دہشتگردی پر آل پارٹیز کانفرنس کیلئے اپوزیشن میں مشاورت، رابطے تیز
پارلیمانی جماعتوں نے اے پی سی تک رہنماؤں کو مخالفانہ اور متنازع بیانات دینے سے روکدیا فضل الرحمن کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جارہا ، شاہدہ اختر علی ،دنیا سے گفتگو
اسلام آباد (سہیل خان)اپوزیشن جماعتوں میں دہشت گردی، بڑھتے عوامی عدم تحفظ اور امن و امان کی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) طلب کرنے کے لیے مشاورت تیز ہو گئی ۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان بھی متوقع ہے ۔ذرائع کے مطابق پارلیمانی جماعتوں نے اپنے ارکان کو کسی بھی رہنما کے خلاف مخالفانہ بیانات دینے سے روک دیا ۔ بتایا گیا ہے کہ اے پی سی کے انعقاد تک متنازعہ بیانات سے گریز کیا جائے گا۔ اے پی سی کا مقصد قومی معاملات پر اپوزیشن کے درمیان سازگار سیاسی فضا کو فروغ دینا ہے ۔ذرائع کے مطابق سیاسی قوتوں نے موجودہ حالات کے تناظر میں باہمی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے ۔اے پی سی کے حوالے سے جے یو آئی (ف) کی رکنِ قومی اسمبلی شاہدہ اختر علی نے \"دنیا\" کے استفسار پر کہا کہ انہیں بھی اطلاع ملی ہے کہ اے پی سی کے انعقاد پر مشاورت جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ ایسے لوگوں سے بیانات دلوائے جا رہے ہیں جن کی اپنی حیثیت ہی سوالیہ نشان ہے اور انہیں کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ہمیشہ واضح سمت کے ساتھ آگے بڑھی ہے تاہم کچھ لوگ معاملات اور ماحول کو آلودہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments