جین زی تحریک نے مودی سرکار کیلئے نئی مشکلات کھڑی کردیں
اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر) بھارت کی جین زی (Gen Z) تحریک مودی سرکار کے لیے بڑا امتحان بن گئی ہے۔ ابھیجیت دیپکے نے نوجوانوں کے مسائل سے متعلق آن لائن شروع ہونے والے احتجاج کو سڑکوں تک منتقل کر دیا ہے۔
مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی کا کروچ جنتا پارٹی کی مقبولیت اور اثر و رسوخ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی جریدے الجزیرہ کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی نے نئی دہلی میں جاری دھرنا وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔نئی دہلی کی شدید گرمی میں درجنوں مظاہرین نے رات سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر گزار دی۔ ابھیجیت دیپکے نے نوجوانوں کے مسائل سے متعلق آن لائن احتجاج کو عملی تحریک میں تبدیل کر دیا ہے ۔ الجزیرہ کے مطابق امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے بھارتی نوجوانوں میں شدید غصہ پیدا کر رکھا ہے۔
بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کے مطابق ابھیجیت دیپکے نے امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج میں کسانوں سے بھی حمایت کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کسان اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے تھے تو طلبہ نے ان کا ساتھ دیا، اب وقت آ گیا ہے کہ کسان بھی طلبہ کا ساتھ دیں۔بین الاقوامی جریدے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے تجزیے کے مطابق یہ جین زی احتجاج سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کی طرز پر بھارتی نوجوانوں میں پائی جانے والی وسیع بے چینی کے خلاف ایک بڑی تحریک کا آغاز ہے ۔کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک نے بھارتی نوجوانوں کے مسائل کو نمایاں کرتے ہوئے بی جے پی حکومت کی کارکردگی اور پالیسیوں پر نئے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔