جائیداد ریکارڈ ڈیجیٹائزیشن نہ ہوسکا، گرین سرٹیفکیٹ پروگرام زیر التوا
یکم جولائی سے فرد کے بجائے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ لازمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا منصوبے پر عملدرآمد سست روی کا شکار،تمام ریکارڈجلد کمپیوٹرائزڈ کرلینگے :حکام
لاہور (عمران اکبر) لاہور سمیت صوبہ بھر میں جائیدادوں کا مکمل ریکارڈ ڈیجیٹائز نہ ہونے کے باعث گرین سرٹیفکیٹ پروگرام التوا کا شکار ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ یکم جولائی سے فرد بند جبکہ گرین سرٹیفکیٹ کے اجرا کی ڈیڈ لائن کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تاہم لاہور سمیت 41 اضلاع میں گرین سرٹیفکیٹ منصوبہ مکمل طور پر فعال نہ ہو سکا۔لاہور کے 363 موضع جات میں سے تاحال سو کے قریب موضع جات ڈیجیٹائزڈ نہیں ہو سکے ۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (پرا) کے مطابق یکم جولائی سے صوبہ بھر میں گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کو مکمل طور پر فعال کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ضلعوں کی حدود میں رول 36-A کے تحت فرد کے اجراء کو معطل کیا جائے گا جبکہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ ہی واحد قانونی دستاویز ہوگا۔ پرا کے مطابق پراپرٹی کی رجسٹری اور انتقال کے لیے اب فرد نہیں بلکہ گرین سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا۔پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے مطابق صوبے میں اربن اور رورل مواضعات کی رجسٹری، گرداوری اور انتقال کی کمپیوٹرائزیشن کا عمل جاری ہے ،پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ لاہور کے 363 مواضعات میں سے تقریباً سو سے کم مواضعات باقی ہیں جنہیں جلد کمپیوٹرائزڈ کر لیا جائے گا۔