میر رضا کیس:وکیل کا وزیراعلیٰ کو خط،جے آئی ٹی بنانیکا مطالبہ
کمیشن کی حتمی رپورٹ بھی اہلخانہ کو نہ دینا حکومتی یقین دہانی کے منافی ،جبران ناصر جوڈیشل کمیشن رپورٹ 15 اکتوبر تک حتمی شکل دیکر حکومت کو ارسال کردے گا
کراچی (سٹاف رپورٹر)میر رضا کیس کے وکیل جبران ناصر نے اہل خانہ کی جانب سے وزیراعلیٰ کو خط لکھ کر جوڈیشل کمیشن کی حتمی رپورٹ اہل خانہ کو فراہم کرنے اور قتل کیس کی تحقیقات کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں پر مشتمل آزاد مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ جبران ناصر کے مطابق سندھ حکومت نے جے آئی ٹی کی تشکیل کی مخالفت کرتے ہوئے اہل خانہ کے تحفظات دور کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا تھا، لہٰذا کمیشن کی حتمی رپورٹ اہل خانہ کو فراہم نہ کرنا حکومتی یقین دہانی کے منافی ہوگا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کے روبرو پولیس کی غفلت سامنے آنے کے باوجود کسی افسر کے خلاف محکمانہ تحقیقات نہیں کی گئی جبکہ ڈاکٹر اسامہ کے بیانات میں تضاد کے باوجود پولیس نے خصوصی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر سوالات اٹھائے ۔ جبران ناصر نے کہا کہ اہل خانہ سپر میڈیکل بورڈ کے قیام کے مخالف ہیں، سندھ میڈیکو لیگل ایکٹ کے تحت قبر کشائی کے لیے قائم میڈیکل بورڈ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں جبکہ سندھ حکومت مئی 2006 میں نوٹیفکیشن کے ذریعے سپر میڈیکل بورڈز ختم کرچکی ہے ۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آزاد جے آئی ٹی میر رضا کے اغوا اور قتل کے علاوہ شواہد چھپانے ، ان میں ردوبدل اور پولیس اہلکاروں کے کردار کی بھی تحقیقات کرے ۔دوسری جانب میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے حیدرآباد سرکٹ بینچ میں مقدمات کی سماعت شروع کردی ہے ۔ سندھ ہائیکورٹ کے ڈیوٹی روسٹر کے مطابق جسٹس عمر سیال 12 اکتوبر سے 7 نومبر تک حیدرآباد سرکٹ بینچ میں فرائض انجام دیں گے ۔ دوسری جانب میر رضا کیس کے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ مرتب کرنے کا کام جاری ہے ۔ رجسٹرار جوڈیشل کمیشن کے مطابق ہفتے اور اتوار کو بھی رات گئے تک رپورٹ کی تیاری پر کام کیا گیا، امید ہے کہ رپورٹ 15 اکتوبر تک حتمی شکل دے کر سندھ حکومت کو ارسال کردی جائے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments