مشروبات پر ٹیکس میں رعایت ہونی چاہئے ، رانا تنویر

 مشروبات پر ٹیکس میں رعایت ہونی چاہئے ، رانا تنویر

ٹیکس کے باعث جوس انڈسٹری کا حجم 60 ارب سے کم ہو کر 40 ارب پر آگیا، وقار احمد صحت مند اورزیادہ چینی والے مشروبات کیلئے یکساں ٹیکس پالیسی نہیں ہونی چاہیے ،ماہرین

اسلام آباد(نامہ نگار) حکومت، ماہرین اور صنعتی نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ صحت مند اور زیادہ چینی والے مشروبات کے لیے ایک ہی ٹیکس پالیسی نہیں ہونی چاہیے ۔فروٹ جوس کونسل کے پری بجٹ مشاورتی اجلاس میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے پھلوں کے جوس اور بغیر اضافی چینی والے مشروبات پر ٹیکس میں رعایت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی میں صحت، مقامی صنعت، روزگار اور برآمدات کے فروغ کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے ۔اجلاس میں شرکا نے مطالبہ کیا کہ پھلوں کے جوس پر 20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کم کر کے 10 فیصد کی جائے جبکہ بغیر اضافی چینی والے مشروبات کو مکمل طور پر ٹیکس سے مستثنٰی قرار دیا جائے ۔پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (SDPI) کے سربراہ ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ صحت کے نام پر حاصل ہونے والی آمدن کو شفاف انداز میں صحت کے شعبے پر خرچ کیا جائے۔

فروٹ جوس کونسل کے نمائندے وقار احمد نے بتایا کہ ٹیکس میں اضافے کے باعث باضابطہ جوس انڈسٹری کا حجم 60 ارب روپے سے کم ہو کر 40 ارب روپے تک آ گیا ہے ۔ایس ڈی پی آئی کی زینب نعیم نے کہا کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا تعین چینی کی مقدار کی بنیاد پر ہونا چاہیے تاکہ غیر متوازن ٹیکس نظام سے صنعت کو نقصان نہ ہو۔آتکہ میر خان نے کہا کہ ملک کی باضابطہ جوس مارکیٹ کا تقریباً 75 فیصد حصہ ان کی رکن کمپنیوں پر مشتمل ہے اور زیادہ ٹیکس سے صارفین غیر رجسٹرڈ مشروبات کی طرف جا سکتے ہیں۔اقتصادی ماہر نادیہ طاہر نے کہا کہ صنعت کو برآمدات، معیار اور قواعد کی بہتری پر توجہ دینی چاہیے ،اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ جوس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 20 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کی جائے اور بغیر اضافی چینی والے مشروبات کو مکمل استثنٰی دیا جائے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں