اے این ایف کے بیانات پرسزائیں،زیرتحویل ملزم ماردیئے جاتے ہیں:سپریم کورٹ

اے این ایف کے بیانات  پرسزائیں،زیرتحویل ملزم  ماردیئے جاتے ہیں:سپریم کورٹ

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کے خلاف منشیات برآمدگی کے مقدمے میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس صلاح الدین پنہوار پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے اے این ایف کی کارروائی کی سی سی ٹی وی فوٹیج عدالت میں چلائی اور مؤقف اختیار کیا کہ فوٹیج سے واضح ہوتا ہے کہ ایک اے این ایف اہلکار منشیات اپنے ساتھ لے کر گھر میں داخل ہوا۔ خود منشیات گھر میں رکھ کر ملزمہ کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں اے این ایف کے بیانات کی بنیاد پر لوگوں کو سزائیں سناتی ہیں، اس لیے کمرہ عدالت میں جھوٹ نہیں بولا جانا چاہیے اور خدا کا خوف کرنا چاہیے ،جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ بعض مقدمات میں ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے بھی مار دیئے جاتے ہیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں