میرا اور نوازشریف کا ذہن ایک ، میں بول رہا وہ خاموش : فضل الرحمٰن

 میرا اور نوازشریف کا ذہن ایک ، میں بول رہا وہ خاموش : فضل الرحمٰن

محسن نقوی کے حوالے سے اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں،انکا وزیر داخلہ بننا نظام کے کولیپس کرنے کی بڑی علامت صوبوں کا معاملہ اصل میں این ایف سی کا معاملہ ، گھر میں آگ لگی ہو تو تقسیم کی بات نہیں ہونی چاہیے :صحافیوں سے گفتگو

لاہور(سیاسی نمائندہ ،سٹاف رپورٹر)جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ صوبوں کا معاملہ اصل میں این ایف سی کا معاملہ ہے ، آئین کہتا ہے کہ این ایف سی میں اضافہ ہوسکتا ہے ، کمی نہیں ہوسکتی، جب گھر میں آگ لگی ہو تو تقسیم کی بات نہیں ہونی چاہیے ۔ پارلیمنٹ دھاندلی سے بنی ہے ، پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد ابھی پارلیمان کی حد تک ہے ، گراؤنڈ لیول پر کوئی سیاسی اتحاد  نہیں ہے ،نظام کولیپس کرچکا ہے اور محسن نقوی کا وزیرِ داخلہ بننا نظام کے کولیپس کرنے کی سب سے بڑی علامت ہے ۔ محسن نقوی کے حوالے سے میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں، جو میرا ذہن ہے وہی نوازشریف کا ذہن ہے یہ اور بات ہے کہ میں بو ل رہا ہوں اور وہ خاموش ہیں ، لاہور میں سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی کے گھر دعوت کے موقع پر انہوں نے کہاکہ مقتدر لوگ حکمرانی کی ذہنیت کے ساتھ اپنی معروضی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑے فیصلے کرلیتے ہیں،مقتدرہ ہمیشہ نئے صوبوں کی مخالف رہی ہے لیکن آج خود نئے صوبوں کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں۔

الحمدللہ پنجاب میں امن و امان ہے لیکن دو صوبوں میں امن و امان تباہ ہے ، کے پی میں عملاً کوئی حکومت نہیں ہے ۔ طالبان نے بعض علاقوں میں اپنی حکومت بنائی ہوئی ہے وہ حکومت سے زیادہ ٹیکس بھی وصول کرتے ہیں۔ میرے بیٹوں پر حملے ہوتے ہیں میرے بھتیجوں پر حملے ہوئے ہیں کیونکہ ہم بھتہ نہیں دیتے ، ہم سے بھی بھتہ مانگا جاتا ہے ،میں نے دو دفعہ پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر ان کیمرہ اجلاس کا مطالبہ کیا کہ ہمیں ملک کی اصل صورت حال بتادی جائے لیکن نہیں مانا گیا۔ پاکستان میں پاکستان کے سرمایہ دار سرمایہ کاری کررہے ہیں نہ ہی باہر کے سرمایہ دار ۔ ہماری تجارت کا دارومدار وسطی ایشیا پر تھا لیکن اب تجارت بھی بند ہے ۔ ہماری سبزیاں اور پھل وسطی ایشیا جاتے تھے ، اب نہیں جا رہے ،این ایف سی ایوارڈ ان سے ہضم نہیں ہورہا اور معدنی ذخائر صوبوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں یہ ان کے لئے ناقابل قبول ہے۔ میرے پاس آکر امریکی عہدیداروں نے کہا کہ ہم معدنی ذخائر میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو میں نے کہا ہمیں یہ معاملات پبلک میں لاکر کرنا چاہئیں اور اس میں وفاق، صوبوں اور عوام کا حصہ متعین ہونا چاہیے۔

وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں میں توازن کے ساتھ اختیارات تقسیم کیے جائیں تو مسائل حل ہو جائیں گے ۔ سسٹم کو کوئی خطرہ تو نہیں کے جواب میں انہوں نے برجستہ کہا کہ ’’ سسٹم ہوتو خطرہ ہو‘‘ ،چھبیسویں ترمیم میں ہم نے انہیں پینتیس شقوں سے دستبردار کرایا جو ہمارے اور پی ٹی آئی کے اشتراک اور مشاورت کا نتیجہ تھا۔ بعد ازاں بے تکلفانہ نشست میں سیاسی زندگی کے واقعات اور دلچسپ یادیں شیئر کرتے رہے ۔ جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری، صوبائی سیکرٹری جنرل حافظ نصیر احمد احرار، صوبائی ترجمان حافظ غضنفر عزیز، مولانا طیب حیدری بھی ان کے ہمراہ تھے جبکہ نشست میں سینئر صحافی سہیل وڑائچ، حفیظ اللہ نیازی، عاصم نصیر، سلمان غنی، نوید چودھری، حبیب اکرم، منصور علی خان ،نوشاد علی، نصراللہ ملک، فرخ شہباز وڑائچ، سلمان حسن، عثمان مجیب شامی ودیگر بھی موجود تھے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...