حکومت سنجیدہ نہ ہوئی تو آزاد کشمیر ایشو پر عوامی جرگہ تشکیل دینگے :حافظ نعیم
خاموش نہیں بیٹھ سکتے ، ریاست ماں کا کردا ر ادا کرے ، ناراض لوگوں کو گلے لگائے :امیر جماعت اسلامی 12 سیٹوں کے مسئلہ پر مظاہرین کے چند اعتراضات کافی حد تک جائز :قومی مشاورتی سیمینار سے خطاب
اسلام آباد ،لاہور(اپنے رپورٹرسے ،مانیٹرنگ ڈیسک،سٹاف رپورٹر )امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت نے آئندہ تین روز تک آزاد کشمیر صورتحال کے پرامن حل کیلئے مثبت پیش رفت نہ کی تو جماعت اسلامی عوامی جرگہ تشکیل دے کر کشمیری عوام اور ان کے نمائندوں سے براہ راست مذاکرات کا آغاز کردے گی، ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے ، ریاست ماں کا کردار ادا کرے ، ناراض لوگوں کو گلے لگائے ، پاکستان اپنے گھر میں ہی مزید دشمنیوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں آزاد کشمیر کی صورتحال پرجماعت اسلامی کے قومی مشاورتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود، سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر جسٹس منظور گیلانی ، صدر سپریم کورٹ بار راجہ آفتاب ، معروف اینکر و صحافی سلیم صافی ، صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس افضل بٹ ، سابق ایڈیشنل آئی جی آزاد کشمیر پولیس فہیم عباسی اور دیگر مقررین اور شرکاء موجود تھے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اگرچہ 12 سیٹوں کے مسئلہ پر مظاہرین کے چند اعتراضات کافی حد تک جائز ہیں تاہم یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ آزادجموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی نمائندگی ہی نہ ہو،اس کا کوئی قابل عمل حل بھی نکل آئے گا، اس مسئلہ میں ہمارا کوئی سیاسی یا ذاتی ایجنڈا نہیں ، مزید خون خرابہ نہیں ہونا چاہیے ،حکمران ہوش کے ناخن لیں ایسا نہ ہو حالات ہاتھ سے نکل جائیں ، جماعت اسلامی بغیر کسی سیاسی مفاد کے خلوص نیت سے مسئلہ آزاد کشمیر کا حل چاہتی ہے ،امیر جماعت اسلامی نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر بھی واضح کیا کہ اگر ان میں کوئی فرد پاکستان کے خلاف بات کرتا ہے تو اسے اپنی صفوں سے نکالیں ، اہل پاکستان کے دل کشمیر اور کشمیریوں کے لیے دھڑکتے ہیں ۔