کوئی تماشائی تھا تو سزا مل گئی، ہم مداخلت نہیں کرنا چاہتے :ہائیکورٹ

 کوئی تماشائی تھا تو سزا مل گئی، ہم مداخلت نہیں کرنا چاہتے :ہائیکورٹ

ایڈووکیٹ جنرل نے یقین دلایا تھا جو ملوث نہیں رہا ہو جائیں گے :جسٹس خادم حسین ہجوم میں شرارتی بھی ہوتے ، طلبا ہیں، کسی کا امتحان ہوگا:ریمارکس، سماعت ملتوی کر دی

اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس عمیر مجید ملک پر مشتمل ڈویژن بینچ نے احتجاج پر درج مقدمہ خارج کرنے کے حوالے سے دائر درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل کی عدم دستیابی کے باعث سماعت ملتوی کر دی۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے دوران سماعت کہا کہ اگر کوئی تماشائی بن کر کھڑا تھا تو جو سزا ملنی تھی مل گئی، ہم تفتیش کے مرحلے میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے ۔ جسٹس خادم حسین نے ریمارکس دیئے کہ ایڈووکیٹ جنرل سے کہا تھا بچے ہیں نوجوان ہیں جذباتی ہو جاتے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے یقین دہانی کرائی تھی کہ شناخت پریڈ قانون کے مطابق ہوگی اور جو ملوث نہیں رہا ہو جائیں گے ، ہجوم میں شرارتی بھی ہوتے ہیں، طلباء ہیں، کسی کا امتحان ہوگا۔ پراسیکیوٹر جنرل منظوراحمد ججہ نے کہا کہ 30 لوگوں کی شناخت پریڈ ہو گئی 95 کی ابھی ہونی ہے ۔ کل اے ٹی سی میں رپورٹ جمع کرائیں گے جو ملوث نہیں رہا ہو جائے گا۔ ایک ہفتے کا وقت دے دیں۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے کہاکہ ایک ہفتے بعد کی تاریخ دے دیتے ہیں اور ایک آرڈر پاس کر دیں گے ، سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کر دی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...