علامہ اقبال نے بالِ جبریل کے نام سے اپنے کلام کا دوسرا مجموعہ (پہلا بانگِ درا تھا) شائع کیا تو اُس میں ایک کمال کی انقلابی نظم بھی شامل کی جس کا عنوان تھا: ''فرمانِ خدا فرشتوں سے‘‘۔ اقبال نے اس نظم میں فرشتوں کا نام شاید شاعرانہ رعایت کے تحت لکھا وگرنہ جو فرمان لکھا وہ انسانوں کے نام ہے۔ آٹھ اشعار پر مشتمل اس نظم کے ابتدائی سات اشعار کے دوسرے مصرعوں کو اکٹھا کیا جائے تو وہ یہ ہیں: کاخِ امرا کے در و دیوار ہلا دو۔ کنجشک فرو مایہ کو شاہیں سے لڑا دو۔ جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو۔ اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو۔ پیرانِ کلیسا کو کلیسا سے اُٹھا دو۔ بہتر ہے چراغِ حرم و دَیر بجھا دو۔ میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو۔ کیا یہ ولولہ انگیز مصرعے ہمارے تنِ مردہ اور مفلوج ذہنوں میں زندگی‘ روشنی‘ حرکت اور برکت پیدا کرنے کیلئے کافی نہیں؟ اگر یہ بھی اپنے مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکتے تو پھر اقبال کی ایک اور کمال کی نظم‘ ساقی نامہ کا یہ شعر ہماری حالتِ زار کا ماتم کرتا ہے:
بجھی عشق کی آگ‘ اندھیر ہے؍ مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
لندن میں موسمِ خزاں کی ایک اُداس شام جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو سارا فرانس‘ البانیہ‘ سپین‘ بلجیم‘ تیونس اور پاکستان کا پڑوسی ملک بھارت زبردست ہنگاموں کی زد میں ہیں۔ پیرس میں مظاہرین کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد تھی۔ طلبہ و طالبات‘ محنت کش‘ ٹریڈ یونین کارکن‘ اشتراکی ذہن رکھنے والے‘ چھوٹے سرکاری ملازمین‘ پیلی جیکٹ مہم کے اراکین وغیرہ ان میں شامل تھے جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی۔ پیرس اور دیگر شہروں میں عومی غم و غصہ آگ کے شعلوں کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ ہزاروں نوجوان گرفتار کیے گئے ہیں۔ فرانس کے بہت سے شہروں کی فضا آنسو گیس کی بے پناہ بمباری سے بوجھل ہے۔ مظاہرین کو واٹر کینن سے بے تحاشا نشانہ بنایا گیا مگر تعلیمی نظام میں بے شمار خرابیوں اور مہنگائی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی شدت میں کمی نہ آ سکی۔
مندرجہ بالا چھ ممالک میں در و دیوار کو ہلا دینے والے مظاہروں کی وجوہات مختلف ہیں مگر ان میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے نقشِ کہن (Status Quo) سے شدید بیزاری‘ نفرت اور عدم تعلقی۔ بھارت میں بظاہر ناقابلِ شکست بھارتیہ جنتا پارٹی کی مودی حکومت نے فسطائی نظام کے قیام کی طرف ایک اور قدم بڑھاتے ہوئے ڈیڑھ کروڑ لوگوں (زیادہ تر مسلمانوں) کے نام ووٹروں کی فہرست سے نکال دیے تو اُْسے 'کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑا۔ البانوی عوام جمہوری حقوق مانگتے ہیں۔ انہوں نے انور خُوجا کے 41 سالہ آمرانہ دور کا عذاب جیسے برداشت کیا‘ صرف وہی جانتے ہیں۔ اُس کا جانشین 15 برس سے آمر مطلق بن کر کرسی پر جما بیٹھا ہے۔ لگتا ہے کہ اب اہلِ البانیہ کا صبر جواب دے چکا ہے۔ ادھر ایفرو عرب تیونس وہ پہلا ملک ہے جہاں عرب بہار کا پہلا جھونکا آیا مگر بدقسمتی سے مصر کی طرح‘ وہاں بھی عوام کی نمائندہ جمہوری حکومت کی جگہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی کٹھ پتلیوں نے لے لی۔ کتنا اچھا ہو اگر تیونس میں عرب بہار کا دوسرا جھونکا آئے اور وہاں کے عوام کی ایک فرسودہ‘ عوام دشمن اور گلے سڑے نظام سے جان چھوٹ جائے۔ قارئین کو شاید یقین نہ آئے کہ یورپ میں سرمایہ دارانہ نظام نے شدید معاشی ناانصافی اور سماجی ناہمواری پیدا کی ہے۔ مراعات سے محروم طبقہ گاہے گاہے اس کے خلاف عَلم بغاوت بلند کرتا رہتا ہے۔ یورپ کے جن ممالک مثلاً جرمنی‘ بلجیم‘ ہالینڈ اور اٹلی میں ترقی پسند اور عوام دوست سیاسی جماعتیں برسر اقتدار آکر اقبال کے درج بالا ''فرامین‘‘ پر عمل کرنے کے بجائے سرمایہ داری نظام سے پُرامن بقائے باہمی کی خاطر مصالحتی حکمت عملی اختیار کرتی ہیں‘ وہاں کے عوام اُن سے بدظن ہو کر دائیں بازو کی انتہا پسند سیاسی جماعتوں کی حمایت کرتے ہیں اور مزید ذلیل وخوار ہوتے ہیں۔ ان دنوں اٹلانٹک کے اُس پار‘ جنو بی امریکہ کے سب سے بڑے ملک برازیل میں بھی بالکل یہی سیاسی ڈرامہ دہرایا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے لاطینی امریکہ کے جن ممالک میں مثلاً چلی اور ارجنٹائن میں ماضی قریب میں انتخابات ہوئے‘ وہاں دائیں بازو کی نیم فسطائی جماعتوں کو ہی کامیابی ملی۔ اس المیے کی ساری ذمہ داری ترقی پسند سیاسی جماعتوں کی ناکام‘ نیم دلانہ اور مصالحتی حکمت عملی پر عائد ہوتی ہے۔ سب سے عبرتناک مثال بھارت کی مغربی ریاست (مغربی بنگال) کی ہے۔ جہاں جیوتی باسو کی 34 سالہ طویل کمیونسٹ حکومت کو سکول کی ایک آرٹ ٹیچر (ممتا بینر جی) کی نوزائیدہ پارٹی خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گئی تھی۔ اب 15 سالہ حکومت کے بعد ممتا بینر جی کو مودی کی بی جے پی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ خود ہمارے ملک میں ذوالفقار علی بھٹو کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ یہ نعرہ بلند کرکے مسندِ اقتدار پر براجمان ہوئے کہ سوشلزم (اشتراکیت) ہماری معیشت ہے۔ مگر اُنہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں اشتراکیت کے لفظ کو اسی طرح بدنام کیا جس طرح جنرل ضیاء الحق نے اسلامی نظام کو بدنام کیا۔ آپ نے یقینا جوابِ شکوہ میں اقبال کا یہ مصرع پڑھا ہوگا:
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
آج دنیا میں دو قومیں مظلوم ہیں۔ ایک ہیں کشمیری اور دوسرے ہیں فلسطینی۔ غزہ جنگ میں 74 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ ایک برس جاری نام نہاد جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے زائد ہے۔ اس ظلمِ عظیم کے خلاف ایک بلند آواز خود اسرائیل سے آئی ہے‘ جو ایک دستاویزی فلم کی صورت میں منظر عام پر آئی ہے۔ فلم کا نام ہے Naza۔ اس فلم کو بین الاقوامی سطح پر دکھانے کی دیر تھی کہ اسرائیل میں جیسے زلزلہ آ گیا۔ یہ فلم غزہ میں فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے ناقابلِ تردید مناظر دکھاتی ہے۔ اس فلم کے بہادر‘ اُصول پرست اور جان ہتھیلی پر رکھ کر سچ بولنے والے پروڈیوسر کا نام ہے Jonathan Glazer۔ اسرائیلی حکومت نے فلم ساز کو ہر قسم کی تادیبی کارروائی کا نشانہ بنایا۔ فلم بنانے والے تمام افراد کو اسرائیل کی شہریت سے محروم کر دیا گیا۔ دنیا بھر کے اخبارات اور ٹیلی ویژن کمپنیوں نے اس فلم پر تعریف و ستائش اور مبارک کے پھول برسائے ہیں۔ امریکہ میں یہودی لابی کے زیر اثر دو بڑے اخبارات؛ نیو یارک ٹائمز اور لاس اینجلس ٹائمز بھی اس فلم کی تعریف کرنے اور اس کی حق گوئی کو خراجِ تحسین پیش کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ کتنی ستم ظریفی ہے کہ ایک عرب ملک نے اسرائیل کے ساتھ اپنی قابلِ صد مذمت دوستی کے تحت مذکورہ چشم کشا اور بصیرت افروز فلم کی مذمت کی ہے۔ قارئین یہ پڑھ کر خوش ہوں گے کہ مذکورہ فلم کے پروڈیوسر کو مبارک دینے والوں میں یہ کالم نگار بھی شامل ہے۔ اقبال نے اپنی کمال کی شاعری میں حق گوئی اور بے باکی کی جو تعریف کی ہے‘ میں نے اس کا انگریزی ترجمہ کر کے فلم کے پروڈیوسر کو بھیج دیا اور ان کا شکریہ کا جواب بھی وصول کیا۔
برطانیہ کے شاہی صوبہ‘ سکاٹ لینڈ میں وہاں برسر اقتدار سیاسی جماعت نے برطانیہ سے آزادی (دوبارہ لکھتا ہوں آزادی) حاصل کرنے کیلئے ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی حکومت نے اس 'ملک دشمن‘ کارروائی کا ہرگز برا نہیں منایا۔ اُن کا مؤقف یہ ہے کہ اگر وہاں کے عوام کی اکثریت برطانیہ سے آزاد ہونا چاہتی ہے تو اُنہیں اس کا پورا حق حاصل ہے۔ پچھلے ریفرنڈم میں 45 فیصد عوام نے علیحدگی جبکہ 55 فیصد نے برطانیہ سے الحاق کا فیصلہ سنایا تھا۔ ادھر کینیڈا کے مغربی صوبے Alberta میں بھی گزشتہ ماہ اسی نوعیت کا ایک ریفرنڈم کرایا گیا جس میں 25 فیصد نے علیحدگی اور 75 فیصد نے کینیڈا سے الحاق کا فیصلہ سنایا۔ اسے کہتے ہیں: قوتِ اُخوتِ عوام اور سلطانی جمہور۔ یہ ہوتا ہے آزاد ملکوں کا شیوہ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments