انسانی سمگلنگ عالمی جرم، فوری اصلاحات کی جائیں:لاہور ہائیکورٹ
صرف بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقلی انسانی سمگلنگ کا ثبوت نہیں:جسٹس امجد رفیق
لاہور (محمد اشفاق سے )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے لیبیا کشتی حادثہ کیس میں گرفتار ملزم طاہر کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انسانی سمگلنگ کو عالمی جرم قرار دیتے ہوئے فوری قوانین میں ترمیم کرکے اصلاحات لانے کی ہدایت جاری کردی۔ عدالت نے لیبیا کشتی حادثہ اور انسانی سمگلنگ کیس میں اہم قانونی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونا محض ایک مشکوک صورتحال پیدا کر سکتا ہے لیکن صرف اسی بنیاد پر اسے انسانی سمگلنگ یا منظم جرائم پیشہ گروہ کا رکن قرار نہیں دیا جا سکتا، صرف بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل ہونا انسانی سمگلنگ میں ملوث ہونے کا ثبوت نہیں، استغاثہ پر لازم ہے کہ وہ قابل قبول، ٹھوس اور آزاد شواہد کے ذریعے ثابت کرے کہ ملزم نے جان بوجھ کر جرم میں فعال کردار ادا کیا یا اس کا منظم جرائم پیشہ گروہ سے تعلق تھا ۔عدالت نے ملزم محمد طاہر کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔مدعی نے الزام لگایا کہ مختلف ایجنٹوں نے اٹلی بھجوانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے وصول کئے جن میں نو لاکھ روپے مدینہ ٹریڈرز کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے جو محمد طاہر کے نام پر تھا۔
عدالت نے ایف آئی اے کی تفتیش پر تنقید کرتے کہا کہ کیس میں مؤثر تفتیش نہیں کی گئی۔عدالت نے مزید قرار دیا کہ پاکستان میں انسانی سمگلنگ سے متعلق قوانین میں خامیاں ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے ۔ فیصلے میں خصوصی قواعدِ شہادت، بین الاقوامی قانونی معاونت اور تفتیشی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قانون سازی کی بھی سفارش کی گئی ۔دوسری طرف فاضل جج نے تھانہ سبزہ زار لاہور میں درج مقدمے میں گرفتارپارکنسن کے مریض ملزم ڈاکٹر افتخار احمد کی درخواست ضمانت بھی منظور کر لی، مقدمہ ایک بچے کے ختنہ کے دوران مبینہ طبی غفلت کے الزام میں درج کیا گیا تھا ۔جسٹس امجد رفیق نے کمزوری کو ضمانت کی مستقل قانونی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ضمانت کیلئے بیماری اورکمزوری الگ الگ قانونی بنیادیں ہیں، جیل رپورٹ میں جسمانی کمزوری ثابت ہو جائے تو عدالت بیماری کی شدت جانچے بغیر بھی ضمانت دے سکتی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments