کراچی میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کیلئے 13ارب روپے کے منصوبے کا اعلان
نومبر کے پہلے ہفتے آغاز،تین ماہ میں تکمیل کی امیدہے ،وزیراعلیٰ،کچرے کو سائنسی طورپر ٹھکانے لگانے کیلئے سائٹ کاافتتاح گورنر راج آئینی مگر جمہوری نہیں،صوبے بنانے کیلئے کوئی اکثریت نہیں ہے ،سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی،مرادعلی شاہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جام چاکرو میں سندھ کے پہلے سائنسی بنیاد پر تیار کردہ لینڈ فل منصوبے کے پہلے مرحلے کا افتتاح کردیا۔ منصوبے کا مقصد کراچی میں کچرے کو محفوظ اور جدید طریقے سے ٹھکانے لگانا، ماحولیاتی آلودگی کم کرنا اور کچرے کی نقل و حمل کے نظام کو بہتر بنانا ہے ۔افتتاحی تقریب میں وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، وزیر محنت سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور دیگر حکام بھی موجود تھے ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ جام چاکرو لینڈ فل منصوبہ کراچی میں کچرے کے انتظام کو جدید بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے ۔ روایتی طریقوں سے کچرا پھینکنے کے باعث ماحولیاتی آلودگی اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات بڑھتے ہیں جبکہ جدید نظام کے ذریعے ان نقصانات کو کم کیا جاسکتا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کچرے سے پیدا ہونے والی میتھین گیس جمع کرکے توانائی پیدا کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لے سکتے ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ عالمی بینک کی تکنیکی ٹیم کے تخمینے کے مطابق منصوبے سے تقریباً 20 ملین ڈالر مالیت کے کاربن کریڈٹس حاصل ہوسکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ کراچی میں سڑکوں کی تعمیر، مرمت اور بحالی کے لیے 13 ارب روپے کا پروگرام تیار کیا گیا ہے ۔ اس میں بڑی شاہراہوں کے علاوہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ٹاؤن انتظامیہ کے زیرانتظام اندرونی سڑکیں اور گلیاں بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ کام نومبر کے پہلے ہفتے میں شروع کرکے تین ماہ میں مکمل کرنے کی توقع ہے ۔
وزیراعلیٰ نے یوٹیلٹی خدمات کے لیے کھودی جانے والی سڑکوں کی مناسب بحالی نہ ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے محکمہ بلدیات کے کمیشن کو ہدایت کی کہ سڑکیں کھودنے کی مد میں جمع ہونے والی رقم کے استعمال کا جائزہ لیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم متاثرہ سڑکوں کی بحالی پر ہی خرچ ہونی چاہیے اور اس کے استعمال میں شفافیت یقینی بنائی جائے ۔کراچی میں پانی کی فراہمی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی کو روزانہ 100 ملین گیلن کے بجائے 200 ملین گیلن پانی فراہم کرنا چاہتے ہیں ،معاملہ وفاقی حکومت کے پاس ہے ۔نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ اسمبلی اس نوعیت کی تجاویز کو متعدد بار مسترد کرتے ہوئے قراردادیں منظور کرچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق ہے ، وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے بنانے کے لیے کوئی اکثریت نہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ گورنر راج آئینی ہے مگر جمہوری نہیں ہے ، کوئی نہیں چاہتا کہ صوبے کی منتخب حکومت کو ہٹایا جائے ، اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشتگردی ہے ، جب ملک میں دہشتگردی ہو اور صوبے کارروائی سے منع کریں تو کیا کہہ سکتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ جوڈیشل کمیشن کی سربمہر رپورٹ آئندہ روز سندھ کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔
رپورٹ کھولنے کے بعد کابینہ کے فیصلے کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ کو منصوبے پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ ورلڈ بینک کی مالی اور تکنیکی معاونت سے مکمل ہونے والے اس منصوبے پر مجموعی طور پر 105 ملین ڈالر لاگت آئے گی، جس میں عالمی بینک کے 100 ملین ڈالر اور سندھ حکومت کے 5 ملین ڈالر شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق منصوبے کی لاگت تقریباً 14 ارب روپے ہے ۔ لینڈ فل سائٹ کے تین انجینئرڈ سیلز مکمل ہوچکے ہیں،باقی کام 30 نومبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔مراد علی شاہ نے کہا کہ لینڈ فل منصوبے کے ساتھ شرافی گوٹھ، ڈنگا موڑ، امتیاز اور گٹر باغیچہ میں چار کچرا منتقلی مراکز بھی قائم کیے جارہے ہیں، جن کی مجموعی گنجائش روزانہ 6 ہزار 500 ٹن ہوگی۔ چین کے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ شنگھائی میں سندھ سرمایہ کاری و تجارت کانفرنس کامیاب رہی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments