وزیراعظم سے دوٹوک بات ہو گی، مطالبات نہ مانے تو سپرلانگ مارچ شروع : حافظ نعیم

وزیراعظم سے دوٹوک بات ہو گی، مطالبات نہ مانے تو سپرلانگ مارچ شروع : حافظ نعیم

احتجاجی تحریک ختم نہیں بلکہ مؤخر کی ، حکومت کو عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی حکمران ایک دوسرے کے مفاد کا تحفظ کرتے ، احتجاج روکنے کی حکومتی کوششیں کامیاب نہیں ہونگی ، کراچی میں خطاب

کراچی(سٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی، مہنگی بجلی، آئی پی پیز کے معاہدوں اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک جاری ہے ، ہم نے احتجاجی تحریک ختم نہیں بلکہ مؤخر کی ہے ، حکومت نے عوام  کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ملتان سے ہی سپر لانگ مارچ شروع کیا جائے گا۔ جب عوام اپنے حقوق کے لیے متحد ہوں گے تو حکمرانوں کو عوامی مطالبات تسلیم کرنا پڑیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نارتھ ناظم آباد 5 سٹار چورنگی پر احتجاجی کیمپ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ جب وزیراعظم پاکستان بیرون ملک کے دورے سے واپس آئیں گے تو ان سے دوٹوک بات کی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے عوامی احتجاج کو روکنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ حکومت کو عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ حکمران ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ تنخواہ دار طبقہ بھاری ٹیکس ادا کر رہا ہے جبکہ جاگیردار اور وڈیرے اپنی آمدنی کے مطابق ٹیکس نہیں دیتے ۔ ایف بی آر میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور ٹیکس چوری کے مسائل موجود ہیں، ادارے کو اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...