ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے امریکی مذاکرات کار اسی ہفتے بات چیت کرینگے : ٹرمپ
ایران جلد ہتھیار ڈال دے گا،جنگ ختم ہونے سے تیل قیمتیں گر جائیں گی،امریکی صدر،تہران کی معاشی تنہا ئی کیلئے 50 سے زائد ممالک پر دباؤ ڈالا :امریکی وزیر خزانہ امریکادوبارہ حملہ کرسکتا،جدید فوجی ٹیکنالوجی سے جواب دینگے :ایران،ہرمز میں امریکی آبدوز ڈرون پکڑنے کا دعویٰ، یمن پرسعودی حملے ،7ہلاک،ریاض میں سکولز بند
واشنگٹن،تہران،ریاض ،صنعا(نیوز ایجنسیاں)صدر ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوس کو ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ امریکی مذاکرات کار اس ہفتے ایران کے ساتھ مزید بات چیت کریں گے ۔ٹرمپ نے کہا مجھے امید ہے کہ ایران کے ساتھ مزید مذاکرات ہوں گے ۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایسا معاہدہ نہیں جو میں چاہتا ہوں۔ شاید ایک سال پہلے میں ایسی کسی تجویز کو قبول کر لیتا، مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ ایران نے اپنی پوزیشن ضرورت سے زیادہ استعمال کر لی ہے ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران پر دوبارہ حملے کے امکان پر غور کر رہے ہیں تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں اس امکان پر ہمیشہ غور کرتا رہتا ہوں۔ٹرمپ نے پیش گوئی کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ایگزیوسکے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات آج سے شروع ہوسکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جیسے ہی ایران ہتھیار ڈالتا ہے اور جنگ ختم ہوتی ہے ، جو میرے خیال میں بہت جلد ہونے والی ہے ، تیل کی قیمتیں نیچے آ جائیں گی۔
ادھر وال سٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو توقع ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف فضائی حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے امریکا نے مختلف ممالک میں خصوصی نمائندے بھیجے ہیں۔ انہوں نے ایران کی ایئرلائنز اور بینکوں کے خلاف نئی پابندیوں کو اس مہم کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران کی معاشی تنہا ئی کیلئے 50 سے زائد ممالک پر دباؤ ڈالا، ان ممالک سے ایران کے خلاف معاشی اقدامات پر بات چیت کی گئی ہے ۔ان کوششوں کے نتائج سامنے آئے ہیں۔ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل اکرامینیا نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا مشکل میں ہے اور خطے میں اپنی خراب صورتحال کے باعث ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتا ہے ۔جنرل محمد اکرامینیا کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی محاذ آرائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے ، امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران اسے پہلے سے زیادہ نقصان پہنچائے گا۔ممکنہ نئی فوجی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں،تہران ایسی صورتحال قبول نہیں کرے گا جس میں ایران تجارت سے محروم رہے جبکہ دیگر ممالک خطے کی اہم آبی گزرگاہوں سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔
ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان میجر جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام ایران کے ہاتھ میں ہے ، امریکا نے آبنائے ہرمز میں مداخلت کی تو اسے منہ کی کھانی پڑے گی۔ دشمن کی جانب سے ممکنہ جارحیت کا اس بار جدید عسکری ٹیکنالوجی کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔ پاسداران انقلاب کی بحریہ کے سیاسی امور کے نائب علی محمدی نے کہا ہے کہ اگر دوبارہ جنگ شروع ہوئی تو ایران امریکی بحری جہازوں اور ڈسٹرائرز کو بحر ہند تک بھی نشانہ بنا کر تباہ کرے گا۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے اتوار کو آبنائے ہرمز میں ایک امریکی آبدوز ڈرون قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے ۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق خفیہ معلومات اور الیکٹرانک جنگ پر مبنی کارروائی کے دوران بغیر پائلٹ زیرآب گاڑی کو قبضے میں لیاگیا۔ حکام کے مطابق ڈرون اب ایرانی ماہرین کے قبضے میں ہے اور اس سے ڈیٹا حاصل کرنے کا عمل جاری ہے ۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے نیویارک سے وطن واپسی پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان کی تقریر کے انداز بیان کو متاثر کیا تھا۔اسی بنیاد پر انھوں نے ایران کے موقف کا واضح طور پر دفاع کرنے کی کوشش کی۔ انٹرویوز اور ملاقاتوں کے دوران ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بارے میں ایران کے موقف کی وضاحت کرنے کی کوشش کی۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ نیویارک میں ایرانی وفد نے امریکی امداد کے عنوان سے ایک کتابچہ تقسیم کیا، جس میں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کو واضح کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے یا ان میں خلل ڈالنا چاہتا ہے ، ایران دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ایران ناقابلِ تسخیر ہے ، اس سے طاقت اور جبر کی زبان میں بات نہیں کی جانی چاہیے ۔ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا اور حملہ آوروں کو اپنا سامان سمیٹ کر واپس جانا ہوگا۔ادھر ایران آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق اپنی شرائط پر بدستور قائم ہے ، جس کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے ۔ایران نے اپنی شرائط سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران مذاکرات کیلئے بھی اتنا ہی تیار ہے جتنا مقابلے کے لیے ، تاہم فیصلہ امریکا کو کرنا ہے ۔امریکی نیوز چینل کو انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کو حیرت ہے کہ امریکا نے اس کی تجویز مسترد کیوں کی، تاہم تہران نے سفارت کاری کا راستہ تاحال ترک نہیں کیا۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کسی بھی نئی جارحیت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے ، چاہے اس کے نتیجے میں تباہ کن جنگ ہی کیوں نہ ہو، ایران سفارت کاری کے لیے بھی تیار ہے ، اب فیصلہ امریکی صدر کو کرنا ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز مسترد کیے جانے کے باوجود ایران کو تاحال کوئی باضابطہ جواب نہیں ملا۔ عراقچی نے کہا کہ تہران نے اپنی تجویز پر صدر ٹرمپ کا ابتدائی ردِعمل دیکھ لیا ہے ، ایران کو ثالثوں کے ذریعے تاحال امریکی جواب موصول نہیں ہوا، ایران ثالثوں کی جانب سے امریکی مؤقف کے حتمی جواب کا انتظار کررہا ہے ، امریکی حتمی جواب کی بنیاد پر تہران اپنا فیصلہ کرے گا۔ایران کے نائب صدر برائے انتظامی امور محمد جعفر قائم پناہ نے کہا ہے کہ خطے میں امریکی موجودگی ٹھیک نہیں، علاقائی ممالک کو اپنی سلامتی اور مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے ۔ خطے سے باہر کی طاقتوں کی موجودگی علاقائی استحکام اور سلامتی میں مددگار نہیں۔عمان کے وزیر خارجہ بدر بوسعیدی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شامل تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں ،مسقط ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے ۔نیویارک میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فریقین کو اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کرنے اور سیاسی حل اور پائیدار معاہدوں تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔پرشیئن گلف واٹر وے مینجمنٹ اتھارٹی نے آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے مال بردار اور تیل بردار بحری جہازوں کے مالکان کو خبردار کیا ہے کہ بعض چارٹر کمپنیاں بحری جہازوں کو ایسے راستوں سے گزرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔
جنھیں اتھارٹی غیر منظور شدہ راستہ قرار دیتی ہے ۔اس اقدام سے جہاز، اس کے مالک، کپتان اور عملے کو مالی اور جانی نقصان کا خطرہ لاحق ہونے کے علاوہ آئندہ اس جہاز کے آبنائے ہرمز سے گزرنے پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں،یمن کے جنوب مغربی شہر تعز میں سعودی فضائی حملے کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوگئے ۔ حوثی میڈیا کے مطابق سعودی جنگی طیارے نے شہر کے مرکزی بازار کو نشانہ بنایا۔حوثی ترجمان کے مطابق سعودی فضائیہ نے تعز سمیت مختلف صوبوں میں 27 حملے کیے ۔سعودی دارالحکومت ریاض میں سکولز نے اچانک ایک ہفتے کے لیے تعلیمی سرگرمیاں آن لائن منتقل کرنے کا اعلان کردیا۔ والدین کو سکولز کی جانب سے ای میلز موصول ہوئیں، جن میں بتایا گیا کہ سعودی حکام کی ہدایت پر تمام سکول پورا ہفتہ بند رہیں گے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا ہے کہ حوثیوں کے حملوں سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کو فراہم کی جانے والی فرانسیسی فوجی معاونت دفاعی نوعیت کی ہے۔
اس اقدام کا مقصد سعودی عرب کے ساتھ جنگ میں فریق بننا نہیں بلکہ اتحادیوں اور شراکت داروں کا تحفظ ہے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے چین کے نائب صدر ہان ژینگ نے کہا کہ چین کا مؤقف یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک، بشمول خلیجی ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جانا چاہیے ۔ عالمی صنعتی عمل اور سپلائی چین مستحکم اور بلا تعطل رہنی چاہیے اور عالمی تجارت کا تحفظ کیا جانا چاہیے ۔ہان ژینگ نے فلسطینی خودمختاری کو تسلیم کرنے اور غزہ کی تعمیر نو پر بھی زور دیا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے کے استحکام میں مدد کیلئے تیار ہے ۔ عرب ممالک اور ایران کے درمیان تعلقات میں اعتماد کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں ایک مستحکم علاقائی ڈھانچے کا قیام ناگزیر ہے ، روس خطے کے استحکام کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments