کوہاٹ مسجد حملہ،15پولیس اہلکاروں سمیت21شہید،103زخمی

کوہاٹ  مسجد  حملہ،15پولیس  اہلکاروں  سمیت21شہید،103زخمی

نماز جمعہ کے دوران بارود سے بھری گاڑی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی، مسجد کے باہر گڑھا،دیوار گر گئی،7دہشتگرد داخل ،فائرنگ کے دوران ایک اور خودکش دھماکا،مقابلے میں تمام حملہ آور مارے گئے شہدا میں ایس پی ٹریفک ،انسپکٹر ایف آر پی بھی شامل، سعودی عرب ،روس و دیگر کی مذمت، خوارج اور بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کیلئے ناگزیر:صدر، وزیراعظم

کوہاٹ،اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نامہ نگار، دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کے قریب واقع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش بم دھماکے اور مسلح دہشتگردوں کے حملے کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکاروں سمیت 21 افراد شہید جبکہ 103زخمی ہو گئے ۔زخمیوں میں 73 پولیس اہلکار اور 30 شہری شامل ہیں۔دھماکا دوپہر ایک بج کر 15 منٹ کے قریب ہوا۔ آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے بتایا کہ بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ ٹکرائی، گاڑی ٹکرانے کے بعد دھماکا ہوا اور فائرنگ بھی ہوئی، فائرنگ کے دوران سپیشل برانچ کی عمارت پر ایک اورخودکش دھماکاہوا۔دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کے نتیجے میں مسجد کے باہر گڑھا پڑ گیا، بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا اور دیوار بھی گر گئی، جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی نمایاں نقصان پہنچا۔سنٹرل پولیس آفس پشاور کے مطابق 7 مسلح دہشتگرد پولیس لائنز میں داخل ہوئے ، کچھ پولیس لائن میں واقع سی ٹی ڈی کی عمارت کی جانب بڑھنا چاہتے تھے ، تاہم پولیس کی بروقت کارروائی میں انہیں موقع پر ہلاک کر دیا گیا جبکہ کچھ دہشت گرد سپیشل برانچ کی عمارت کی جانب چلے گئے ۔پولیس اور سی ٹی ڈی نے دہشتگردوں کا بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے 6 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا جبکہ ایک حملہ آور کو سپیشل برانچ میں محصور کر دیا ،جہاں سے وہ وقفے وقفے سے فائرنگ کرتا رہابعدازاں وہ بھی مارا گیا ۔سنٹرل پولیس آفس کے مطابق ہلاک دہشتگردوں میں خود کش بمبار اور سنائپر شامل تھے ۔

دہشت گردی کا نشانہ بننے والی مسجد اولڈ پولیس لائنز انتہائی اہم سمجھی جانے والی مصروف ترین اور کوہاٹ کی تاریخی شاہراہ ہنگو روڈ پر واقع ہے ، جسے ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کر دیاگیا ہے ۔ترجمان کوہاٹ پولیس کے مطابق پرانا پولیس لائنز کا علاقہ گنجان آباد اور مصروف ہے اور یہاں پرانی پولیس لائنز میں سی ٹی ڈی کے دفتر کے علاوہ دیگر اہم دفاتر بھی موجود ہیں۔ یہیں سے شہر کے تجارتی مراکز، سول انتظامی دفاتر اور ملٹری کینٹ کے راستے نکلتے ہیں۔ اولڈ پولیس لائنز کے عقب میں کوہاٹ کینٹ کی حدود شروع ہو جاتی ہیں۔ایم ایس کوہاٹ ہسپتال ڈاکٹر طاہر کے مطابق 103 زخمیوں میں سے 90 ڈی ایچ کیو اور 13 لیاقت میموریل ہسپتال لائے گئے ، جبکہ 4 زخمیوں کو پشاورہسپتال ریفر کیا گیا، 34 زخمی تاحال ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔شہید ہونے والوں میں ایس پی ٹریفک کوہاٹ اکبر شنواری بھی شامل ہیں جن کے بڑے بھائی موٹروے انسپکٹر جاوید شنواری رواں سال 15 جولائی کو موٹروے پر ڈمپر کی ٹکر کے نتیجے میں شہید ہوگئے تھے ۔دیگر شہدا میں فہیم آر پی، فرید آپریٹر ایس پی ایف آر پی ، عصمت اللہ سی ٹی ڈی، سمیع اللہ ڈرائیور، عبدالوہاب، انسپکٹر اشتیاق ایف آر پی شامل ہیں ۔عام شہریوں میں ڈاکٹر اسرافیل، 5 سالہ بچہ عبداللہ بھی شہید ہوئے ۔

شہدا کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، اس موقع پر کوہاٹ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہدا کو سلامی دی ،بعد ازاں شہدا کے جسد خاکی آبائی علاقوں کی جانب روانہ کردئیے گئے ۔صدر اور وزیراعظم نے دہشتگردی کے واقعہ کی مذمت کی، صدر آصف علی زداری نے کہا فتنہ الخوارج اور بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے ۔وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا متاثرہ افراد کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے ۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا دکھ کی اس گھڑی میں پوری قوم شہدا کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ سعودی وزارت خارجہ نے دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا سعودی عرب عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے ، شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے اور بے گناہ افراد کا خون بہانے کو مسترد کرتا ہے ۔ سعودی عرب ہر قسم کی دہشت گردی، انتہا پسندی اور تشدد کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے ، خواہ اس کے محرکات یا جواز کچھ بھی ہوں۔ ر وسی سفارتخانے کے ترجمان نے مذمت کرتے ہوئے کہا امید ہے کہ اس گھناؤنی کارروائی کے ذمہ داروں کی نشاندہی کی جائے گی اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...