اوور سیز پاکستانیوں کیلئے سکیم کا افتتاح،16ارب کے انعامات کا اعلان

اوور  سیز  پاکستانیوں  کیلئے  سکیم  کا  افتتاح،16ارب  کے  انعامات  کا  اعلان

پاسبان ریمیٹنس اسکیم یکم اکتوبر سے فعال ہوگی،زیادہ ترسیلات زربھیجنے والوں کو خصوصی مراعات دی جائیں گی کمرشل بینک ہر سہ ماہی ریوارڈز جاری کرینگے ،زرمبادلہ ذخائر 27 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ،گورنر سٹیٹ بینک

کراچی (کامرس رپورٹر) گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ ملکی ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ، ترسیلات زر کی مالیت 10 ارب ڈالر بڑھ کر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ آئندہ سال کے اختتام تک ترسیلات زر 44 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے ۔پاسبان ریمیٹنس سکیم کا مقصد قانونی ذرائع سے ترسیلات زر کی حوصلہ افزائی اور ملک میں آنے والے زرمبادلہ میں مسلسل اضافہ کرنا ہے ، سکیم یکم اکتوبر سے فعال کردی جائے گی۔ پاسبان ریمیٹنس ریوارڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ درآمدی پابندیوں میں نرمی کرکے تجارتی نظام کو مضبوط کیا گیا ہے ، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے فروغ کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔ عالمی کشیدگی کے باعث ملکی برآمدات زیادہ متاثر کن نہیں رہیں، تاہم ترسیلات زر میں اضافے کے لیے غیر رسمی یا گرے سسٹم کے خاتمے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ پر خصوصی توجہ کے نتیجے میں فارن ایکسچینج کی مد میں 100 ملین ڈالر کا اضافہ ہواجبکہ 2025 میں ان فلوز 85 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے تھے ،2022 کے مقابلے میں ان فلوز اور آؤٹ فلوز تقریباً برابر رہے ہیں۔ملکی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے ، مالی سال 2022 میں افراط زر تیزی سے بڑھ کر 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی جبکہ اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 18 ارب ڈالر رہا، 2023 میں سٹیٹ بینک نے اوپن مارکیٹ میں 8 ارب ڈالر جاری کیے ، جبکہ درآمدات پر عائد قدغن کے باعث مالی سال 2023 میں جی ڈی پی کی سالانہ نمو سکڑ کر 0.2 فیصد رہ گئی تھی۔

گورنر سٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران مرکزی بینک نے اوپن مارکیٹ سے 30 ارب ڈالر خریدے ہیں، جبکہ سٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 27 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں۔ملکی زرمبادلہ ذخائر اس وقت تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں جنہیں بڑھا کر چار ماہ کی درآمدات کے برابر کرنے کا ہدف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یورو بانڈ کے اجرا کے باعث پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری آئی ہے ، پاکستان نے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کرکے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کیا ہے جبکہ مستقبل میں بھی عالمی بانڈز کے اجرا کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ،برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کمرشل بینک ساڑھے چار فیصد کی شرح پر فنانسنگ فراہم کررہے ہیں جبکہ برآمدات بڑھانے پر ایکسپورٹرز کو خصوصی مراعات بھی دی جارہی ہیں۔پاسبان ریمیٹنس سکیم متعارف کرانے کا مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو قانونی بینکاری ذرائع سے رقوم بھجوانے کی ترغیب دینا اور ملکی ترسیلات زر میں مستقل اضافہ کرنا ہے ۔ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور اسٹیٹ بینک شفاف طریقے سے پاسبان ریمیٹنس اسکیم متعارف کرا رہے ہیں۔

اسکیم کے تحت زیادہ ترسیلات زر بھیجنے والوں کو خصوصی مراعات اور انعامات دیے جائیں گے ۔ کمرشل بینکس مجموعی طور پر 16 ارب روپے کے ریوارڈز جاری کریں گے ، جبکہ اسکیم کے تحت انعامات سہ ماہی بنیادوں پر دیے جائیں گے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹو منیر کمال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ایک ہزار ڈالر ماہانہ ترسیلات زر بھیجنے والا شخص بھی سکیم میں کوالیفائی کرسکے گا، تاہم اسے مسلسل تین ماہ تک اسی بینک اکاؤنٹ میں ایک ہزار ڈالر ماہانہ بھیجنا ہونگے ، سکیم میں اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کا کوئی افسر انعام کا حقدار نہیں ہوگا۔ منیر کمال کے مطابق پاسبان ریمیٹنس سکیم کا پہلا انعام سہ ماہی بنیاد پر 10 کروڑ روپے ،دوسرا انعام 2 کروڑ 50 لاکھ روپے ، تیسرا انعام ایک کروڑ روپے جبکہ چوتھا انعام 10 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے ۔ سکیم کے پہلے انعام کی رقم 15 جنوری 2027 کو جاری کی جائے گی اور انعام کی رقم فوری طور پر متعلقہ اکاؤنٹ ہولڈر کو منتقل کردی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ پاسبان ریمیٹنس سکیم کا خصوصی طریقے سے ایک عالمی ادارے سے آڈٹ کرایا جائے گا جبکہ ون لنک کمپنی اسکیم کے مربوط نظام پر کام کرے گی۔کمرشل بینک ہر سہ ماہی میں ریوارڈز جاری کریں گے ، جس سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بینکاری ذرائع سے زیادہ رقوم پاکستان بھجوانے کی ترغیب ملے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...