عمران خان کی قید کے 3 سال لاہور سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے، گرفتاریاں
لاہور،کراچی،راولپنڈی(سیاسی نمائندہ، کورٹ رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی قید کے 3سال مکمل ہونے پر لاہورسمیت پنجاب کے کئی شہروں،کراچی اور اندرون سندھ شدید احتجاج کیا،پولیس نے ارکان اسمبلی سمیت متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا جبکہ کراچی میں مظاہرین پر شدید لاٹھی چار ج کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کی 5 اگست کے احتجاج کی کال کے سلسلے میں ایوانِ عدل لاہور کے باہر احتجاج کے دوران پولیس کی بھاری نفری نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا، پولیس نے تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی اویس ورک، احمر رشید بھٹی،رکن قومی اسمبلی مبین عارف جٹ،کئی کارکنوں اور وکلا کو حراست میں لے لیا جبکہ وکلا نے سلمان اکرم راجہ کو گرفتار کرنے کی کوشش ناکام بنادی ، لاہور بھر میں پی ٹی آئی کے 20 سے زائد کارکنوں کو مختلف مقامات سے گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ہیں، دوسری جانب انصاف یوتھ ونگ کی جانب سے کینال روڈ پر عمران خان کی رہائی کے حق میں ریلی بھی نکالی گئی، ریلی کی قیادت انصاف یوتھ ونگ سینٹرل پنجاب کے صدر بیرسٹر میاں حسن شکیل اور جنرل سیکرٹری دبیر الحسن شاہ نے کی ،ساہیوال میں انصاف یوتھ ونگ، پی ٹی آئی کے وکلا نے ریلی نکالی ، رحیم یار خان میں ضلعی جنرل سیکرٹری چودھری منظور احمد وڑائچ ایڈووکیٹ سمیت آٹھ کارکنوں کو حراست میں لے لیا، ملتان میں تحریکِ انصاف ضلع ملتان اور جنوبی پنجاب کی قیادت کے زیر اہتمام کچہری چوک میں احتجاجی دھرنا دیا گیا،احتجاج میں چو دھری خالد جاوید وڑائچ، سینیٹر عون عباس بپی، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین الدین ریاض قریشی، چیف وِہپ قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر دیگر رہنماؤں و کار کنوں نے شرکت کی ،ادھر پی ٹی آئی کراچی کے مظاہرین کو پولیس نے فوارا چوک پر روک دیا، لاٹھی چارج کرتے ہوئے پی ٹی آئی سندھ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مسرور سیال سمیت 10 کارکنوں کو حراست میں لے لیا،حیدرآباد، میرپورخاص، نواب شاہ، عمرکوٹ، مٹھی، ننگرپارکر، کنری، کھپرو، سانگھڑ، شاہپور چاکر، پنو عاقل، گھوٹکی، کندھکوٹ، کشمور، لاڑکانہ، شہدادکوٹ، دادو، سکھر، روہڑی، ڈھرکی، بدین، ٹنڈو محمد خان، کوٹری، جامشورو، جیکب آباد، بارڈر فارم اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے ، پنو عاقل میں چھ اور کندھکوٹ میں پندرہ کارکنوں کو بھی حراست میں لے کر مقدمات درج کیے گئے ہیں، ،پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے ڈاکٹر مسرور سیال سمیت پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتاریاں پولیس گردی اور سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہیں ، تحریک تحفظ آئین پاکستان پنجاب نے ایوانِ عدل کے باہر پولیس کارروائی، گرفتاریوں اور مبینہ تشدد کی مذمت کی ہے ، بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ غصے سے بپھری عوام خود نکلی تو اس کے نتائج بہت بھیانک ہوں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments