"KMK" (space) message & send to 7575

زمینی اور آئینی ذمہ داریاں

حکومت پنجاب کی جانب سے مارکیٹ میں آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو کم کرنے کی غرض سے دس ارب روپے کی سبسڈی کی منظوری دی گئی ہے۔ یقینا یہ اقدامات ہمہ وقت مدح سرائی کرنے والوں کو نہایت خوش کن دکھائی دیتے ہوں گے‘ لیکن یہ سب اقدامات بعد از مرگ واویلا کرنے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ مرحوم فہمی بدایونی کا ایک شعر یاد آ گیا:
اب ان کو یاد کر کے رو رہے ہیں
بچھڑتے وقت رونا چاہیے تھا
3500روپے فی چالیس کلو گرام میں خرید کردہ گندم کی قیمت مارکیٹ میں جب 5500روپے ہو گئی ہے تب سرکار کو عوام کی حالتِ زار کو دیکھتے ہوئے دس ارب روپے سبسڈی دینے کا خیال آیا ہے۔ یہ دس ارب روپے کس کس کی جیب میں جائیں گے‘ یہ سوال بڑا اہم ہے۔ ذخیرہ اندوز اپنی 3500روپے میں خرید کردہ گندم کو 5500روپے فی چالیس کلو گرام کے حساب سے بیچیں گے‘ ملیں پسائی کیلئے اپنی مہنگی خرید کردہ گندم کے عوض سستا آٹا فروخت کرنے کے نام پر حکومت سے سبسڈی وصول کریں گی۔
صورتحال یہ ہے کہ ذخیرہ کردہ گندم کی بہت بڑی مقدار خود فلور مل مالکان نے ذخیرہ کی ہوئی ہے‘ لہٰذا وہ 3500روپے فی چالیس کلوگرام میں خرید کردہ اپنی ہی گندم دوبارہ 5500روپے کے حساب سے خریدیں گے۔ یعنی اپنی ہی خرید کردہ گندم خود کو بیچ کر پہلے دو ہزار روپے فی چالیس کلوگرام کا منافع کمائیں گے‘ پھر اسی گندم پر حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی کے پیسے بھی اپنی جیب میں ڈال لیں گے۔ اس سارے نفع در نفع والے گھن چکر کے بعد کہیں جاکر عوام کو سستا آٹا میسر ہو گا۔ اس ملک میں ملوں کو براہِ راست سبسڈی دینے کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس قسم کی سبسڈی کا بیشتر حصہ مل مالکان خود ہی غتربود کر جاتے ہیں۔ فلور ملز میں سبسڈی والی سستی گندم کی مقدار ان کی کل پیداوار کا چھوٹا سا حصہ ہوتا ہے۔ اس طرح فلور مل کے پسائی کردہ آٹے کا بیشتر حصہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق بکتا ہے‘ جبکہ بہت تھوڑا حصہ سبسڈی والی گندم کے حوالے سے سستے آٹے پر مشتمل ہوتا ہے۔ یعنی ایک ہی مل دو مختلف قیمتوں پر مارکیٹ میں آٹا فروخت کر رہی ہوتی ہے۔ اگر ان کی کل پسائی کا 30فیصد سبسڈی والی گندم کے آٹے پر مشتمل ہوتا ہے تو یہ مقدار اس نظام کی مانیٹرنگ پر متعین محکمہ فوڈ کے افسران کے تعاون سے انجمن امدادِ باہمی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے پندرہ بیس فیصد رہ جاتی ہے۔ اس طرح فلور ملز مالکان حکومت کی طرف سے وصول کردہ سبسڈی والی گندم سے حاصل ہونے والے آٹے کا بیشتر حصہ بھی مارکیٹ کی قیمت کے مطابق فروخت کر کے مزید منافع کما لیتے ہیں۔
اب اگر اس ساری چکر بازی کو سامنے رکھا جائے تو پہلے تو فلور ملز مالکان نے اپنی 3500روپے فی چالیس کلوگرام میں خرید کردہ گندم خود اپنے آپ کو 5500روپے فی چالیس کلوگرام میں فروخت کر کے دو ہزار روپے کا خالص منافع اپنی جیب میں ڈال لیا‘ پھر اسی گندم پر حکومت کی طرف سے سبسڈی وصول کر کے اپنی جیب میں دوسری بار منافع ڈالا۔ تیسری بار یہ کیا کہ اس سبسڈی والی گندم سے پسائی ہونے والے آٹے کا بیشتر حصہ مہنگے آٹے کے ساتھ ملا کر فروخت کیا اور تیسری بار منافع کما لیا‘ اور عوام کو وہ سب فوائد حاصل نہ ہو سکے جن کو مدنظر رکھتے ہوئے سبسڈی دی جاتی ہے‘ اور اب اس دس ارب روپے والی سبسڈی کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوگا۔ یاد رہے کہ اس معاملے کی ابتدا اس بات سے ہوئی کہ گندم کی کٹائی کے بعد کاشتکار کو اس کی فصل کا ٹھیک ریٹ نہ مل سکا اور اب حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی میں سے بھی کاشتکار کو کچھ نہیں ملا۔ یعنی حالیہ اعلان کردہ سبسڈی کا فائدہ بھی انہی لوگوں کو ہو گا جو پہلے سے ہی فائدے میں ہیں۔ پہلے ان کی پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں اب سر بھی کڑاہی میں ہے۔
اگر یہ دس ارب روپے یا ممکن ہے اس سے تھوڑے بہت زیادہ پیسے گندم کی خریداری کے وقت حکومتِ پنجاب کاشتکاروں کو دے دیتی اور گندم کی خرید کی درست پالیسی بنا لیتی تو آج حکومت کو یہ سبسڈی نہ دینا پڑتی۔ درست وقت پر دیے جانے والے یہ دس ارب روپے اگر درست ہاتھوں میں پہنچ جاتے تو نہ صرف یہ کہ گندم کی قیمتیں مناسب حد تک کنٹرول میں رہتیں بلکہ اچھا ریٹ ملنے کی وجہ سے کاشتکار اگلے سیزن میں زیادہ محنت‘ خوشی اور دلجمعی کے ساتھ گندم کاشت کرتا۔ لیکن حکومت میں بیٹھے ہوئے منصوبہ سازوں کو سوائے ذاتی جیبوں کا وزن بڑھانے کے علاوہ اور کوئی کام درست طریقے سے کرنے کا نہ سلیقہ ہے اور نہ ان کی ترجیحات میں عوام کا فائدہ ہی کوئی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ کالم میں مَیں نے یہ لکھا تھا کہ یہ وقت حکومت کی جانب سے گندم کی پالیسی کو اناؤنس کرنے کا ہے۔ گندم کی آئندہ کاشت کا سارا دارومدار اس اعلان کردہ پالیسی پر ہوتا ہے۔ کسان گندم کی کاشت کا فیصلہ آئندہ سیزن کی سپورٹ پرائس اور حکومتی خرید کی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتا ہے۔ گندم کی کاشت شروع ہونے میں اب زیادہ دن نہیں رہ گئے۔ اگر یہ دن گزر گئے تو اس کے بعد حکومت خواہ کتنی ہی اچھی قیمت اور کتنی ہی اچھی خرید پالیسی کا اعلان کر دے‘ سب کچھ بے فائدہ ہوگا۔
پاکستان میں فصلوں کی کاشت کا پیٹرن مکمل طور پر نہ سہی مگر کسی حد تک ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ اگر کسی سال ایک فصل خراب ہو اور اسی سال کسی اور فصل میں دوسرے کاشتکار کو چار پیسے بچ جائیں تو آئندہ سیزن میں کاشتکار اپنی ترجیحات بدل لیتے ہیں۔ جس فصل میں اس کو نقصان ہوا ہو جبکہ دوسرے کاشتکار کو اپنی فصل میں فائدہ ہوا ہو تو نقصان اٹھانے والا کاشتکار اگلے سال مکمل طور پر نہ سہی مگر کسی حد تک نفع آور فصل کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ گزشتہ سال بھی یہی کچھ ہوا‘ گندم کے کاشتکار کو تو گزشتہ دو سال میں نقصان ہوا تاہم اسی دوران گنے کے کاشتکار کی نہ صرف فصل نسبتاً بہتر ہوئی بلکہ اس کو گنے کا ریٹ بھی اچھا ملا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے نفع کی شرح فیصد بہت بہتر ہو گئی۔ گزشتہ دو سال سے مسلسل بری صورتحال کے شکار گندم کے کاشتکار کے علاوہ بھی اگر کسی اور فصل میں کاشتکار کو نقصان ہوا تھا تو وہ بھی نفع آور فصل یعنی گنے کی طرف چلا گیا۔ اس سال گنے کی نہ صرف یہ کہ فصل بہتر ہے بلکہ ایک اندازے کے مطابق گنے کی کاشت کا رقبہ پندرہ فیصد تک بڑھ چکا ہے۔ مستقبل کا منظر نامہ کچھ یوں ہے کہ اس سال پاکستان میں چینی کی پیداوار 7.7ملین ٹن یعنی ستتر لاکھ ٹن ہوئی جبکہ ملک میں چینی کی کھپت 6.6ملین ٹن ہے یعنی فی الوقت ملک میں 1.1ملین ٹن یعنی گیارہ لاکھ ٹن چینی ضرورت سے زائد ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سے پیوستہ سال چینی کی پیداوار 5.8ملین ٹن تھی۔ یعنی ایک سال میں چینی کی پیداوار 32فیصد سے زیادہ بڑھی۔ آئندہ سال اگر ایک محتاط تخمینے کے مطابق گنے کی فصل میں بہتری کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف پندرہ فیصد اضافی رقبے سے پیدا ہونے والی چینی کو بنیاد بنائیں تو چینی کی پیداوار 8.85ملین ٹن ہو جائے گی۔ چینی کی کھپت کی 26کروڑ کی ملکی آبادی میں اضافے کی شرح 2.55فیصد کے ساتھ نسبت بنائیں تو اگلے سال ہمارے پاس 2.09ملین ٹن یعنی اس سال سے تقریباً دو گنا چینی سرپلس ہو گی۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ نہ صرف ملوں کے باہر کھڑی ٹرالیوں پر لدے ہوئے گنے کی قیمت گر جائے گی بلکہ گنے کے کاشتکار کو ملوں کی جانب سے ادائیگیوں میں بھی بہت بڑا مسئلہ درپیش ہو گا۔
جو منظر نامہ زراعت کے اس طالبعلم کو دکھائی دے رہا ہے وہ حکومت کو کیوں دکھائی نہیں دے رہا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکار زمینی کے بجائے اور بہت سی آئینی ذمہ داریاں بھگتانے میں مصروف ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...