سعودی عرب کا دفاع : برطانیہ نے لڑاکا طیارے بھیجنے کی منظوری دیدی
طیاروں کا دفاعی کردار ہو گا، حوثیوں پر حملے نہیں کرینگے ،برطانیہ،سعودی عرب نے ریاض پر داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا، مکہ دفاعی معاہدہ توثیق کیلئے ترک پارلیمنٹ میں پیش آبنائے ہرمز میں 3 ٹینکربارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ،آتشزدگی، پاسداران انقلاب کا امریکی ایم کیو9 ڈرون مار گرانے کادعویٰ،افزودہ جوہری مواد بیرون ملک منتقل نہیں کرینگے :ایران
لندن،ریاض،انقرہ(نیوز ایجنسیاں)برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کے بڑھتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کے پیش نظر سعودی عرب کے دفاع کے لیے رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرے گی۔اس دفاعی مشن کا مقصد سعودی شہروں اور بنیادی ڈھانچے کو ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دینا ہے ۔ اس اقدام کی منظوری برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے دی ہے ۔یہ فیصلہ سعودی دارالحکومت ریاض اور ملک کے ساحلی علاقوں میں توانائی کی تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں کے بعد کیا گیا ہے ۔برطانوی وزیر دفاع ویس سٹریٹنگ نے منگل کو ایک تحریری بیان میں کہا کہ یہ طیارے دفاعی کردار ادا کریں گے اور حوثیوں پر حملے نہیں کریں گے ۔ برطانوی حکومت نے طیاروں کی تعداد اور مشن کے دورانیے سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کیں۔سعودی عرب نے گزشتہ روز دارالحکومت ریاض کی جانب داغا گیا حوثی باغیوں کا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا، جبکہ شہر میں دو دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق میزائل کو کامیابی سے روک لیا گیا،سعودی سول ڈیفنس کے مطابق ممکنہ خطرے کے پیش نظر انتباہ جاری کیا گیا، تاہم چند منٹ بعد خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا گیا۔ ترکیہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ توثیق کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کردیا ہے۔
منگل کو پارلیمانی ذرائع نے بتایا کہ اس پیش رفت سے نیٹو کی دوسری بڑی فوج رکھنے والا ملک سعودی عرب کے ساتھ باقاعدہ دفاعی تعاون کے عہد کے مزید قریب آگیا ہے ، تینوں ممالک نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے ، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔برطانوی میڈیا کے مطابق معاہدے کی پہلی شق میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کو لاحق خطرات ختم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے ۔معاہدے کی دوسری شق کے مطابق، اگر کسی رکن ملک پر کسی دوسرے ملک یا ممالک کے گروہ کی جانب سے مسلح حملہ یا فوجی جارحیت کی جاتی ہے تو باقی فریق دستیاب باہمی امداد کے تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے فوری مدد فراہم کریں گے ۔ یہ شق اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتی ہے ، جو مسلح حملے کی صورت میں انفرادی یا اجتماعی دفاع کے حق کو تسلیم کرتی ہے ۔رواں ماہ ریاض میں تینوں ممالک کے اتحاد کے ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فوری تعیناتی یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔معاہدے کی باضابطہ منظوری کے لیے ترک پارلیمنٹ کی توثیق ضروری ہے۔
پارلیمنٹ کے سپیکر نعمان قرتلموش، جو اس وقت کرغزستان کے دورے پر ہیں، وطن واپسی پر معاہدہ خارجہ امور کی پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائیں گے ۔ ایک ذریعے کے مطابق، کمیٹی جمعہ کو ہی اس پر بحث کرسکتی ہے ۔ترک حکام کے مطابق، ابتدائی طور پر ترکیہ کا تعاون فوجی سازوسامان، ہتھیاروں کے نظام اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے تک محدود رہنے کا امکان ہے ۔ اب تک اس اتحاد کے تحت ترکیہ نے کسی اور نوعیت کی فوجی تعیناتی نہیں کی۔ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ جارحانہ نوعیت کا نہیں اور ترکیہ اپنی سرزمین سے حملے کرنے کے لیے کسی دوسرے ملک میں فوج نہیں بھیجے گا۔ ترکیہ کے آئین کے تحت بیرون ملک فوج بھیجنے کے لیے الگ سے پارلیمانی اجازت درکار ہے ۔ماہرین کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں نے سعودی عرب کے اقتصادی منصوبے وژن 2030 اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے اہداف کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے ۔ حملوں کے باعث ہوائی اڈے بند ہیں جبکہ دارالحکومت ریاض میں معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں۔ماہرین کے مطابق سعودی قیادت کو ایک جانب ایران اور دوسری جانب اس کے اتحادی حوثیوں سے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے ۔ایرانی پاسداران انقلاب فورس کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں 3 ٹینکر بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے۔ تینوں ٹینکروں میں آگ لگ گئی۔ ٹینکر آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ایسے راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے جسے تہران غیر قانونی قرار دیتا ہے۔
دھماکوں کے باعث ٹینکروں کو روک دیا گیا۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق تیسرے جہاز پر 20 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل لدا تھا اور اس کے ریڈار اور نیویگیشن سسٹم بند تھے ، ایرانی حکام نے ٹینکروں کی شناخت، ان پر سوار عملے کی صورتحال اور ممکنہ جانی نقصان سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی فوج کا ایم کیو9 ڈرون مار گرانے کادعویٰ کیا ہے ۔بیان میں کہا کہ ڈرون آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا۔ جدید ایرو سپیس دفاعی نظام نے ڈرون کو تباہ کر دیا ۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور روس کے تعلقات اپنی تاریخ کی مضبوط ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ایکس پر اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ دونوں ممالک نے تاریخ میں کبھی اتنے قریبی تعلقات کا تجربہ نہیں کیا جتنے آج ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنا افزودہ جوہری مواد کسی صورت بیرون ملک منتقل نہیں کرے گا ۔ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے منگل کو پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افزودہ جوہری مواد ایرانی عوام کا قومی اثاثہ ہے اور اسے ملک کے اندر ہی استعمال کیا جائے گا۔ محسن رضائی نے کہا کہ امریکا کو پہلے ایران کی شرائط پوری کرکے اعتماد بحال کرنا ہوگا، اس کے بعد ہی مذاکرات کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments