بلاول کے بیانات نے نئی صف بندی کے امکانات بڑھا د ئیے
پی پی جنوبی پنجاب صوبے کی حمایتی ،سندھ کی تقسیم سیاسی مفاد پر اثرڈال سکتی
(تجزیہ :سلمان غنی )
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فاصلے ظاہر کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں پیپلزپارٹی کو انتخاب ہرایا گیا، حکومت کا اتحادیوں کے ساتھ سلوک اچھا نہیں اور جب تک تحفظات دور نہیں کیے جاتے حکومت سے تعاون ممکن نہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ قومی معاملات پر تعاون جاری رہے گا۔نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے بلاول بھٹو نے براہِ راست مخالفت سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ پیپلزپارٹی صوبوں کی مخالف ہے ۔ جب تک کوئی اسمبلی نئے صوبوں کی مخالفت نہیں کرتی پیپلزپارٹی اس معاملے پر عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ بلاول بھٹو نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حوالے سے بھی نرم طرزِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ وہ صحت مند رہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے پیپلزپارٹی کے روابط ہیں اور سیاسی جماعتوں کو مل کر بات کرنی چاہیے ۔ ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ موجودہ سیاسی صورتحال میں محتاط طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ اپوزیشن سے رابطوں کا سلسلہ بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور حکومت کے ساتھ معاملات کو بھی کسی حتمی ٹکراؤ تک لے جانے سے گریز کر رہے ہیں۔کشمیر کے انتخابی عمل پر پیپلزپارٹی کے تحفظات اس کوشش کا حصہ بھی قرار دئیے جا سکتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں پارٹی کے سیاسی اثر و رسوخ اور تنظیمی حیثیت کو برقرار رکھا جائے ، تاہم ان اعتراضات کو مؤثر بنانے کیلئے پیپلزپارٹی کو شواہد کے ساتھ آئینی اور انتخابی فورمز سے رجوع کرنا ہوگا۔ اسی طرح نئے صوبوں کے معاملے پر بھی اسے واضح کرنا ہوگا کہ وہ اصولی طور پر نئے صوبوں کے حق میں ہے یا سیاسی حالات کے مطابق مؤقف اختیار کر رہی ہے ۔پارٹی کے بعض حلقوں کے مطابق اہم فیصلوں میں صدر آصف علی زرداری کا کردار بھی بدستور اہم ہے ۔ وہ مشکل سیاسی حالات میں راستہ نکالنے اور حکومت و دیگر فیصلہ ساز حلقوں کے ساتھ معاملات آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں پیپلزپارٹی بیک وقت حکومت کے ساتھ تعاون اور سیاسی فاصلہ برقرار رکھنے کی پالیسی پر گامزن دکھائی دیتی ہے ۔ جہاں قومی یا حکومتی مفاد میں اتفاق ہوگا وہاں تعاون، جبکہ سندھ، کشمیر یا پارٹی کے سیاسی مفادات متاثر ہونے کی صورت میں اختلاف کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے ۔نئے صوبوں کے معاملے میں عمومی تاثر یہ رہا ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرے گی، تاہم بلاول بھٹو کے حالیہ بیان نے پارٹی کا مؤقف قدرے محتاط بنا دیا ہے ۔ پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت کرتی رہی ہے کیونکہ اس سے پنجاب کی موجودہ سیاسی مرکزیت کم ہو سکتی ہے ، لیکن سندھ کی تقسیم اس کیلئے زیادہ حساس معاملہ ہے اور اس کے سیاسی مفادات پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے ۔مجموعی طور پر پیپلزپارٹی کے موجودہ طرزِ عمل کو حکومت سے مستقل دشمنی کے بجائے سیاسی دباؤ، مذاکرات اور طاقت کے توازن کی حکمت عملی سمجھا جا سکتا ہے ۔ اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ بلاول بھٹو کے تحفظات محض بیانات تک محدود رہتے ہیں یا پارٹی حکومت کے خلاف کوئی عملی سیاسی قدم اٹھاتی ہے ۔ آنے والے دنوں میں کشمیر کے انتخابی نتائج، نئے صوبوں کی تشکیل اور حکومت سے تعلقات کے معاملات پیپلزپارٹی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کا تعین کریں گے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments