علامہ اقبال نے فرمایاتھا:
جہانِ نو ہو رہا ہے پیدا‘ وہ عالم پیر مر رہا ہے
جسے فرنگی مقامروں نے بنا دیا ہے قمار خانہ
اقبال نے یہ پیش گوئی کم وبیش سو برس پہلے کی تھی۔ فرنگی جواریوں کا قائم کردہ یہ نظام کئی سو سال برقرار رہا۔ معلوم ہوتا ہے اب اس پر بڑھاپے کے آثار ہیں۔ دکھائی دے رہا ہے کہ عالمِ پیر مر رہا ہے۔ مگر کیا جہانِ نو بھی پیدا ہو رہا ہے؟
خلا تو نہیں رہے گا کہ یہ قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔ نیا جہاں پیدا ہونا ہے۔ یہ جہانِ نو مگر کیسا ہو گا؟ اس سوال کا جواب کم از کم ہمارے پاس نہیں۔ اگر اس پر کوئی بات ہو رہی ہے تو وہ مغربی 'جوا خانوں‘ ہی میں ہو رہی ہے۔ چین کے جوا خانے بھی آباد ہیں۔ اقبال کو جہاں سے امید تھی‘ وہاں کے مے خانے‘ ان کے اپنے خیال میں تین سو سال سے بند تھے۔ انہوں نے یہاں کے ساقی سے توقع باندھی تھی کہ اس کا فیض عام ہو۔ میرا خیال ہے یہ کام کسی حد تک ہوا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی‘ مونا وحید الدین خاں اور جاوید احمد صاحب غامدی نے ہند کے اس مے خانے کے بند کواڑوں کو کھولنے کی کوشش کی مگر فیض صرف مولانا مودودی کا عام ہوا۔ اس کے نتیجے میں جہانِ نو تو پیدا نہیں ہوا‘ جو کچھ پیدا ہوا‘ اس میں ہمارے درد کا درماں نہیں تھا۔ ان کے لیے اجر‘ ان کے رب کے پاس یقینا محفوظ ہو گا۔ ہم مگر ابھی تک جہانِ نو کے متلاشی ہیں۔
میں اپنی بات کو سماج کی سیاسی تشکیل تک محدود رکھتا ہوں۔ فرنگی مقامروں یا سرمایہ دارانہ نظام نے جو سیاسی بندوبست متعارف کرایا‘ گزشتہ صدی میں وہی مثالی قرار پایا۔ جمہوریت‘ سیکولرازم‘ قومی ریاست‘ کھلی منڈی کی معیشت‘ بنیادی انسانی حقوق کا احترام۔ یہی اس کے اجزائے ترکیبی تھے۔ یہ کامیابی سے چلتا رہا۔ مسلم معاشرے اس بارے میں تذبذب کا شکار رہے۔ کہیں بادشاہت پر اصرار ہوا‘ کہیں پاپائیت نے اپنے پنجے گاڑے رکھے۔ سب سے عجیب معاملہ پاکستان کا رہا۔ قومی ریاست اور اسلامی ریاست‘ جمہوریت اور نسلی و لسانی عصبیتیں‘ سرمایہ داری اور جاگیرداری‘ سول اقتدار اور عسکری بالا دستی... فکر و عمل کے ہرمیدان میں ایک کشمکش برپا رہی۔ ہماری نظری شناخت واضح ہو سکی اور نہ عملاً ہم کوئی سیاسی نظام بنا سکے۔ ہند کے اس میخانے میں اب صرف ٹوٹے ہوئے پیمانوں کا ڈھیر ہے۔
فرنگی قمار خانے کے بارے میں آج علامہ اقبال کی پیش گوئی پوری ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ جمہوریت کی کوکھ سے پاپولزم جنم لے چکا۔ جمہوریت کی نسل برباد ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ابراہم لنکن اور صدر جیفرسن کی جانشینی ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے۔ مذہب کے وجود کو بھی دیس نکالا نہیں دیا جا سکا۔ سیاسی جماعتیں اس طرح فعال نہیں رہیں جیسے پہلے تھیں۔ بائیں بازو کی باسی کڑی میں بھی کہیںکہیں ابال آ رہا ہے۔ ایک خلفشار ہے جو سماجی اضطراب کا باعث بن رہا ہے۔ اس کے اثرات ہم پر بھی پڑ رہے ہیں مگر باندازِ دیگر۔
ہم جمہوریت کی بات تو کرتے رہے مگر جمہوری کلچر کو اپنا نہیں سکے۔ صرف سیاست کی بات کریں تو سیاسی جماعتیں جمہوریت کو مستحکم کرتی ہیں۔ نظریاتی سیاست کے دور میں کسی حد تک سیاسی جماعتیں موجود رہیں۔ اس سے جمہوری عمل بھی کچھ آگے بڑھا۔ آج سیاسی جماعتوں کا وجود باقی نہیں ہے۔ سول سوسائٹی کے نام پر این جی اوز وجود میں آئیں‘ سماجی ادارے منظم نہیں ہو سکے۔ روایتی سماجی ادارے؛ جیسے مدرسہ اور خانقاہ‘ اپنے کردار سے منحرف ہو گئے۔ اسلامی ریاست اور قومی ریاست کی کشمکش بھی کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔ جب فرنگی قمار خانوں میں کاروبار اپنے عروج پر تھا‘ ہم اس مارکیٹ سے کچھ خرید سکے نہ بیچ سکے۔ کم لوگوں کو اس کا ادراک ہو سکا کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ اقبال کو اندازہ تھا کہ جلوۂ فرنگ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے۔ مولانا مودودی کو بھی اس کا احساس تھا۔ سیاسی راہنماؤں میں بھٹو صاحب بھی سمجھ رہے تھے کہ دنیا کی سیاست کس کشمکش کا شکار ہے۔ انہوں نے اس میں رہتے ہوئے‘ خود کو رفتارِ عالم سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش کی اور 'اسلامی سوشلزم‘ لے آئے۔ سماج کا ایک حصہ کسی حد تک یکسو ہوا مگر اس سوشلزم کو ان کی جاگیردارانہ سوچ اور فسطائی طرزِ سیاست لے ڈوبا۔ مولانا مودودی کے فکری 'شجرہ طیبہ‘ پر کچھ ایسے پیوند لگے کہ اس کے پھل کا ذائقہ ہی تبدیل ہو گیا۔ ہمارا انتشاراپنے عروج پر ہے۔ سیاست دم توڑ چکی کہ نہ کوئی نظریہ ہے نہ سیاسی جماعت۔
فرنگی تو ارتقا سے گزر رہا ہے۔ وہ ایک عہد سے دوسرے عہد میں داخل ہو رہا ہے۔ اس کا ارتقا فطری ہے۔ ہمارا معاملہ تو یہ ہے کہ ہم پٹرول کی قیمت کی طرح‘ ہر روز اپنی سمت تبدیل کرتے ہیں۔ جس نظام میں زندہ ہیں‘ اس کی عدم شناخت کو ہم نے ہائبرڈ نظام کا نام دے کر قابلِ قبول بنایا ہے۔ یہ نظام چل سکتا تھا اگر اس میں توازن قائم رکھا جاتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا جھکاؤ ایک خاص طرف ہے۔ سکیورٹی سٹیٹ ماڈل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ہائبرڈ ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں دونوں نظاموں کی برکات شامل ہو جائیں۔ موجودہ حالات میں یہی ایک قابلِ عمل ماڈل تھا مگر شاید یہ نظام کسی شعوری کوشش کے نتیجے میں نہیں اپنایا گیا۔ شاید یہ حالات کے جبر کا نتیجہ ہے۔
سماج کا معاملہ یہ ہے کہ وہ جامد نہیں ہو سکتا۔ وہ ریاست کا پابند نہیں۔ ریاست کا کردار یہ ہے کہ وہ سماج کی سیاست کو منظم کر دے اور فطری سیاسی وسماجی عمل میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہونے دے۔ اس کے لیے اربابِ اقتدار کی فکری یکسوئی لازم ہے۔ انہیں ایک طرف سماجی رجحانات کا علم ہو اور دوسری طرف انہیں یہ مہارت حاصل ہو کہ وہ ان رجحانات کو ایک سمت دے سکیں۔ اس سے عوام میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور سماج کسی اضطراب سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر یہ احساس غالب ہو کہ ریاست کی حکمتِ عملی عوامی پسند ناپسند سے بے نیاز ہے تو پھر ریاست اور عوام میں وہ تعلق قائم نہیں ہوتا جو استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
آج تمام سماجی ادارے موجود ہیں۔ مسجد بھی ہے اور مکتب بھی۔ خانقاہ بھی ہے اور مدرسہ بھی۔ خاندان موجود ہے اور محلہ داری بھی۔ میڈیا بھی ہے اور بیٹھک بھی۔ یہ سب کچھ مگر آپس میں ہم آہنگ ہے نہ ریاست کی پالیسی کے ساتھ۔ سب کچھ کے ہوتے ہوئے بھی ہم اس خوف میں ہیں کہ ہماری سیاسی ہیئت وہ نہیں ہے جو ہونی چاہیے۔ وہی منظر ہے جسے منیر نیازی نے شاعرانہ کمال کے ساتھ بیان کیا ہے:
وہم یہ تجھ کو عجب ہے اے جمالِ کم نما
جیسے سب کچھ ہو مگر تُو دید کے قابل نہ ہو
ریاست کا کام سماج کو اس وہم سے نکالنا ہے۔ اسے یہ احساس دلانا ہے کہ وہ قابلِ دید ہے۔ اس کیلئے اس ہائبرڈ نظام میں عوامی شرکت کو یقینی بنانا ہے۔ یہ معیشت کا معاملہ ہو یا سالمیت کا‘ اسے پارلیمان میں زیرِ بحث آنا چاہیے۔ مکہ معاہدہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔ بدر معاہدہ بھی بہت اہم ہے۔ سماج مگر ان کی برکات سے بے خبر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کوئی سیاسی جماعت ایسی موجود نہیں جو اسے عوام تک لے جائے۔ قابلِ تشویش بات یہ ہے کہ وہ قومیں سماجی سطح پر متحرک ہیں جو ان معاہدوں کے بارے شکوک وشبہات پیدا کر رہی ہیں۔ ہائبرڈ سسٹم کا فریقِ ثانی‘ جو عوام کی نمائندگی کرتا ہے‘ اس کا فعال ہونا ضروری ہے۔ یہ اسی وقت ہو پائے گا جب معاملات کو کسی ایک فکری وعملی ضابطے میں ڈھالا جائے گا۔ اس فریق کے پاس مگر عوام کے ساتھ رابطے کا کوئی فورم موجود نہیں۔ فرنگی تو اپنے حالات سنوار لے گا۔ وہ عالمِ پیر سے جہانِ نو پیدا کر سکتا ہے۔ اصل مسئلہ ہمارا ہے۔ ہمارا کیا بنے گا؟
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments