گورننس بحران سے نئے صوبوں کی بحث کو تقویت ملی
صوبائی حکومتیں اضلاع کی طرف سیاسی، انتظامی اور مالی خودمختاری دینے کو تیار نہیں
(تجزیہ:سلمان غنی)
ملک میں جاری نئے صوبوں، انتظامی یونٹس اور مضبوط بلدیاتی سسٹم کے حوالے سے جاری بحث میں اصل ایشوز کیا ہیں جن کی بنیاد پر یہ بحث کا سلسلہ جاری ہے ، اس میں بنیادی بات گورننس کا عمل ہے اور اب یہ بات ہر سطح پر چلتی نظر آ رہی ہے کہ ملک کو جس انداز میں چلایا جا رہا ہے وہ چل نہیں سکے گا ،کیونکہ مسئلہ صرف گورننس کے بحران کا بھی نہیں بلکہ سیاسی ،جمہوری، آئینی، قانونی، عدالتی، انتظامی، انسانی حقوق، آزادی اظہار اور شہری آزادیوں کا بھی ہے جس نے ملک کی جمود کی صورتحال کو بگاڑ دیا ہے اور اب سرجوڑ کر حالات کی تبدیلی میں سب اپنے اپنے انداز میں رنگ بھرتے نظر آ رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ معاملات آگے چل پائیں گے اور سسٹم میں تبدیلی کیلئے اقدامات پر اتفاق رائے ہوسکے گا اور کیا یہ معاملات پارلیمنٹ کے ذریعہ طے ہوں گے یا کوئی اور آپشن بروئے کار لانے پڑیں گے ۔حکومت کے قیام میں تبدیلی کی باتیں سامنے آ رہی ہیں کہ نظام بنائے گا کون اور چلائے گا کون، یہ ابھی واضح نہیں ہو رہا ۔ اس طرح یہ اتفاق بھی سامنے آیا کہ کس صوبے میں کتنے صوبے بنیں گے ،اس کا طریق کار کیا ہوگا ،نئے صوبوں کی تشکیل بارے بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ ن کے تحفظات ہیں ۔پیپلزپارٹی کی لیڈرشپ کوئی لچک دینے کو تیار نہیں اور خود اس حوالے سے اندرون سندھ سے ردعمل شروع ہے ۔ پیپلزپارٹی احتجاجی تحریک کی بات بھی کرتی نظر آ رہی ہے ۔ اس صورتحال میں بڑی ذمہ داری ن لیگ کی لیڈرشپ اور خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف پر آتی ہے ، کیونکہ ان کی حکومت کے مستقبل کا انحصار کسی بڑے بحرانی کیفیت سے بچنے میں ہے۔
گورننس کے بحران کی ایک بڑی وجہ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کی عدم کارکردگی بھی ہے اور عوام میں حکمرانی کے نظام پر مایوسی کاپیدا ہونا سمیت صوبائی حکومتوں کی جانب سے خودمختار مقامی حکومتوں کے نظام سے انحراف بھی ہے ۔ صوبائی حکومتیں اس وقت بھی عملی طور پر صوبائی مرکزیت کی بنیاد پر نظام کو چلا رہی ہیں۔ وہ صوبوں سے اضلاع کی طرف سیاسی ،انتظامی اور مالی خودمختاری دینے کو تیار نہیں اور صوبے کے نظام کو مقامی حکومتوں کے مقابلہ میں کمیٹیوں اور اتھارٹیز کے ذریعے چلا رہی ہیں،اس طرح وہ خود 18 ویں ترمیم کی خلاف ورزی کی مرتکب بھی ہوئی ہیں۔ صوبوں سے فنڈنگ اضلاع کو منتقل نہیں کی گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے جہاں گورننس کے مسائل پیدا ہوئے ہیں وہاں نئے صوبوں کی بحث کو تقویت ملی ہے ۔ اگر صوبائی حکومتیں مقامی حکومت کے نظام کو مکمل طور پر سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دیکر تسلیم کرتیں تو نئے صوبوں کا مطالبہ زور نہ پکڑتا ۔ صوبائی حکومتوں نے اپنی پسند کی بنیاد پر بڑے شہروں کے نظام کو مضبوط بنایا اور دوردراز کے شہروں اور قصبات کو ترجیح نہ دی، جس سے لوگوں میں محرومی بڑھی۔ لیکن اب واقفان حال مصر ہیں کہ نئے صوبوں کی تجویز پر عملدرآمد ہوگا اور اب یہ عمل روکے نہیں رکے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ عمل اتفاق رائے سے ہی ہوگا تو بہتر مؤثر اور نتیجہ خیز ہوگا ،اس پر پیش رفت ہونی چاہئے ، مسائل میں الجھنے کی بجائے سلجھانے کا ذریعہ اختیار کرنا چاہئے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments