حکومت کی پی ٹی آئی کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت : بات کس معاملے اور کب ہوگی؟ : بیرسٹر گوہر
پی ٹی آئی کے عامر ڈوگر کی ایاز صادق، وزیر پارلیمانی امور سے ملاقات ، آپکی تجویز کردہ جگہ پر مذاکرات ہوسکتے :طارق فضل حکومت سنجیدہ رویہ اختیار کرے ،چیئرمین پی ٹی آئی ،پہلے شفا ف الیکشن پھر تبدیلی:سلمان راجہ،مارچ کیلئے لمبی تاریخ کیوں؟علیمہ
اسلام آباد ،لاہور،اسلام آباد،پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک،کورٹ رپورٹر،سیاسی نمائندہ وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دے دی۔پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگرنے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کی جس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امورڈاکٹر طارق فضل چودھری بھی شریک تھے ۔ملاقات میں حکومتی رہنماؤں نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دوبارہ دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں آپ کی تجویز کردہ جگہ پر مذاکرات ہوسکتے ہیں۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے اس موقع پر کہا کہ مذاکرات ہی سیاسی مسائل کا واحد حل ہیں، مذاکرات کے حوالے سے بال پی ٹی آئی کے کورٹ میں ہے ، وزیراعظم کی اپوزیشن لیڈر کو مذاکرات کی دعوت کا ابھی تک جواب نہیں آیا، توقع ہے کہ پی ٹی آئی مذاکرات کی دعوت کو سنجیدہ لے گی۔
دوسری طرف چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے حکومتی مذاکرات کی دعوت پر کہا ہے کہ ہمیں غیر ضروری بیانات اور فوٹو سیشن میں دلچسپی نہیں ،اگر مذاکرات کرنے ہیں تو حکومت سنجیدہ اور مخلصانہ رویہ اختیار کرے ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مذاکرات کس سے معاملے پر اور کب کرنے ہیں کسی کو معلوم ہی نہیں، مذاکرات کے حوالے سے زبانی کلامی یا غیر ضروری بیانات سے وقت ضائع ہوتا ہے ۔ادھر پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے پولیس تشدد کا نشانہ بننے والے صحافی ناطق ریحان کی رہائش گاہ پر جا کر ان کی عیادت کی اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ناطق ریحان پر پنجاب پولیس کا بدترین تشدد نہ صرف آزادیٔ صحافت بلکہ انسانیت کے خلاف بھی ایک ظلم ہے ۔
ناطق ریحان کوسلام پیش کرتے ہیں ، واقعے کا فوری مقدمہ درج کیا جائے ، ملکی سیاسی صورتحال پر بھی انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں پر بحث ہو سکتی ہے لیکن موجودہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں عوام کی حقیقی نمائندہ نہیں ہیں ۔ جب تک شفاف انتخابات نہیں ہوتے اور عوام کے حقیقی نمائندے ایوانوں میں نہیں آتے ، کسی بڑی آئینی یا انتظامی تبدیلی کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ 27 ستمبر کی احتجاجی کال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک روز کا احتجاج نہیں ہوگا بلکہ پوری قوم کو اپنے گھروں سے نکل کر جدوجہد میں شریک ہونا ہوگا ۔دوسری طرف عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی جانب سے 27 ستمبر کو لانگ مارچ کی کال پر کہا کہ یہ لوگ عمران خان کو انتظار کروا رہے ہیں، عمران خان مزید دو مہینے انتظار کریں؟ ہمیں تو اس کال کی سمجھ ہی نہیں آئی کہ اتنی دور کی تاریخ کیوں دی گئی۔ مجھے نہیں معلوم پشاورکاجلسہ کیسا ہوا ہے ، میں نے جلسہ نہیں دیکھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments