ملک محمد احمد خان صاحب نے مجھے تو حیران کر دیا۔
چند دن پہلے اسلام آباد میں تیسرے انٹرنیشنل سیرت فیسٹیول کا انعقاد ہوا۔ قومی رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی نے اس کا اہتمام کیا۔ تین برسوں میں یہ فیسٹیول‘ اللہ کے فضل وکرم سے سیرت کا سب سے بڑا تہوار بن چکا ہے۔ حسبِ روایت‘ اس سال دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اس کا سب سے اہم حصہ تھی۔ کانفرنس کے لیے جس موضوع کا انتخاب کیا گیا تھا وہ آج کی فکری ضرویات کو پورا کر رہا تھا۔ 'اقوامِ عالم کے مابین ہم سیرت النبیﷺ کی روشنی میں پُل کیسے تعمیر کر سکتے ہیں؟‘ اس پر تین زبانوں میں‘ ایک سو سے زیادہ مقالات پڑھے گئے۔ اقوامِ متحدہ کے ہوتے ہوئے‘ دنیا سے جنگیں ختم ہو سکیں نہ طاقتور کا ہاتھ روکا جا سکا۔ محققین نے بتایا کہ عالمگیر امن اسی وقت میسر آ سکتا ہے جب یہ تعلقات اس ہدایت کے تابع ہو جائیں جو اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ لے کر آئے۔ تحقیقی مقالات میں اس کے لیے اَن گنت نقلی اور عقلی دلائل فراہم کیے گئے ہیں۔ رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کا بنیادی فریضہ نبیﷺ کی سیرتِ پاک پر اطلاقی تحقیق ہے تاکہ ہم شخصی اور اجتماعی سطح پر وہ لائحہ عمل مرتب کر سکیں جس کی اساس وہ تعلیمات ہوں جو قرآن و سنت سے مستنبط ہوں۔ اتھار ٹی اس حوالے سے گراں قدر تحقیقی کتب شائع کر چکی ہے۔ گزشتہ برس اس کی تحقیق کو وزارتِ مذہبی امور کی طرف سے پہلے انعام کا مستحق قرار دیا گیا اور اس برس بھی یہ اعزاز اتھارٹی کو ملا۔ یہ دونوں کتابیں انگریزی زبان میں ہیں۔ اس سال جو تحقیق شائع ہوئی اس کا موضوع شہروں کی منصوبہ بندی و تعمیر ہے۔ آج ہمارے شہر یہ صورت اختیار کر چکے ہیں کہ ان کا انتظام وانصرام مشکل سے مشکل تر ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر محمد ریاض محمود صاحب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں استاد ہیں۔ انہوں نے اپنی تحقیق سے بتایا ہے کہ اگر اس باب میں نبیﷺ کی تعلیمات سامنے ہوں تو شہروں کی منصوبہ بندی کیسے ہونی چاہیے۔ یہ کانفرنس اسی تحقیقی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔
نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور کردار سازی بھی اس اتھارٹی کے بنیادی کاموں میں شامل ہے۔ اس حوالے سے ایک جامع حکمتِ عملی بنائی گئی ہے جسے وفاقی حکومت نے وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں میں نافذ کر دیا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے پس منظر میں یہ تصور کارفرما ہے کہ اسلامیات یا مذہب کی تعلیم کوئی 'مضمون‘ نہیں جسے فزکس اور کیمسٹری کی طرح پڑھایا جا ئے۔ یہ زندگی گزارنے کا ایک ڈھنگ ہے۔ یہ پڑھانے سے زیادہ سکھانے اور اپنانے کا کام ہے۔ یہ سیرت سازی ہے۔ اس کے لیے نبیﷺ کے اسوۂ حسنہ سے بہتر کوئی نمونہ نہیں ہو سکتا۔ رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی نے اس کی روشنی میں 36 ایسی اقدار کو جمع کیا ہے جو آپﷺ کی سیرت سے ماخوذ ہیں۔ یہ حکمتِ عملی اس مقصد کی عملی صورت ہے کہ یہ اقدار‘ ہم کیسے اپنے بچوں کے شخصیت کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ صوبوں نے بھی اسے قبول کر لیا ہے اور وہ اس کی علمی صورتوں پر اتھارٹی کی مشاورت سے کام کر رہے ہیں۔ اس سال بھی سیرت فیسٹیول میں ایسی سرگرمیاں رکھی گئی تھی جن کا مقصد نئی نسل کو سیرت کی طرف متوجہ کرنا تھا۔ سیرت کے مختلف ادوار پر تھری ڈی ماڈل بنائے گئے تھے جن میں نبیﷺ کے عہدِ مبارک کا مکہ اور مدینہ دکھائے گئے۔ اس کے ساتھ آپﷺ اور صحابہ کرام کے اسفارِ ہجرت کو نمایاں کیا گیا تھا۔ بچوں کے مابین خطاطی کا مقابلہ بھی کر ایا گیا اور ان کے بنائے ہوئے نمونوں کی نمائش بھی اس فیسٹیول کا حصہ تھی۔ تین دن میں ہزاروں کی تعداد میں بچوں کے ساتھ بڑوں نے ان کو دیکھا۔ ایک کتاب میلہ بھی ان سرگرمیوں میں شامل تھا جس میں سیرت پر سستی کتب میسر تھیں۔ سیرت پر اتھارٹی کی چار نئی کتب کی رونمائی ہوئی۔ نعتیہ مشاعرہ ہوا۔ جناب ریاض مجید اور جناب جلیل عالی سمیت بہت سے نامور شعرا نے نعتیہ کلام سنایا۔ محفل نعت کا انعقادبھی ہوا۔
تین دن نبیﷺ کے ذکرِ خیر سے اسلام آباد کی فضائیں مہکتی رہیں۔ اہلِ علم‘ شعرا‘ نعت خوان اور عامۃ الناس کی ایک بڑی تعداد نے اس سے استفادہ کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف صاحب نے اس فیسٹیول کے موقع پر اپنا خصوصی پیغام جاری کیا اور سیرت کی تعلیم کو عام کرنے اور اتھارٹی کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے دس کروڑ روپے کی ابتدائی رقم کے ساتھ 'سیرت انڈوومنٹ فنڈ‘ بھی قائم کیا۔ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے فیسٹیول کا افتتاح کیا اور وزیراعظم کی طرف سے اس فنڈ کا اعلان کیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان اس کی اختتامی نشست کے مہمانِ خصوصی تھے۔ ان کی اس شرکت نے مجھ پر حیرت کا دروازہ کھول دیا۔
ملک صاحب اختتامی تقریب میں شرکت کے لیے لاہور سے روانہ ہوئے۔ ابھی ایئرپورٹ کے راستے میں تھے کہ انہیں ایک عزیزہ کے انتقال کی خبر ملی۔ کارواں کا رخ بدل گیا۔ سٹاف کو ہدایت کی گئی کہ ان کی عدم شرکت کے بارے میں میزبان کو اطلاع کر دی جائے۔ خبر ملنے پر پریشانی تو ہوئی لیکن مشیتِ ایزدی کے سامنے کسے دم مارنے کی مجال ہے۔ پریشانی ملک صاحب کو بھی تھی۔ انہیں تسلی نہ ہوئی اور انہوں نے مجھے فون کر کے حادثے کی تفصیل بتائی۔ اس خواہش کا اظہار کیا کہ ممکن ہو تو اس تقریب کو اگلے دن تک ملتوی کر دیا جائے۔ میں نے معذرت پیش کی یہ ممکن نہیں ہو گا کیونکہ ملک بھر سے آئے شرکا رختِ سفر باندھ چکے۔ ملک صاحب نے اس پر کہا کہ وہ عدم شرکت کی تلافی کے لیے کل میرے دفتر آئیں گے۔ میں نے شکریے کے ساتھ منع کیا کہ محض اس مقصد کے لیے لاہور سے اسلام آباد کا سفر مناسب نہیں۔ ہم کچھ وقت بعد کسی تقریب میں ان کو مدعو کریں گے۔ ملک صاحب کا مگر اصرار رہا کہ وہ کل ضرور آئیں گے اور اس پر بات ختم ہو گئی۔
تھوڑی دیر بعد ان کے سٹاف کا ایک بار پھر فون آیا۔ اس نے بتایا کہ ملک صاحب متردد ہیں۔ اگر اس تقریب کو مؤخر کرنا ممکن ہو تو وہ جنازے میں شرکت کیے بغیر‘ مرحومہ کے لواحقین سے تعزیت کے بعد‘ سڑک کے ذریعے روانہ ہو جائیں اور راستے میں رکے بغیر تقریب میں شامل ہو جائیں۔ انہیں اس کا شدید احساس ہے کہ انہوں نے وعدہ کر رکھا ہے اور پھر یہ تقریب ہے بھی نبیﷺ کی سیرت پر۔ انہیں اس میں عدم شرکت پر شرمندگی کا احساس ہو رہا ہے۔ میرے پاس کوئی راستہ نہ تھا کہ میں اس تقریب کو مؤخر کر دیتا۔ ملک صاحب تشریف لائے اور اپنا عہد نبھایا۔ میرے لیے یہ ایک نیا اور خوشگوار تجربہ تھا۔ ہمارا جن اہلِ سیاست سے بالعموم پالا پڑتا ہے‘ ان کے ہاں وعدہ نبھانے کی کوئی روایت موجود نہیں‘ الّا ماشاء اللہ۔ اہلِ سیاست ہی پر کیا موقوف‘ ہم بطور قوم اس روایت سے واقف نہیں۔ اس ماحول میں اگر کوئی فرد ایسا مل جائے جو وعدے کو اتنی اہمیت دے تو اس پر حیرت ہوتی ہے۔ ملک صاحب سے تین ملاقاتیں ہوئیں۔ وہ اسمبلی کے ماحول کو اخلاقی قدروں کے تابع بنانے کے بارے میں بہت سنجیدہ ہیں۔ قومی رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی ان کی مشاورت سے ایک تفصیلی پروگرام ترتیب دے رہی ہے‘ جس کی تفصیلات پھر کبھی۔ مجھے ملک صاحب کے اس رویے سے خوشگوار حیرت ہوئی۔ اللہ کرے جلد وہ وقت آئے جب ایسے واقعات ہمارے لیے حیرت کا باعث نہ بنیں‘ معمول بن جائیں۔ ہمیں وعدہ وفا کرنے پر نہیں‘ وعدہ شکنی پر حیرت ہو۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments