افغانستان سے دراندازی ناکام،پوسٹیں تباہ،متعدد ہلاک،بلوچستان میں 146دہشتگرد مارے گئے

افغانستان سے دراندازی ناکام،پوسٹیں تباہ،متعدد ہلاک،بلوچستان میں 146دہشتگرد  مارے گئے

چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی طرف سے جارحیت پر سکیورٹی فورسز کا بھرپور جواب، کواڈ کاپٹرز اور مارٹر فائرکا استعمال شابان میں 5،نوشکی میں 10 دہشتگرد ہلاک، 21 ستمبر سے اب تک 33دہشتگرد مارے ، وزیراعظم کا خراج تحسین

راولپنڈی،اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر، نامہ نگار)پاک افغان سرحدی علاقے چمن سیکٹر میں افغانستان کی جانب سے جارحیت اور دراندازی کی کوشش سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دی، جوابی کارروائی میں متعدد افغان طالبان ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق 25 ستمبر کو پاک افغان سرحد کے چمن سیکٹر میں افغان جانب سے اشتعال انگیز فائرنگ اور دراندازی کی کوشش کی گئی، جس کا پاکستانی سکیورٹی فورسز نے مؤثر اور بھرپور جواب دیا۔ذرائع کے مطابق پاکستانی افواج نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی جانب سے قائم پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔ کارروائی میں کواڈ کاپٹرز اور مارٹر فائر کا بھی استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں جارحیت میں ملوث افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں تباہ کر دی گئیں۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز کی مؤثر کارروائی کے نتیجے میں افغان جانب سے پاکستان کی حدود میں دراندازی کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ذرائع کے مطابق پاک فوج اور سکیورٹی فورسز سرحدی علاقوں میں صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور افغان سرزمین سے پاکستان کی حدود میں ہونے والی کسی بھی دراندازی یا جارحیت کا بروقت اور مؤثر جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ دریں اثنا بلوچستان میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، 24 اور 25 ستمبر کو ہونے والی کارروائیوں میں مزید 16 دہشتگرد ہلاک ہوگئے ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 21 ستمبر سے بلوچستان میں جاری جامع انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں کے دوران اب تک 33 بھارتی سرپرستی میں سرگرم خوارج و دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع کوئٹہ کے علاقے شابان میں آپریشن شابان کے تسلسل میں 24 ستمبر کو سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے مزید ٹھکانوں کا سراغ لگا کر کارروائی کی۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں مزید 5 بھارتی سرپرستی میں سرگرم خوارج ہلاک ہوئے ، جس کے بعد شابان میں ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 22 ہوگئی۔کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن خطرے کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق 25 ستمبر کو ضلع نوشکی میں بھی انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 11 دہشتگرد ہلاک ہوگئے ۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ عزمِ استحکام کے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیرملکی سرپرستی و معاونت سے ہونے والی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کارروائیاں پوری رفتار سے جاری رہیں گی۔وزیراعظم شہباز شریف نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔فتنتہ الخوارج اور فتنتہ الہندوستان سمیت غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...