کانگریس کی قرارداد نے ایران کیخلاف جنگ مشکل بنا دی

 کانگریس کی قرارداد نے ایران کیخلاف جنگ مشکل بنا دی

ٹرمپ کاجنگ نہ کر نیکا عزم خوش آئند، مذاکرات کے آپشن کو تقویت ملے گی

(تجزیہ: سلمان غنی )

صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کیخلاف دوبارہ جنگ نہ کرنے کے عزم کو علاقائی وعالمی امن کے حوالہ سے ایک خوش آئند امر قراردیا جاسکتا ہے جس سے یہ رجحان تقویت پکڑے گا کہ اہم عالمی وعلاقائی ایشو کا حل جارحیت یا جنگوں کی صورت میں ممکن نہیں، باہمی مسائل کے حل کیلئے ڈائیلاگ کے آپشن کو بروئے کار لانا چاہیے ، دوسری جانب امریکی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں اور واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس کے مطابق فریقین جنگ بندی پر متفق ہوگئے اور اب ان کے درمیان مذاکرات 22جون کو ہو ں گے ،مذکورہ صورتحال میں ایک بات تو کھل کر سامنے آچکی ہے کہ امریکی صدر نے ایران کیخلاف جن مقاصد کے لئے جنگ شروع کی تھی وہ حاصل نہیں ہوسکے اور یہ کہ امریکہ ایران کے درمیان جنگی سمجھوتہ اس وقت تک کارگر نہیں ہوگا جب تک فلسطین کے مسئلہ پر پیش رفت نہیں ہوگی۔

لہٰذا اس امر کا جائزہ ضروری ہے کہ امریکی طرز عمل میں کیا تبدیلی نظر آئی ہے ،کیا اسرائیل لبنان کے علاقے چھوڑ پائے گا ،دنیا بھر میں یہ تاثر عام رہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس جارحیت کا جواز نہیں تھا اور ایران مذاکرات کے لئے تیار تھا اور جارحیت کے عمل کے نتیجہ میں نہ تو یہاں رجیم چینج ہوئی اور نہ ہی ایران نے پسپائی اختیار کی ،امریکہ کی عالمی ساکھ بھی متاثر ہوئی،صدر ٹرمپ کی جانب سے طاقت کے استعمال کے آپشنز کو کانگریس اور عوام میں تائید نہیں ملی،اسرائیل کی کارروائیاں امن عمل کو سبوتاژ کردیتی ہیں ،مذکورہ صورتحال میں پاکستان کے کردار کا تعلق ہے تو پاکستان اسرائیل لبنان جنگ بندی اور امریکہ ایران معاہدہ ایک کلیدی سفارتی ثالثی کے طور پر ابھرا ہے جسے عالمی سطح پر سراہا بھی گیا،حالات واقعات کے نتیجہ میں نظر آتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن فلسطین کے مسئلے کے پر امن حل سے ممکن ہے ، پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ وہ اسلامی دنیا کے موقف کی تائید کرے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی حمایت جاری رکھے ،امریکہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال کر اس کی معیشت تباہ کرنا چاہتا تھا ،کانگریس کی قرارداد نے ایران کیخلاف بھرپور جنگ کو مشکل بنادیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں