شہباز شریف، فیلڈ مارشل سے وزیر خارجہ ناروے کی ملاقاتیں

شہباز شریف، فیلڈ مارشل سے وزیر خارجہ ناروے کی ملاقاتیں

تیل ، گیس کی تلاش میں سرمایہ کاری کریں:وزیراعظم ، ایسپن بارتھ ڈار سے بھی ملے

اسلام آباد(نامہ نگار،دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک) ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں۔ اس دوران تجارت ،دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں باہمی روابط اور تعاون کو  وسعت دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے مختلف وزارتوں کے درمیان زیرالتوا متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا گیا۔شہباز شریف سے ناروے کے وزیر خارجہ نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی،وزیراعظم نے پاکستان اور ناروے کے درمیان گرم جوش اور دوستانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ ناروے کے دوطرفہ تعاون، بالخصوص تعلیم، ہنرمند افرادی قوت، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت (کلائمیٹ ریزیلینس) اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو سراہا۔

ناروے کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کیلئے پاکستان کی گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ، وزیراعظم نے نارویجن کمپنیوں کو پاکستان میں تیل اور گیس کی تلاش کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ علاقائی اور عالمی صورتحال پر بات چیت کے دوران، وزیراعظم نے فلسطین کی حمایت میں ناروے کے مضبوط اور اصولی موقف کو بھرپور انداز میں سراہا۔ انہوں نے خلیجی خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کی مسلسل حمایت کرنے پر بھی ناروے کا شکریہ ادا کیا۔ناروے کے وزیر خارجہ نے پرتپاک استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور انہیں ناروے کے وزیراعظم جوناس گہر سٹور کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے علاقائی امن کی کوششوں میں پاکستان کے اہم کردار کی تعریف کی اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں ناروے کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔

وزیر خارجہ نے خاص طور پر ناروے میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مثبت کردار کو سراہا۔ وزیراعظم نے ناروے کے وزیراعظم کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی۔فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں ایسپن بارتھ ایدے کی قیادت میں اعلیٰ سطح وفد نے ملاقات کی، پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر )کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی صورتحال، پاکستان اور ناروے کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عالمی امن اور علاقائی استحکام سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون اور اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ناروے کے وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاک فوج کے پیشہ ورانہ کردار کو سراہا۔ انہوں نے دونوں جانب سے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

ملاقات میں دونوں جانب سے دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں باہمی روابط اور تعاون کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ناروے وزیرخارجہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی دعوت پر 13 سے 14 اگست تک پاکستان کا سرکاری دورہ کررہے ہیں۔ ایئرپورٹ پر ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ (یورپ) عائشہ علی نے استقبال کیا۔ناروے کے وزیرخارجہ کے وزارت خارجہ پہنچنے پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے خیرمقدم کیا،دونوں وزرائے خارجہ نے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوں کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔\اس موقع پر وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوئے ۔دونوں جانب سے تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، بحری امور اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوں کا جائزہ لیا گیا۔

دونوں فریقوں نے ناروے میں مقیم پاکستانی تارکینِ وطن کے اہم کردار کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔گرمجوش اور دوستانہ تعلقات کی موجودہ صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کی علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ناروے کے وزیر خارجہ نے حالیہ ایران-امریکا تنازعہ کے دوران پاکستان کے اہم اور تعمیری کردار کو سراہا۔ناروے کے وزیرخارجہ نے دفتر خارجہ میں پودا بھی لگایا۔ وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نے کہا کہ پاکستان اور ناروے کے درمیان دوطرفہ تجارت اس وقت دونوں ممالک کی معیشتوں کی استعداد سے کم ہے اور موثر اقدامات کے ذریعے اسے مزید بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ یہ دورہ 2016 کے بعد ایک دہائی میں ناروے کے کسی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ناروے کی کمپنیوں کیلئے سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیش کرتا ہے اور یہ امر خوش آئند ہے کہ ناروے کی متعدد معروف کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ انہوں نے ناروے کی کمپنی یارا انٹرنیشنل اور پاکستان کی ایک مقامی کھاد کمپنی کے درمیان پلانٹ نیوٹریشن کے شعبے میں قائم کیے جانے والے مشترکہ منصوبے کو ایک مثالی منصوبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی گرم جوش، تعمیری اور جامع بات چیت کے دوران مختلف وزارتوں کے درمیان زیر التوا متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا گیا۔ بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی شراکت داری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ناروے کیلئے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں پانچ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ بحری امور میں تعاون کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان دنیا میں جہازوں کی ری سائیکلنگ کی بڑی سہولیات میں سے ایک کا حامل ہے اور اس کا تزویراتی محل وقوع اسے ناروے سے آنے والے جہازوں کیلئے اس بحری خطے میں سب سے زیادہ مسابقتی اور قریب ترین جہاز ری سائیکلنگ مرکز بناتا ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ناروے نے عوامی سطح پر روابط بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کیلئے پاکستان کی سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پاک ناروے پارلیمانی دوستی گروپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فریقین پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت کیلئے قانونی راستوں پر کام جاری رکھنے پر بھی متفق ہیں جبکہ انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی کے تدارک کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ انہوں نے ناروے کے وزیر خارجہ کو تنازعہ جموں و کشمیر سے آگاہ کیا جو طویل عرصے سے حل طلب بین الاقوامی تنازعات میں شامل ہے ، انہوں نے کہا کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کرکے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پہلے سے موجود کشیدہ سکیورٹی صورتحال کو خراب کیا ہے ۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا سلسلہ ختم کرے اور اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے تحت معاہدے کی پاسداری کرے ۔

نائب وزیراعظم نے ناروے کے وزیر خارجہ کو امریکا اور ایران کے تنازع کے حوالے سے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور پرامن حل کے فروغ کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہنے پر ناروے کا شکریہ ادا کیا جبکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیلئے مسلسل رابطہ بھی برقرار رہا ہے ۔ اسحاق ڈار نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نے اس موقع پر ناروے میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کی خدمات کو اجاگر کیا اور ای ایف ٹی اے -پاکستان فریم ورک کے ذریعے تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی حمایت کی۔ انہوں نے ایران پر اسرائیلی وامریکی حملے کے بعد امن مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کے کردار کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور ریاستوں کا تحفظ سب کے لیے یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ امن کے لیے ثالثی اور سہولت سے واقف ہونے کے ناطے میں جانتا ہوں کہ یہ کتنا مشکل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ جب آپ اسلام آباد کو نہ صرف ان مذاکرات کے مقام بلکہ ان میں سہولت کاری کے مرکز کے طور پر پیش کرتے ہیں تو آپ کتنی بڑی ذمہ داری اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے ذاتی طور پر، پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے جو کچھ کیا ہے ، وہ دنیا کے لیے اور ہمارے لیے بھی ایک حقیقی خدمت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں نے علاقائی استحکام بشمول جموں و کشمیر اور افغانستان سے پیدا ہونے والے سکیورٹی چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ناروے کے دونوں ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں جن میں فلسطین کیلئے دو ریاستی حل کے حوالے سے سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ کوششیں بھی شامل ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کو خارجہ پالیسی کا ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے اور پاکستان کے شدید سیلابوں سے متاثر ہونے کی نشاندہی کرتے ہوئے ناروے کے وزیر خارجہ نے مسلح تنازعات کے خاتمے پر زور دیا تاکہ عالمی توجہ موسمیاتی تبدیلی، قدرتی ماحول کے تحفظ، عالمی صحت اور غربت کے خاتمے جیسے مشترکہ چیلنجز کی جانب مرکوز کی جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...