بھارت سال بعد بھی معرکہ حق کی تلخ حقیقت کا سامنا کرنے سے انکاری : آئی ایس پی آر

بھارت سال بعد بھی معرکہ حق کی تلخ حقیقت کا سامنا کرنے سے انکاری : آئی ایس پی آر

دستاویزی فلم بیک وقت المیہ اور مزاح، شکست تسلیم کرنے کے بجائے تاریخ کو اپنی پسند کا رنگ دیا، مقصد داخلی بیانیہ تشکیل دینا پاک مسلح افواج نے بھارتی جارحیت ناکام بنائی، 8فوجی طیارے مار گرائے ، آئندہ بھی کسی مہم جوئی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا

 راولپنڈی (دنیا رپورٹ،مانیٹرنگ ڈیسک) افواج پاکستان نے بھارتی فلم سندور 2 پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ معرکہ حق کا ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی بھارت شکست کی تلخ حقیقت تسلیم کرنے سے انکاری ہے ۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ناکام مہم میں شکست تسلیم کرنے کے بجائے بھارت نے تاریخ کو اپنی پسند کے رنگ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تاریخ کو اس طرح مسخ کرنے کے لیے بھارتی مواد تخلیق کاروں نے نام نہاد آپریشن سندور کا ایک انتہائی ڈرامائی، رنگین اور حقائق کے اعتبار سے غلط بیان تیار کیا ہے جسے ایک ایسی دستاویزی فلم کی شکل دی گئی ہے جس میں بھارت کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت شامل ہے ۔ سنجیدگی اور باریک بینی کے فقدان کے باعث اس دستاویزی فلم کو بیک وقت المیہ بھی اور مزاحیہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے ۔ منتخب انٹرویوز کی تدوین، جذباتی بیانیہ اور بالی ووڈ طرز کی سینماٹک منظرکشی کے ذریعے ثابت شدہ حقائق کو تبدیل اور آپریشنل نتائج کو ازسرنو لکھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ دستاویزی فلم کا بیان بنیادی تضادات سے بھرا ہوا ہے ، جو واقعات کی ایک ایسی تاخیر سے تیار کی گئی تعبیر کو بے نقاب کرتے ہیں جس کا مقصد داخلی طور پر قابلِ قبول بیانیہ تشکیل دینا ہے۔

دستاویزی فلم پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف کے 16 اپریل 2025 کے خطاب اور 22 اپریل 2025 کے پہلگام واقعے کے درمیان دانستہ تعلق قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے اور یوں ایک بے بنیاد سازشی نظریہ گھڑتی ہے ۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ بھارت نے بعد ازاں دعویٰ کیا کہ پہلگام واقعے کے تین مبینہ ذمہ دار افراد کی شناخت کرکے انہیں 28 جولائی 2025 کو ہلاک کر دیا گیا، یعنی نام نہاد آپریشن سندور کے 82 دن بعد۔ تاہم دستاویزی فلم آپریشن سندور کو پہلگام کے ذمہ داران کے خلاف سزا کے طور پر پیش کرتی ہے ۔ اگر مبینہ ذمہ دار افراد 28 جولائی کو ہلاک کیے گئے تھے تو بھارت کو وضاحت کرنا ہو گی کہ 7 مئی 2025 کو اس کے دعوے کے مطابق کس کو سزا دی گئی تھی؟ "100 فیصد مشن کامیابی" کا دعویٰ بھی آپریشنل ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ معرکۂ حق کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کو کامیابی سے ناکام بنایا اور 8 فوجی طیارے مار گرائے ۔ اس کے بعد پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص انجام دیا جس میں فتح پریسیژن گائیڈڈ راکٹس و میزائلز، پاک فضائیہ کے پریسیژن ہتھیار، طویل فاصلے تک مار کرنے والے لائٹرنگ میونیشنز اور پریسیژن آرٹلری استعمال کیے گئے ۔ ان ہتھیاروں کے ذریعے 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں وہ تنصیبات بھی شامل تھیں جو پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی گئی تھیں، نیز وہ عناصر بھی شامل تھے جو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دینے میں ملوث تھے۔

خود دستاویزی فلم بھی بھارت کی واضح بالادستی کے دعوے کو کمزور کرتی ہے ۔ بھارتی عسکری قیادت نے پاکستانی میزائل، ڈرون اور فضائی سرگرمیوں، لائن آف کنٹرول پر جاری رہنے والی جھڑپوں اور بھارتی فضائی دفاعی نظام فعال کیے جانے کا اعتراف کیا ہے ۔ یہ اعترافات اس بار بار دہرائے جانے والے مؤقف سے مطابقت رکھنا مشکل ہیں کہ پاکستان کو فیصلہ کن شکست دی گئی۔ جنگ بندی کے حوالے سے بھی دستاویزی فلم کا بیان کم انکشاف انگیز نہیں۔ اس کی اپنی بیانیہ آواز اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ دشمنی کا خاتمہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطے اور فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق کے ذریعے ہوا۔ یہ امر بذاتِ خود آپریشن سندور کو یک طرفہ بھارتی فوجی فتح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی نفی کرتا ہے ۔ امریکہ کی معاونت سے ہونے والی جنگ بندی کو بعد ازاں غیر مشروط فتح کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ دستاویزی فلم کشیدگی بڑھنے کے محرکات کے حوالے سے بھی اپنے آپ سے متصادم ہے ۔ ایک طرف یہ بار بار اچانک حملے ، درست نشانہ بازی، گہرائی تک کیے گئے حملوں اور کشیدگی پر غلبے کو اجاگر کرتی ہے جبکہ دوسری جانب دعویٰ کرتی ہے کہ بھارت نے جان بوجھ کر تنازع کو محدود رکھا اور پاکستان کو "پسپائی کا راستہ" فراہم کیا۔ یہ متضاد دعوے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ فلم ایک غیر جانب دار عسکری تجزیے کے بجائے داخلی طور پر قابلِ قبول بیانیہ تشکیل دینے کی ایک منظم کوشش ہے۔

بھارت حقیقت کو منظرِ عام پر نہیں لایا۔ اس نے ایک فوجی ناکامی کو کامیاب کارروائی کے طور پر پیش کرنے کے لیے ایک پروپیگنڈا ویڈیو تیار کی ہے ۔ سینما کی کوئی بھی ڈرامائی منظرکشی تاریخی واقعات کو تبدیل نہیں کر سکتی، طیاروں کے نقصانات کو مٹا نہیں سکتی، فوجی ہلاکتوں کو چھپا نہیں سکتی، حقیقی فوجی جھڑپوں کو بدل نہیں سکتی اور میدانِ جنگ کی شکست کو خود ساختہ فتح میں تبدیل نہیں کر سکتی۔ پاکستان کو معرکۂ حق کے بارے میں کوئی بیانیہ گھڑنے کی ضرورت نہیں۔ آپریشنل ریکارڈ، میدانِ جنگ کے شواہد، سفارتی روابط اور بھارت کے اپنے بعد کے بیانات خود گواہی دیتے ہیں اور عالمی برادری کی جانب سے بھی وسیع پیمانے پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ پاکستان علاقائی امن اور استحکام کے لیے پُرعزم ہے ۔ تاہم پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار اور مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ مستقبل میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کا جواب مضبوط، فیصلہ کن اور غیر متناسب انداز میں دیا جائے گا جس کے بعد سینما کے ذریعے کی جانے والی کوئی بھی من گھڑت کہانی بھارت کو چہرہ بچانے کا موقع فراہم نہیں کر سکے گی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...