سرحد بندش سے افغان تاجر متاثر، خشک میوہ جات خراب ہونے لگے
اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر) افغان طالبا ن رجیم کی ہٹ دھرمی اور پاک افغان سرحدی بندش کے باعث افغانستان کی معیشت اور بالخصوص خشک میوہ جات کی تجارت شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔
افغانستان کی پاکستان کے ساتھ سرحدی بندش کے نتیجے میں افغان تاجروں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا جبکہ بیرونی ممالک کو ڈرائی فروٹس کی سپلائی بھی بری طرح متاثر ہوئی ۔ افغان تاجروں کے مطابق گوداموں میں موجود ہزاروں ٹن خشک میوہ جات خراب ہونے کے قریب ہیں جس سے انہیں بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے ۔افغان تاجر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر سرحدی راستے جلد نہ کھولے گئے تو افغانستان میں خشک میوہ جات کی صنعت مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے ۔بھارتی میڈیا دی جرنو-ویو کے مطابق پاکستان کے ساتھ سرحدی راستوں کی بندش کے بعد افغان ڈرائی فروٹ تاجر شدید بحران میں مبتلا ہیں۔ اسی طرح امریکی جریدے ریڈیو فری یورپ نے رپورٹ کیا ہے کہ سرحدی بندش کے باعث افغان مریضوں، تاجروں اور عام شہریوں کو سنگین مشکلات درپیش ہیں۔افغان میڈیا افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق سرحد بند ہونے سے سامان سے بھرے ٹرک بارڈر پر پھنس گئے ہیں، جس کے باعث مال خراب ہو رہا ہے جبکہ ڈرائیوروں کو بھاری جرمانوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔