وہ شہر جو پہلوانوں‘ اکھاڑوں‘ بھنے ہوئے گوشت‘ سرخ مالٹوں اور خوش خوراکی کے دوسرے لوازمات کیلئے ملک بھر میں مشہور ہے‘ وہاں اگست 1919ء میں ایک جاٹ سکھ گھرانے میں ایک ایسی ذہین اور زرخیز دماغ بچی پیدا ہوئی جس نے اپنی وفات تک اپنا نام بقائے دوام کے ایوان میں لگی پتھریلی تختی پر کنندہ کرا لیا۔ اس بچی کا نام امرتا کور رکھا گیا۔ بڑی ہو کر اُس نے اپنے نام کے دوسرے حصے میں کور کا لفظ کاٹ کر اس کی جگہ پریتم لگا دیا۔ امرتا کے والد نہ صرف خود پڑھے لکھے تھے بلکہ اُنہوں نے اُس وقت کی روایت کے برعکس امرتا کے حصولِ علم اور نصاب سے ہٹ کر لکھنے پڑھنے کی خوب حوصلہ افزائی کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چودہ‘ پندرہ برس کی نوخیز لڑکی کی پنجابی نظموں کا مجموعہ ''امرت لہراں‘‘ شائع ہو گیا۔ یعنی اس وقت شاعرہ نے میٹرک بھی نہیں کیا ہو گا۔ دو برس بعد 1938ء میں امرتا کا دوسرا مجموعہ کلام'' ٹھنڈیاں کِرناں‘‘ شائع ہوا تو لاہور کے ادبی نقادوں کی توجہ بھی اپنی طرف کھینچ لی اور ان کی شاعرانہ خوبیوں کی وہ تعریف ہوئی جس کی وہ مستحق تھیں۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد امرتا اپنے اہلخانہ کے ساتھ دہلی چلی گئیں۔ جہاں اُن کے تخلیقی جوہر کھلے۔ نہ صرف بھارت میں بلکہ بیرونِ ملک بھی ان کو ادبی اعزازات سے نوازا گیا۔ بھارت میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور پدم شری کے علاوہ گیان پتھ ایوارڈ بھی ملا اور وہ پہلی پنجابی ادیبہ تھیں جنہیں یہ اعزاز دیا گیا۔ بلغاریہ کا Cyril and Methodius Award اور فرانس کا Order of Arts and Letters بھی ملا۔ امرتا نے پنجابی میں شاعری کے علاوہ نثر بھی لکھی۔ مضامین‘ افسانے اور ناول پنجابی اور ہندی دونوں زبانوں میں لکھے۔ ان کی تخلیقات کا بھارت اور غیر ممالک کی تیرہ سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ اُنہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ بھارتی پارلیمان کے ایوانِ بالا (راجیہ سبھا) کی بھی رکن رہیں‘ جہاں اُنہوں نے محنت کشوں اور اہلِ پنجاب کو درپیش مسائل کے حل کیلئے آواز بلند کی اور داد پائی۔
تقسیم ہند کے وقت بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ پنجاب میں ہونے والے قتلِ عام میں ہر مذہب کے ہزاروں (یا شاید لاکھوں) بے گناہ افراد جن میں بچے‘ بوڑھے‘ خواتین اور بیمار بھی شامل تھے‘ مارے گئے۔ امرتا جیسی شاعرہ اُسی طرح لکھ کر اپنے شدید دکھ اور کرب کا اظہار کر سکتی تھی جس طرح افسانہ نگاروں میں کرشن چندر‘ سعادت حسن منٹو‘ قدرت اللہ شہاب اور ممتاز مفتی نے افسانوں کی صورت میں بٹوارے کے دکھ کا بیان کیا۔ امرتا پریتم نے اس بے حد المناک موضوع پر جو نظم لکھی اُس میں اپنا زخمی دل چیر کر ہمارے سامنے رکھ دیا۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ قارئین نے مذکورہ نظم کو پڑھا یا سنا نہ ہو یا وہ اس کمال کی نظم کے بلند ادبی مقام سے واقف نہ ہوں۔ امرتا پریتم کہتی ہیں:
اج آکھاں وارث شاہ نوں کتھوں قبراں وچوں بول
اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول
اک روئی سی دھی پنجاب دی تو لکھ لکھ مارے وین
اج لکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن
یہ نظم سدا بہار ہے۔ 80 برس ہونے کو ہیں مگر اس نظم کی شہرت‘ مقبولیت اور خوشبو میں رتی بھر کمی نہیں آئی۔ مجھے ماننے میں کوئی عار نہیں کہ میں نے امرتا کا زیادہ کلام نہیں پڑھا مگر جن لوگوں نے پڑھا ہے وہ مجھے بتاتے ہیں کہ امرتا کی یہی شاہکار نظم ہے اور یہی اُنہیں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔ لندن میں بیرسٹر بننے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مجھے دولت مشترکہ کے ہر ملک کی عدالت میں (ایک مقامی وکیل کی معاونت کے ساتھ) پیش ہو کر اپنے مؤکل کی ترجمانی‘ قانونی رہنمائی اور وکالت کی اجازت مل گئی۔ دہلی میں میری دلچسپی کی تین وجوہات تھیں؛ جامعہ ملیہ جہاں میں برطانوی قانون پڑھاتا رہا ہوں۔ دوم‘ امرتا پریتم اور شاہد صدیقی۔ سوم‘ حضرت نظام الدین اولیاء اور خواجہ بختیار کاکی کے مزارات۔
امرتا کی زندگی حیرت انگیز جرأت‘ بہادری‘ روایت شکنی‘ آزادیٔ فکر وعمل‘ استقامت اور اپنے ضمیر کے مطابق زندگی گزارنے کے کٹھن فیصلوں سے عبارت ہے۔ امرتا کی پرورش قدامت پسند اور رواجی متوسط طبقے کے سکھ گھرانے میں ہوئی مگر اُس نے پنجابی شاعری میں وہی کمال کر دکھایا جو بہت سال بعد اردو شاعری نے فہمیدہ ریاض اور افسانہ نگاری میں عصمت چغتائی نے کر دکھایا۔ یہ بھی وہ اپنا بنیادی انسانی حق سمجھتی تھیں کہ وہ جس مرد کو پسند کریں اُس سے اپنی چاہت کا اظہار کرنے میں ہچکچاہٹ نہ دکھائیں۔ وہ اپنی محبت کو ایک پرچم کی شکل دے کر اسے بلاخوف و خطر اُڑاتی تھیں۔ امرتا جتنی جرأتِ رندانہ کا مظاہرہ تو غالباً اور کسی کے بس میں نہ تھا مگر اُن کے قارئین اُن پر اپنی تعریف وتحسین کے پھول تو نچھاور کر ہی سکتے ہیں اور آج تک کر رہے ہیں۔ امرتا نے اپنی کھوکھلی شادی سے بہت جلد نجات حاصل کر لی اور پھر امروز نامی شخص کو‘ جو ایک فنکار تھا‘ اپنا جیون ساتھی بنائے رکھا۔ جب میں اُنہیں ملا تو اُنہیں اکٹھے رہتے ہوئے قریباً 40 برس گزر چکے تھے۔ جب میں نے امروز کی اُس محبت کی تعریف کی جس سے اُس نے عمر بھر امرتا کا خیال رکھا تو وہ کہنے لگا کہ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے زیادہ ساحر لدھیانوی سے محبت کرتی ہیں۔ ان دونوں دوستوں نے مل کر 30 سال ایک پنجابی ادبی جریدہ (ناگ منی) شائع کیا جو قارئین کیلئے بے مثال عزت اور محبت کی علامت تھا۔ اس جریدے کی بدولت ان دونوں ادیبوں نے دو نسلوں کی تعلیم و تربیت کی۔ اُنہوں نے شو کمار بٹالوی‘ دلیپ ٹوانہ‘ موہن جیت‘ منجیت کور ٹوانہ‘ گگن گل اور بہت سے نوجوان ادیبوں کو متعارف کرایا۔
نوے کے عشرے کے اواخر میں خاص طور پر میں امرتا اور امروز کو ملنے گیا۔ ملاقات کا دن اور وقت طے کیے بغیر‘ سرخ پھولوں کا ایک بڑا گلدستہ لیے۔ امرتا کی زندگی کے آخری دس پندرہ برس بیماریوں کا مقابلہ کرتے گزرے۔ ان بیماریوں نے اس کی زندگی کو تلخ اور تیمار داروں کیلئے کربناک بنا دیا تھا۔ جوانی کے دنوں میں امرتا نے ایک پنجابی ناول ''پنجر‘‘ لکھا تھا۔ نصف صدی بعد یہ ممبئی کے فلم سازوں کی توجہ کا مرکز بنا اور اس ناول کو فلمایا گیا۔ فلم باکس آفس پر بڑی کامیاب رہی جس سے امرتا کیلئے دس پندرہ سال تک اپنا علاج کرانا ممکن ہوگیا ورنہ شاید امروز اتنا بوجھ نہ اُٹھا سکتا تھا۔ امروز مجھے ان کے سونے کے کمرہ تک لے گیا۔ وہ سوئی ہوئی تھیں۔ میں پاس بیٹھ کر اُن کا خوبصورت چہرہ تکنے لگا۔ وہ جاگیں تو امروز نے تعارف کرایا۔ جب میں نے بتایا کہ میں نے ایک سال (1951ء) گوجرانوالہ میں گزارا اور کالج کی تعلیم کا پہلا سال وہاں سائنس پڑھنے کی ناکام کوشش کرنے میں ضائع کیا تو وہ مسکرائیں اور نرمی سے میرا ہاتھ دبایا۔ ربع صدی سے زائد ہو گیا مگر وہ لمس ابھی تک میرے ہاتھ پر محفوظ ہے۔ امروز چائے بنا کر لایا تو امرتا نے اُس کی طرف دیکھ کر بڑی اپنائیت سے‘ ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھا اور نہایت مدہم آواز میں پنجابی کا ایک شعر پڑھا ''مر دی نوں چھڈ کے نہ جائیں مترا‘‘ (مرتے ہوئے دوست کو چھوڑ کر نہ جانا)۔ امروز میری طرف دیکھ کر ہنسا اور کہا کہ یہ صرف ہمیں ڈرانے کیلئے کہہ رہی ہے۔ میں یہ دھمکی کئی سالوں سے سنتا چلا آرہا ہوں۔ نہ یہ پہلے مری ہے اور نہ اب مرے گی۔ لیکن اکتوبر 2005ء میں آخر وہ منحوس دن آگیا جب امرتا واقعی مرگئی اور گوجرانوالہ سے اُترنے والی پری کا جسدِ خاکی جل کر راکھ میں تبدیل ہو گیا اور یہ راکھ پنجاب کے دریائوں میں بہا دی گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments