سٹیٹ لائف کے کمیشن پر کام کرنیوالے باقاعدہ ملازم نہیں:آئینی عدالت
فیلڈ ورکر ایسوسی ایشن کی رجسٹریشن منسوخی کی درخواست مسترد کرنیکا فیصلہ کالعدم
اسلام آباد (حسیب ریاض ملک) سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے سروس قواعد 1973 کے تحت ایسے فیلڈ ورکرز کارپوریشن کے باقاعدہ ملازمین کی تعریف میں شامل نہیں جن کی آمدن حاصل کردہ کاروبار اور فروخت ہونے والی انشورنس پالیسیوں پر ملنے والے کمیشن سے منسلک ہو، وفاقی آئینی عدالت نے اس قانونی نکتے کی بنیاد پر فیلڈ ورکرز ایسوسی ایشن کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی اپیل منظور کرلی۔ جسٹس علی باقر نجفی کے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ ریکارڈ پر موجود سیلز منیجرز، سیلز افسران اور سیلز نمائندگان کے معاہدوں کے مطابق ان کی حیثیت کارپوریشن کے باقاعدہ ملازمین سے مختلف ہے ۔ علاوہ ازیں وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ مقررہ حد سے زائد قرار دے کر سرکاری تحویل میں لی گئی اراضی کا معاملہ حتمی ہونے کے بعد دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا تاہم اگر اضافی اراضی کا کچھ حصہ غلط طور پر سرکاری تحویل میں لیا گیا ہو تو اس کی واپسی کے دعوے کا الگ سے جائزہ لیا جا سکتا ہے ۔ عدالت نے مظہر ریاض کی درخواست مسترد کر کے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے دادا چودھری افضل نے اپنی زندگی میں مقررہ حد سے زائد 544 پی آئی یوز اراضی سرکاری تحویل میں دینے کا انتخاب کیا تھا، یہ کارروائی مکمل ہو چکی تھی۔ ڈپٹی لینڈ کمشنر شیخوپورہ تعین کریں کہ 213 پی آئی یوز زمین اضافی سرکاری تحویل میں لی گئی تھی، اگر یہ ثابت ہو جائے تو یہ اصل مالک کے قانونی ورثا کو حصوں کے مطابق واپس کی جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments