موجودہ صورتحال میں مذاکرات پی ٹی آئی کی ضرورت
اگرچہ بات چیت کی خواہش تو دو طرفہ ہے مگر اصل بات ایجنڈا کی تیاری
(تجزیہ:سلمان غنی )
پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آ فریدی کی جانب سے حکومت سے مذاکرات کی پیشکش کو حکومت نے احتجاجی کال کی واپسی اور سیاسی طرز عمل سے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کے سیاسی حل پر بات چیت ہوسکتی ہے مگر کسی کی رہائی عدالتی عمل سے مشروط ہو گی جو مذاکرات کا ایجنڈا نہیں بن سکتی، یہ بات اتوار کو لاہور میں اعلیٰ حکومتی ذرائع نے دنیا نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہی جن کا کہنا تھا کہ مسائل کے سیاسی حل کیلئے پہلے احتجاجی عمل ترک کرنا ہو گا اور بامقصد مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرنا ہو گی تب بات بن بھی سکتی ہے لہذا اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ حکومت اپوزیشن مذاکرات ممکن ہیں اور پی ٹی آئی اب مذاکراتی عمل پر رجوع پر کیونکر مجبور ہے اور چار اکتوبر کی کال پرپیش رفت ہو پائے گی۔ جہاں تک اپوزیشن سے مذاکراتی عمل کا سوال ہے تو حکومت کبھی اس سے انکاری نہیں ہوتی البتہ پی ٹی آئی صورتحال کو اس نہج پر لے آئی ہے کہ اب مذاکرات اس کی ضرورت ہیں اور حکومت ابھی سے یہ واضح کرتی نظر آ رہی ہے کہ مذاکراتی عمل میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی ایجنڈا میں شامل نہیں ہو گی، ان کے صحت کے مسائل بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے عمل سمیت دیگر امور پر بات ہو سکتی ہے۔
پی ٹی آئی نے کل تک کا وقت مانگا ہے اگرچہ مذاکرات کی خواہش تو دو طرفہ ہے مگر اصل بات ایجنڈا کی تیاری ہے اور حکومت بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے سوا سب ایشوز پر بات کرنے کو تیار ہے مگر پی ٹی آئی بظاہر تو رہائی کی بات نہیں کرتی مگر ان کا اصل معا ہدہ یہی ہے جسے وہ بانی کی بیماری کی آڑ میں کہتی تو ہے مگر کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں کیونکہ اسے پتہ ہے کہ یہ مطالبہ کن کے ہاتھ میں ہے ،حکومت مذاکرات کیلئے تیار ہے بشرطیکہ اپوزیشن چار اکتوبر کی کال واپس لے ۔پی ٹی آئی بھی مذاکرات کیلئے تیار ہے مگر وہ فیس سیونگ مانگتی ہے اور فیس سیونگ کیلئے وہ بانی کی ہسپتال شفٹنگ اور ان سے ملاقات کی شرط پیش کرتی ہے کیا حکومت اس پر پیش رفت کیلئے تیار ہو گی اس ضمن میں وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی کا انتظار ہے ، ماہرین مصر ہیں کہ مذاکرات میں اصل رکاوٹ اعتماد کی کمی ہے اور اس ضمن میں پیش رفت تبھی ممکن ہو گی کہ دونوں سمجھوتے پر تیار ہوں گے ،کے پی میں گورنر راج کیلئے بنیادی کردار صدر آ صف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کا ہو گا اور وزیراعظم کی وطن واپسی پر اس ضمن میں حتمی فیصلہ ہو گا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے ایسے اشارے دینا شروع کر رکھے ہیں کہ گورنر راج کی صورت میں گورنر پیپلز پارٹی کا ہی ہو گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments