑھ گئی، حافظ نعیم
سندھ میں اندھا قانون قائم، باسط سومرو کا قتل نظام انصاف کے مردہ ہونے کا ثبوت گھر پہنچ کر اہلخانہ سے اظہار افسوس، اظہار الحق کے انتقال پر تعزیت
کراچی (آئی این پی) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے گلستان جوہر میں مسلح افراد کے ہاتھوں قتل جماعت اسلامی کے امیدوار رکن صدیق سومرو کے جواں سال بیٹے عبد الباسط سومرو کے قتل پر ان کے گھر پہنچ کر اہل خانہ سے تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہاکہ کراچی میں ایک بار پھر قتل و غارت گری بڑھ گئی ہے ، باسط سومرو کا قتل سندھ میں نظامِ انصاف کے قتل کا ثبوت ہے ، سندھ میں اندھا قانون قائم ہے جہاں عام شہری کی جان، عزت اور مال محفوظ نہیں، پیپلزپارٹی کی 18 سال سے سندھ میں مسلسل حکمرانی نے عوام کو لاشوں، خوف،بدامنی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا، آج سندھ میں ظلم، ناانصافی اور لاقانونیت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے جبکہ عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا یہ کیسا نظام ہے جہاں بااثر افراد جب چاہیں سڑکوں پر غنڈہ گردی کریں، شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنائیں، قتل کریں اور پھر قانون خاموش تماشائی بنا رہے ، کیا غریب اور عام آدمی صرف مرنے کے لیے رہ گیا ہے۔
؟انہوں نے کہا ام رباب چانڈیو کے والد،بھائی اور چچا،ناظم جوکھیو، امین سومرو اور کاروکاری کے نام پر معصوم بچیوں کا سرعام قتل ثابت کرتا ہے پیپلزپارٹی کا ساتھ دینے والے بااثر افراد کس طرح کے جرائم میں ملوث ہیں اور حکومتی سرپرستی کی وجہ سے آزاد ہیں۔اگر آج قوم ظلم کے اس نظام کے خلاف نہ اٹھی تو حالات اس سے زیادہ خراب ہوسکتے ہیں، وقت آ گیا ہے کراچی اور سندھ کے عوام ظلم، بدمعاشی اور نااہلی کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کریں۔حافظ نعیم الرحمن نے قانون نافذ کرنے والوں سے مطالبہ کیا کہ باسط سومرو کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے عبرتناک سزا دی جائے ورنہ عوام کا قانون اور ریاست پر اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔دریں اثنا حافظ نعیم الرحمن نے قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ کے ہمراہ سٹی کونسل میں تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر مبشر حافظ الحق کے بڑے بھائی اظہار الحق کے انتقال پر گھر جاکر ملاقات کی اورمرحوم کے انتقال پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے اہل خانہ سے دلی تعزیت، مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین و پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔