شبر زیدی کے خلاف مبینہ ہتک عزت پر فوجداری شکایت دائر
جماعت اسلامی قیادت پر خفیہ ادائیگیاں وصول ، سیاسی بے ایمانی کے الزامات عائد کئے الزام واپس لیا نہ ثبوت فراہم ، ملزم کو قانون کے مطابق سزا دی جائے ، توفیق صدیقی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی نے سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے خلاف مبینہ ہتک عزت پر فوجداری شکایت دائر کردی، جماعت اسلامی نے شبر زیدی پر پارٹی کو خفیہ مالی معاونت اور احتجاجی تحریکوں کو کمزور کرنے کے لیے رقم لینے کے الزامات عائد کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ جماعت اسلامی کے مجاز نمائندے توفیق الدین صدیقی کی جانب سے جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی کی عدالت میں ضابطہ فوجداری کی دفعات کے تحت شکایت دائر کی گئی، جس میں سید محمد شبر زیدی کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 10 جون 2026 کو آن لائن پروگرام میں شبر زیدی نے جماعت اسلامی سے متعلق مبینہ طور پر ہتک آمیز بیانات دیے ، ان بیانات سے یہ تاثر دیا گیا کہ جماعت اسلامی ایک آزاد سیاسی تنظیم نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کا خفیہ فائر وال ہے ، اسے خفیہ طور پر مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے اور احتجاجی مظاہروں کو کنٹرول یا کمزور کرنے کے لیے رقم دی جاتی ہے ، شبر زیدی نے جماعت اسلامی کی قیادت پر خفیہ ادائیگیاں وصول کرنے ، سیاسی بے ایمانی اور مالی بدعنوانی کے الزامات عائد کیے۔
جماعت اسلامی نے مؤقف اختیار کیا کہ ’’رقم لینے ‘‘کا الزام محض سیاسی رائے نہیں بلکہ ایک قابل تصدیق مالی لین دین سے متعلق دعویٰ ہے ، جس کے لیے ادائیگی کرنے والے اور وصول کنندہ، رقم، تاریخ، طریقہ کار اور مالی ریکارڈ موجود ہونا ضروری ہے ۔ شبر زیدی نے مبینہ طور پر جماعت اسلامی کو 10 لاکھ روپے کی ادائیگی کا بھی ذکر کیا، تاہم اس حوالے سے کسی ادائیگی کی دستاویز، بینک ریکارڈ، گواہ یا ذریعے کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ ملزم سابق چیئرمین ایف بی آر رہ چکے ہیں، اس لیے مالی معاملات سے متعلق ان کے بیانات کو عام شخص کے مقابلے میں زیادہ اہمیت اور اعتبار حاصل ہوتا ہے ۔ سابق عہدے کی وجہ سے شبر زیدی پر کسی بھی مالی بدعنوانی کے الزام کی تصدیق کے لیے زیادہ احتیاط لازم تھی۔ الزامات کے نتیجے میں جماعت اسلامی کی سیاسی، تنظیمی اور عوامی ساکھ متاثر ہوئی، جبکہ کارکنوں، ارکان، ووٹرز، حامیوں اور دیگر افراد نے تنظیم کے نمائندوں سے مبینہ الزامات کے بارے میں سوالات بھی کیے۔
شبر زیدی کو 27 جولائی 2026 کو قانونی نوٹس بھیجا گیا تھا، جس میں مبینہ الزامات واپس لینے ، غیر مشروط معافی مانگنے ، مبینہ رقم دینے اور وصول کرنے والے افراد کے نام، رقم، تاریخ اور طریقہ کار بتانے اور متعلقہ شواہد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ شبر زیدی کی جانب سے ان کے وکیل نے 20 اگست 2026 کو قانونی نوٹس کا جواب دیا، تاہم جواب میں مبینہ الزام واپس نہیں لیا گیا اور نہ ہی جماعت اسلامی کے مطابق ادائیگی سے متعلق کوئی قابل تصدیق ثبوت فراہم کیا گیا۔ جماعت اسلامی نے عدالت سے استدعا کی کہ شکایت پر قانون کے مطابق نوٹس لیا جائے ، مجاز نمائندے اور گواہان کے بیانات قلمبند کیے جائیں، ملزم کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ کے تحت کارروائی شروع کی جائے اور تعزیرات پاکستان کی دفعات کے تحت فوجداری ہتک عزت کے مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے طلب کیا جائے ۔ شکایت میں عدالت سے آن لائن انٹرویو کی مکمل اور غیر ترمیم شدہ ریکارڈنگ، خام فوٹیج، پروگرام ریکارڈ، اپ لوڈ اور اشاعت کا ریکارڈ بھی طلب کرنے کی استدعا کی گئی ہے ۔ جماعت اسلامی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مقدمے کی سماعت کے بعد ملزم کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments